⚖️سوال وجواب⚖️
🖋️مسئلہ نمبر 1768🖋️
(کتاب الصلاۃ باب الجنائز)
قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنے کا حکم
سوال: قبرپر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا کیسا ہے؟
جواب مع الدلیل ارسال کریں، برائے مہربانی، (محمدامداداللہ.نورچک.مدھوبنی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و باللہ التوفیق
قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنے میں مردہ سے یا صاحب قبر سے استعانت کا شبہ پایا جاتا ہے اس لیے اس طرح دعا کرنا بہتر نہیں ہے، اس سے پرہیز ضروری ہے، البتہ اگر کوئی ہاتھ اُٹھانا ہی چاھتا ھے تو اسے چاہیے کہ قبلہ رخ ہوکر دعاء کرے تاکہ وہ شبہ ختم ہوجائے، قبلہ رُخ ہوکر قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعاء کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے، علامہ ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے صحیح ابو عوانہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ذی النجادین کی قبر پر قبلہ رخ ہوکر اور ہاتھ اٹھا کر دعاء فرمائی تھی (١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
📚والدليل على ما قلنا📚
وفي حديث ابن مسعود " رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبر عبد الله ذي النجادين " الحديث وفيه " " فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه " أخرجه أبو عوانة في صحيحه. (فتح الباري بشرح صحيح البخاري رقم الحديث ٦٣٤٣)
"وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة، كذا في خزانة الفتاوى" (الفتاوى الهندية 5 / 350)
كتبه العبد محمد زبير الندوي
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مؤرخہ 26/6/1443
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے
.png)

0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
Thank You So Much