ہفتہ، 20 اگست، 2022

قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنے کا حکم

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1768🖋️

(کتاب الصلاۃ باب الجنائز)

قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنے کا حکم

سوال: قبرپر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا کیسا ہے؟

جواب مع الدلیل ارسال کریں، برائے مہربانی، (محمدامداداللہ.نورچک.مدھوبنی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنے میں مردہ سے یا صاحب قبر سے استعانت کا شبہ پایا جاتا ہے اس لیے اس طرح دعا کرنا بہتر نہیں ہے، اس سے پرہیز ضروری ہے، البتہ اگر کوئی ہاتھ اُٹھانا ہی چاھتا ھے تو اسے چاہیے کہ قبلہ رخ ہوکر دعاء کرے تاکہ وہ شبہ ختم ہوجائے، قبلہ رُخ ہوکر قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعاء کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے، علامہ ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے صحیح ابو عوانہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ذی النجادین کی قبر پر قبلہ رخ ہوکر اور ہاتھ اٹھا کر دعاء فرمائی تھی (١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

وفي حديث ابن مسعود " رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبر عبد الله ذي النجادين " الحديث وفيه " " فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه " أخرجه أبو عوانة في صحيحه. (فتح الباري بشرح صحيح البخاري رقم الحديث ٦٣٤٣)

"وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة، كذا في خزانة الفتاوى" (الفتاوى الهندية 5 / 350)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 26/6/1443

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share
نام۔ محمد قاسم خان دینی تعلیم: حفظ قرآن ۔ دارالعلوم سلیمانیہ میراروڈ ممبئی۔ عالمیت ابتدائی تعلیم: مدرسہ فلاح المسلمین امین نگر تیندوا راۓ بریلی۔ عالمیت فراغت: دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ۔ افتاء: المعھد العلمی النعمانی بہرائچ اترپردیش۔ ویب سائٹ کا مقصد دینی اور دنیاوی تعلیم سے لوگوں کو باخبر کرنا۔ اس کار خیر میں آپ ہمارا ساتھ دیں۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا فی الدنیا والآخرۃ

0 Comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thank You So Much

Translate

بلاگ آرکائیو