⚖️سوال وجواب⚖️
🖋️مسئلہ نمبر 1552🖋️
(کتاب الاضحیہ باب عیوب الحیوان)
کوڑھ زدہ جانور کی قربانی کا حکم
سوال: کوڑھ زدہ جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟ شرعی نقطۂ نظر سے وضاحت فرمائیں۔ (انیس الرحمن، بستی یوپی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و باللہ التوفیق
جذام یا کوڑھ ایسی بیماری ہے جس سے انسان کو سخت نفرت اور کراہت محسوس ہوتی ہے، اگر کسی جانور کو یہ بیماری لگ جائے تو اس کو کوئی گوشت کھانا کجا کوئی اس کو خریدنا گوارا نہیں کرے گا، اس لیے یہ شدید قسم کا عیب ہے، ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ہے، احادیث مبارکہ اور فقہاء کرام کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور میں گوشت بھی بہت حد تک مطلوب ھوتا ھے اسی لیے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ مخنث جانور کی قربانی درست نہیں ہے کیوں کہ اس کا گوشت گلتا نہیں ہے، اور ظاہر ہے جب مجذوم جانور کا گوشت ناقابلِ انتفاع ہے تو اس کی قربانی کیوں کر درست ہوسکتی ہے،اسی طرح سنن نسائی وغیرہ کی روایت میں آیا ہے کہ جس جانور کا مرض ظاہر ہو اس کی قربانی درست نہیں ہے اور کوڑھ پن ظاہری بیماری ہے اس لیے اس کی قربانی کی ممانعت ہوگی(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
📚والدليل على ما قلنا📚
(١) قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ : " أَرْبَعٌ لَا يَجُزْنَ : الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا. (سنن النسائي رقم الحديث 4369 كِتَابُ الضَّحَايَا | مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءِ)
والمريضة البين مرضها. (بدائع الصنائع 75/5 كتاب الاضحيه دار الكتب العلميه)
ولا بالخنثى لأن لحمها لا ينضج شرح وهبانية. (الدر المختار مع رد المحتار 325/6 كتاب الأضحية دار الكتب العلميه)
كتبه العبد محمد زبير الندوي
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مؤرخہ 16/11/1442
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
Thank You So Much