کتاب البیوع جدید مسائل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کتاب البیوع جدید مسائل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 8 ستمبر، 2022

مشترکہ زمینی کاروبار میں اختلاف اور اس کا حل

⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1764🖋️

(کتاب البیوع جدید مسائل)

مشترکہ زمینی کاروبار میں اختلاف اور اس کا حل

سوال: تقریبا سو (100) لوگوں نے مل کر زمین کی پلاٹنگ کا کاروبارشروع کیا۔ اوربلا کسی معاوضہ کے رضاکارانہ  خدمات کے لیےشر کاء ہی میں سے پانچ(5) افرادکی ایک کمیٹی بنادی گئی۔ کمیٹی کی ذمہ داری میں یہ باتیں تھیں کہ:

1.وہ گراہکوں سے پلاٹوں وشیئرس کاسودا کریں گے۔

 2.اور پلاٹوں کی بڑھتی گھٹی قیمتوں کے بارے میں ماہ بہ ماہ  شرکاء(شیئرہولڈرس ) کومطلع کرتے رہیں گے. قیمتوں کی بنیاد پر شیئرس کی خرید وفروخت کے لیے شرکاء سے اجازت حاصل کی جائے گی۔ 

3.وہ ارکان کمیٹی اپنے شیئرس کے نفع ونقصان کے مالک ہوں گے، لیکن دوسرے شیئرس کے نفع ونقصان سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ 

4.جملہ زمین کے سلسلہ میں جوسرکاری یا میزبانی کے اخراجات ہوں گے وہ تمام شرکاء کے درمیان مشترک ہوں گے۔ کمیٹی والوں کو مستقل الگ سے کوئی جارج نہیں دیاجائے گا۔ ان کی خدمات رضاکارانہ ہوں گی۔ 

اس طرح شروع میں کئی زمینوں کی خرید وفروخت کر کے منافع کمایا گیا ۔ اورآخر میں ایک زمین خریدی گئی، لیکن:

1.اس زمین کے سلسلے میں اس کمیٹی نے شرکاء (شیئر ہولڈرس) کے سامنے زمینوں کی قیمت اوپن( واضح) نہیں کی۔

 2.نیز بغیرشیئرہولڈرس کی رائے لیے اپنی مرضی سے کمیٹی میں بعض دوسرے افراد کو شریک کرلیا۔

3.پھر بہت کم قیمت میں ارکان کمیٹی، یاان کی اولادوں ورشتہ داروں نے خود ہی لوگوں کے شیئرس خرید لیے۔ سوال یہ ہے کہ :

1.شیئرس کی قیمتوں ماہ بماہ اوپن کرنے کے بجائے  شیئرس ہولڈرس کی مرضی خلاف کم دام میں سودا کرنا کمیٹی کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ 

2۔ارکان کمیٹی جو کہ شرکا ء کے وکیل ہیں ، کیا وہ شیئرس ہولڈرس کی اجازت کے بغیرخود اپنے یا اپنی اولادوں کے لیے منتذ کرہ شیئرزخرید سکتے ہیں ۔ اگرارکان کمیٹی اور ان کی اولادیں شیئرز خریدتی ہیں،تو کیا یہ خریداری درست و نافذ ہے؟ 

3 - ارکان کمیٹی کی طرف سے کئے گئے بیع وشراء کایہ  معاملہ درست نہ ہونے کی صورت میں ارکان کمیٹی کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ کیا سودے کو لوٹانا ضروری ہے؟ 

4۔ اگر یہ لوگ سودانہیں لوٹاتے ہیں تو قومی وملی اداروں میں کسی منصب اور عہدے کے قابل ہیں یا خائن قرار پاکر ملی وتنظیمی ذمہ داریوں  کے اہل نہیں رہیں گے ۔

 بینوا وتوجروا فقط والسلام 

المستفتی: ابومصعب ناگوری۔ 

مہدپور،اُجین، (ایم پی) 


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

بنیادی طور پر تمام شرکاء پر لازم تھا کہ جو وعدہ اور اصول شروع میں بنا دیا گیا تھا اس کی پاسداری کرتے، قرآن مجید میں بھی اس کی تاکید موجود ہے اور احادیث مبارکہ میں بھی یہ بات آئی ہے کہ مسلمان اپنے وعدوں اور شرطوں پر پورا اتریں، اس لیے کمیٹی کے ارکان کے لئے شرطوں کی خلاف ورزی کرنا درست نہیں ہے۔

ارکان کمیٹی نے جو زمین بھی شرکاء کے پیسے سے خریدی ہے اس میں تمام شرکاء کا حصّہ حسب شرط ہے، اور اگر اراکین اس زمین کو خود خریدتے ہیں تو ان کے لیے خریدنا درست نہیں ہے؛ کیونکہ اس صورت میں وہ خود بائع اور مشتری ہونگے اور ایک ہی شخص دونوں نہیں ہوسکتا ہے، نیز اگر وہ اپنے بچوں یا رشتہ داروں کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں تو یہ بیع درست تو ہوگی مگر شرکاء کی اجازت پر موقوف رہے گی، اگر شرکاء اجازت دیتے ہیں تو درست ہوجائے گی ورنہ درست نہیں گی اور معاملہ ختم ہوجائے گا۔

نیز ارکان کمیٹی نے جو زمین خریدی ہے اگر وہ شرکاء کو سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو معاملہ فسخ کرسکتے ہیں بشرطیکہ بیچنے والا معاملہ ختم کرنے پر راضی ہو۔ واضح رہے کہ اگر ارکان کمیٹی نے مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ایسا کیا ہے تو وہ کسی حد تک معذور ہونگے اور اگر جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو دل میں چور ہونے میں کیا شک ہے؟ ایسے حضرات کو اعلیٰ ذمہ داریاں دینا یا دینی امور تفویض کرنا مناسب نہیں ہے۔ البتہ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مذکورہ حکم سوالنامہ کی روشنی میں لکھا گیا ہے، اگر معاملہ میں کچھ اور پیچیدگی ہے اور دیگر وجوہات ہیں جنہیں اس سوالنامہ میں ظاہر نہیں کیا گیا ہے تو اس کے ذمہ دار سائل حضرات ہیں۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

(١)  یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَوۡفُوا۟ بِٱلۡعُقُودِۚ (المائدة ١)

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ ". (صحيح البخاري  كِتَابٌ : الْإِجَارَةُ.  | بَابُ أَجْرِ السَّمْسَرَةِ)

لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. (مجلة الأحكام العدلية مادة 96)

يلزم مراعاة الشرط بقدر الإمكان. (مجلة الأحكام العدلية مادة 83)

للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء. (الفقه الإسلامي و أدلته ٥٥٢/٦)

”و لو اشتری من جنس تجارتھما و اشھد عند الشراء انہ یشتریہ لنفسہ فھو مشترک بینھما لانہ فی النصف بمنزلۃ الوکیل بشراء شیء معین و لو اشتری مالیس من تجارتھما فھو لہ خاصۃ لان ھذا النوع من التجارۃ لم ینطو علیہ عقد الشرکۃ. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق کتاب الشرکۃ ، جلد 5 ، صفحہ 294 ، مطبوعہ کوئٹہ )

إن الموكل مخير و البيع موقوف على إجازته إن اجازه نفذ وإلا فلا. (النتف في الفتاوى 597/2)

كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 22/6/1443

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

جمعہ، 2 ستمبر، 2022

کرپٹو کرنسی (crypto currency)، تعارف اور حقیقت قسط سوم

 از قلم: محمد زبیر الندوی 

مركز البحث والإفتاء ممبئی انڈیا

رابطہ 9029189288


تیسرا نقصان یہ ہے کہ وہ ممالک جنہوں نے اسے لیگل نہیں کیا ہے وہاں کا باشندہ اگر اسے لیتا ہے اور کوئی بات پیش آجاتی ہے تو وہ اپنے ملک میں استغاثہ نہیں کر سکتا ہے ہاں دوسرے ملک سے چانس پھر بھی رہتا ہے۔ 
چوتھا یہ کہ جس طرح اس کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے اندیشہ ہے کہ کبھی بہت کم یا بالکل کم ہوجائے اور آپ کو نقصان ہوجائے۔
کرپٹو کرنسی کے بارے میں مذکورہ بالا چار نقصانات متوقع اور ممکن ہیں؛ گرچہ ابھی تک ایسا کچھ ہوا نہیں ہے اور قرائن و آثار سے بھی اس کی مضبوطی اور استحکام ہی معلوم ہوتی ہے؛ مگر اندیشوں سے باخبر کرنا اور باخبر رہنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ دانشمندی کی علامت ہے بقول شاعر مشرق: 
امروز کی شورش میں اندیشہ فردا دے
اس کرنسی کی خریداری یا شراکت کے بارے میں قارئین کو  یہ بتا دینا ضروری ہے کہ چونکہ یہ ایک نہایت مہنگی کرنسی  ہے؛  اس لئے اگر کوئی شخص مکمل ایک بٹ نہ خرید سکے تو اس کا کچھ حصہ بھی خرید سکتا ہے، اس میں شرکت کے لئے لوگوں کی آسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف پیکیج بنائے گئے ہیں اور ہر پیکیج پر ملنے والا نفع بھی الگ الگ ہے، مثلا بٹ کوائن کا سب سے چھوٹا پیکیج گیارہ ہزار کا ہے، اس پر ملنے والی رقم ہر ماہ 500 سے 1000 تک متوقع ہے، دوسرا پیکیج 41000 روپئے کا ہے اس پر ملنے والا نفع ہر 21 دن میں 3000 سے 4000 تک ہے، تیسرا پیکیج 78000 روپئے کا ہے اس پر ملنے والا نفع ہر 19 دن میں 6000 سے 8000 تک ہے۔ لیکن واضح رہے کہ اگر کوائن کی قیمت کم ہوگئی تو آپ کو اس سے بھی کم نفع مل سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ بھی نہ ملے، اس لئے نفع و نقصان دونوں پہلو اس میں موجود ہیں۔ اس وقت کرپٹو کرنسی کی جو عام نوعیت ہے وہ یہی ہے جو اس پوری تحریر میں بیان ہوئی، ابھی اس سلسلے میں کوئی متعین شرعی نقطہ نظر قائم نہیں کیا گیا ہے، لیکن جلد ہی قارئین کو حکم شرعی سے مطلع کیا جائے گا ۔
نوٹ: اہل علم حضرات سے گزارش ہے کہ اس تحریر کی روشنی میں شرعی نقطہ نظر تک پہونچنے کی کوشش کریں اور ممکن ہو تو مزید اس موضوع پر تحقیق کریں اور مسلمانوں کو صحیح شرعی نقطہ نظر سے آگاہ کریں کیونکہ یہ وقت کی بہت اہم ضرورت ہے۔ فجزاکم اللہ خیر الجزاء۔
Share

کرپٹو کرنسی (crypto currency)، تعارف اور حقیقت قسط دوم

از قلم: محمد زبیر الندوی 

مركز البحث والإفتاء ممبئی انڈیا

رابطہ 9029189288

 اس کرنسی کی متعدد قسمیں اور اکائیاں آن لائن مارکیٹ میں آچکی ہیں، مگر اس کی سب سے قیمتی اور مشہور ترین کرنسی بٹ کوائن (Bit Coin) اور ون کوائن (Onecoin)  ہیں، ان کی قیمت اس قدر زیادہ ہے کہ دنیا کی موجودہ کوئی کرنسی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی، آپ کو شاید حیرت ہو کہ ایک بٹ کوائن کی قیمت آٹھ لاکھ روپئے سے متجاوز جبکہ ایک ون کوائن کی قیمت تیرہ سو روپے زائد ہے۔

مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کرنسی پر کسی ایک شخص یا ملک یا بینک کا قبضہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایک شخص یا بینک یا کمپنی اس کو کنٹرول کرتی ہے، بلکہ یہ لوگوں کے تعامل سے جاری اور قائم ہے، اسے کوئی بھی شخص یا ادارہ بنا سکتا ہے، کرپٹو کرنسی کی اصطلاح میں اس کے بنانے کو مائننگ (Mining) کہا جاتا ہے، جس کا لفظی ترجمہ ہے "کان کھودنا" یعنی جس طرح زمین سے کانیں کھود کر اس کی تہ سے بیش قیمت چیزیں نکالی جاتی ہیں اسی طرح نہایت طاقتور اور خاص قسم کے پروگرامنگ والے کمپیوٹر اور مسلسل بجلی کے ذریعے مخصوص الفاظ اور نمبرات سے اس کی بناوٹ عمل میں آتی ہے، شروع شروع میں اس کی مائننگ بہت آسان تھی، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا اور قیمت بڑھتی جاتی ہے اس کی مائننگ مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے، اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسی ایک محدود تعداد  (دو کروڑ دس لاکھ) ہی بنائے جا سکتے ہیں اور اتنے کوائن بنانے کے لئے 2150 ء تک کا وقت لگے گا، اس سے پہلے یہ سکے مکمل نہیں کئے جاسکتے، اس کی مائننگ کرنے والوں کو بطور انعام بٹس ہی دیئے جاتے ہیں جسے وہ گاہکوں سے بیچ کر نفع کماتے اور سسٹم کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ 

اس سلسلے میں ایک نہایت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کرنسی کی جتنی خرید و فروخت ہوتی ہے یا جو بھی معاملات اور ٹرانزکشن ہوتے ہیں وہ ہر دس منٹ میں ایک مخصوص جگہ محفوظ ہوجاتے ہیں اس پورے ٹرانزکشن کے مجموعے کو بلاکس  (Blocks) کہا جاتا ہے، اس کرنسی کو گرچہ ابھی عام قبولیت حاصل نہیں ہوئی ہے تاہم متعدد ملکوں نے اپنے باشندوں کے لئے اسے لیگل قرار دے دیا ہے اور وہاں کے لوگ اس سے اپنے کام انجام دے رہے ہیں جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں اس کے اے ٹی ایم ATM بھی لگائے جاچکے ہیں بلکہ راقم الحروف کی دانست میں ایسے بھی لوگ ہیں جن کے یہاں اسے ابھی قبول نہیں کیا گیا ہے مگر وہ اسے خریدنے کی وجہ سے بہت سے کام اسی سے کر رہے ہیں۔ اس کرنسی کے متعدد فائدے بتائے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہی اس کی مہنگائی کے اسباب ہیں، یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق چند دہائیوں میں یہی کرنسی عالمی کرنسی ہوگی۔ اس کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں:

 1 اس کرنسی کے ذریعے آدمی ان بڑی بڑی کمپنیوں سے سامان خرید سکتا ہے جو بٹ کوائن یا ون کوائن میں حصہ دار ہیں۔

2 اس کرنسی کے ذریعے پوری دنیا میں کسی بھی شخص کو اپنے اکاؤنٹ سے بغیر کسی کمپنی یا بینک کو واسطہ بنائے رقم منتقل کی جا سکتی ہے۔ 

3 رسد کی کمی اور طلب کی زیادتی یعنی کوائن کی کمی اور خریداروں کی کثرت کی وجہ سے اس کی قیمت بڑھتی رہتی ہے اور اس طرح آپ کی کرنسی مہنگی ہوتی جاتی ہے۔

4 اگر آپ خود بٹ کوائن یا ون کوائن سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے ہیں تو بڑھی ہوئی رقم کے مطابق بیچ سکتے ہیں اور اس طرح آپ کو فائدہ بھی حاصل ہوسکتا ہے۔ 

5 آپ جب چاہیں اپنی کرنسی کو ملکی کرنسی میں تبدیل کرا سکتے ہیں۔

6 اس کرنسی کو نہ کوئی چرا سکتا ہے نہ ہی غائب کر سکتا ہے، نیز اس سے ٹرانزکشن اس قدر آسان ہے کہ گھر بیٹھے انٹر نیٹ سے ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔

7 چونکہ اس کا تعلق کسی بینک یا ادارہ سے نہیں ہے اس لئے دوسرے کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کے لئے بہت ہی کم رقم لگتی ہے۔ 

8 چونکہ یہ کرنسی decentralised ہے اس لئے اس کرنسی کو کوئی ملک نہ بند کر سکتا ہے اور نہ ہی ہائک کر سکتا ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنے ملک میں جاری نہ کرے جیسا کہ ہندوستان وغیرہ میں ہے۔

اس موقع پر یہ واضح کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کہ جہاں کرپٹو کرنسی کے اس قدر فائدے ہیں وہیں کچھ نقصانات بھی ہیں اور پھر دنیا کی کونسی ایسی چیز ہے جس کے دونوں پہلو نہ ہوں؟ چنانچہ اس کرنسی لینے کا ایک نقصان یہ ہےکہ چونکہ اسے اپنے ہاتھ یا جیب میں رکھا نہیں جاسکتا ہے اور صرف انٹرنیٹ ہی کی ذریعے اس کا استعمال ممکن ہے؛ اس لئے آپ عام لوگوں سے کوئی خرید و فروخت کا معاملہ نہیں کر سکتے ہیں اور نہ ہی بوقت ضرورت ہر کس و ناکس سے لین دین کا معاملہ کر سکتے ہیں۔

دوسرا نقصان یہ ہے کہ چونکہ یہ ڈیجیٹل چیز ہے اگر بالاتفاق بیک وقت تمام ڈیجیٹل سسٹم فیل ہو جائے یا کسی ظالم طاقتور کا غاصبانہ قبضہ ہو جائے تو آپ کی لگائی رقم بالکل ختم ہو سکتی ہے

جاری

Share

کرپٹو کرنسی (crypto currency)، تعارف اور حقیقت قسط اول

 👁کرپٹو کرنسی، تعارف اور حقیقت👁 

(بٹ کوائن (Bit Coin) اور ون کوائن (Onecoin) پر ایک نظر)

از قلم: محمد زبیر الندوی 

مركز البحث والإفتاء ممبئی انڈیا

رابطہ 9029189288

جس طرح انسانی زندگی میں مختلف تبدیلیاں اور نیرنگیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں؛ اسی طرح کائنات کا نظام اور چیزیں بھی ان تبدیلیوں سے دو چار اور متاثر ہوتی رہتی ہیں، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ دنیا کی کسی شی کو دوام نہیں، مثل مشہور ہے "ہر کمالے را زوالے" ہر کمال کو زوال سے ضرور دوچار ہونا پڑتا ہے۔

آجکل ہمارے ہاتھوں میں جو کرنسی کی شکل میں پیسے یا روپئے موجود ہیں؛ ان کی کہانی بھی بڑی عجیب اور ان پر آنے والی تبدیلیاں بڑی حیرت انگیز ہیں، نوع انسانی کے ابتدائی دور اور بعد کے ادوار میں ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جب سونا چاندی اور روپئے پیسے کا بطور تبادلہ کوئی خیال تک نہ تھا، اس دور میں اشیاء کا تبادلہ اشیاء سے ہوتا تھا، چاول دیکر گیہوں لے لینا اور آٹا دے کر دودھ لے لینا ہی چیزوں کی خرید و فروخت کی مانی جانی شکل تھی، پھر ایک دور آیا کہ یہی تبادلہ سونے چاندی جیسی بیش قیمت دھاتوں سے ہونے لگا، انہیں کے ذریعے چیزیں خریدی اور فروخت کی جانے لگیں؛ لیکن بہت مدت نہیں گزری کہ خرید و فروخت کی دراز دستی نے سونے چاندی کے خول سے نکل کر ان سے بنے سکوں اور مختلف دھاتوں سے بنے پیسوں کی شکل اختیار کر لی۔

پھر ان کے بعد ایک ایسا بھی دور آیا جب لوگ سونے چاندی اور ان کے سکوں کو صرافوں کے پاس رکھ دیتے اور ان سے اس کی رسیدیں حاصل کرلیتے اور بوقت ضرورت رسید دکھا کر وہ سکے واپس لے لئے جاتے اور اگر کسی کو دینے کی ضرورت پیش آتی تو بعض فرزانے ایسا بھی کرتے کہ وہی رسید کسی اور کو دے دیتے اور وہ رسید دکھا کر صراف سے سونا لے لیتا، اور کبھی کبھی انہیں رسیدوں سے لوگ اشیاء کی خرید و فروخت کا معاملہ بھی کر لیتے، آہستہ آہستہ یہ سلسلہ عام اور دراز سے دراز تر ہوتا گیا، یہی وہ دور ہے جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ نوٹوں کے آغاز کا ابتدائی زمانہ تھا اور جس کی اعلی ترین شکل اب ہمارے زمانے میں اس قدر عام ہے کہ اس کے خلاف سوچنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔

 کرنسی نوٹ کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جوں جوں اس میں ترقی ہوتی گئی یہ اپنی اصلیت یعنی "ثمن حقیقی" سے دور سے دور تر ہوتی چلی گئی، کسی زمانے میں ان کرنسیوں کے پیچھے سو فیصد سونا ہوا کرتا تھا، پھر ایک زمانہ آیا کہ انہیں ڈالر سے جوڑ دیا گیا اور ڈالر کے پیچھے سونا تسلیم کر لیا گیا تھا، گویا بالواسطہ ان کے پیچھے سونا موجود تھا، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کرنسیوں نے ڈالر سے بھی اپنا دامن چھڑا لیا اور اب ہم جس کرنسی کے دیوانے ہیں اور جس کی دستیابی کے لئے مر مٹ رہے ہیں اس کا سونے چاندی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور سوائے اس کی کہ اسے قانونی طور پر خرید و فروخت کا ایک ذریعہ تسلیم کر لیا گیا ہے اس کی حیثیت ایک کاغذ سے زیادہ نہیں۔

مگر جیسا کہ اوپر ذکر ہوا "ہر کمالے را زوالے" کچھ انسانوں کو شاید یہ سکے اور کاغذی نوٹ بھی بوجھ معلوم ہو رہے تھے یا یوں کہہ لیجیے کہ کرنسی نے ایک نئی انقلابی کروٹ لی اور اب ایک ایسی کرنسی وجود میں آچکی ہے؛ جسے جیب میں رکھنے اور چور اچکوں سے محفوظ رکھنے کی فکر دامن گیر نہ ہو گی، اس کرنسی سے انسان اپنی تمام تر ضروریات کی تکمیل بھی کر سکے گا اور پیسوں، سکوں کے بوجھت سے  بھی آزاد ہوگا، ذیل میں اسی کرنسی سے متعلق چند اہم معلومات فراہم کی جاتی ہیں امید کہ اس تحریر سے اس نومولود کرنسی کو سمجھنا آسان ہوگا۔

اس وقت تمام دنیا میں آن لائن کارو بار کا جو طوفان برپا ہوا ہے اور معیشت و تجارت میں جو زبردست ہلچل اور گہما گہمی پیدا ہوئی ہے  شاید ماضی کے کسی زمانے میں پیدا نہیں ہوئی ہوگی، اسی ہلچل و طوفان نے ایک نئی کرنسی "کرپٹو کرنسی" (Crypto Currency) کے نام سے دنیا میں چند سال قبل متعارف کرایا ہے، اس کرنسی کا تصور پیش کرنے والے یا موجد کا نام "ستوشی ناکا موتو" (Satoshinakamoto)  بتایا جاتاہے، یہ کوئی شخص ہے یا ادارہ اس کی تفصیل کسی کو معلوم نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ کرۂ ارض پر کئی ایسی شخصیات موجود ہیں جو ستوشی ہونے کی دعویدار ہیں، بہر کیف دعوی کرنے والے ہوں یا کوئی بھی شخص جو بھی ہو اس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ عصر حاضر کا ذہین ترین انسان ہے۔

کرپٹو کرنسی کی حقیقت بس یہ ہے کہ یہ ایک ڈیجیٹل اور نظر نہ آنے والی ایسی کرنسی ہے جسے نہ ہاتھوں میں لیا جاسکتا ہے نہ جیب میں رکھا جا سکتا ہے، گویا باہری دنیا میں اس کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے، کمپیوٹر کی دنیا تک ہی یہ کرنسی محدود ہے، جو اکاؤنٹ ہولڈر کے اکاؤنٹ میں عددوں اور الفاظ کی شکل میں موجود رہتی ہے، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انسان اس سے اپنے وہ تمام کام پورے کر سکتا ہے جو ہاتھوں میں پکڑے جانے والی اور جیبوں میں رکھی جانے والی کرنسی سے کرنا ممکن ہے، بآسانی بس یوں سمجھئے کہ جیسے ڈیبٹ کارڈ میں حقیقتا کچھ ہوتا نہیں ہے مگر اس کے ذریعے کارڈ ہولڈر اپنی ضروریات خرید کر اکاؤنٹ میں موجود بیلنس یا بینک سے ادھار لے کر قیمت ادا کر سکتا ہے ایسے ہی اس کرنسی سے بھی سارے معاملات اخاونٹ اور خارڈ سے انجام دییے جاسکتے ہیں۔

جاری

Share

کرپٹو کرنسی (Crypto currency) کی خریداری کا حکم

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1310🖋️

(کتاب البیوع جدید مسائل)

 کرپٹو کرنسی (Crypto currency) 
کی خریداری کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام ذیل کے مسئلے کے متعلق کپ کرپٹو کرنسی جیسے بٹکوائن اور دوسرے کرنسی جو آنلائن ہے ان پر ٹریڈینگ کی جا سکتی ہے یا نہیں؟؟

یہ آن لائن کرنسی ہوتی ہے جسیے ہر ملک کی کرنسی ہوتی ہے ویسے ہی کرپٹو بھی کوئی لے سکتا ہے، اسکو بینک میں حقیقی پیسوں میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اس سے عموما کوئی بھی چیز آنلائن خریدی جا سکتی ہے

اسکی ٹریڈینگ سٹاک ٹریڈینگ جیسی ہوتی ہے جہاں پر ایک حصہ کرپٹو کا خردیا جا سکتا ہے، جب اس کرنسی کا ویلوو بڑھ جائے تو اسکو بیچ بھی سکتے ہیں اور اپنے پاس بھی رکھ سکتے ہیں، جس طرح سونے کی یا ڈالر پاؤنڈ کہ ٹریڈینگ ہوتی ہے ویسے ہی آن لائن میں کرپٹو کرنسی ہوتی ہے، حکومت بھی اسکی تائد کرتی ہے....

اسکے متعلق تفصیل مطلوب ہے آیا یہ جائز ہے یا نا جائز.....

جواب مرحمت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں...

فقط والسلام

(محمد توصیف حیدرآباد)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

کرپٹو کرنسی، بٹ کوائن اور ون کوائن کی حقیقت، ان کی صورت گری اور نفع ونقصان کے موضوع پر احقر راقم الحروف نے آج سے تقریبا تین سال قبل ایک تحریر تفصیلی انداز میں لکھی تھی، جو بہت مفید اور اس کی حقیقت و تعارف کے لئے قابل مطالعہ ہے، احقر نے ذاتی طور پر اس کی حقیقت کو خوب سمجھنے اور قریب سے دیکھنے کی کوشش کی ہے، چنانچہ اپنی تحقیق اور سوال بالا کے پس منظر میں اس کرنسی کا حکم یہ ہوگا کہ جن ممالک نے اس کرنسی کو قبول کرلیا ہے اور اپنے باشندگان کو اس کے لین دین کی اجازت دے دی ہے، ان کے لیے یہ ثمن عرفی یا ثمن اعتباری کے درجے میں ہوگا، اور اس کی خریداری اور لین دین سب درست ہوگا، البتہ وہ ممالک جنہوں نے اس کو بطور کرنسی قبول نہیں کیا ہے اور خواہ اپنے باشندگان کو صراحتاً اس کی خریداری سے منع کردیا ہے یا منع نہ کیا ہے ان کے لئے یہ ثمن عرفی یا ثمن اعتباری نہیں ہوگا، اور ان کے لئے اس کی خریداری درست نہیں ہوگی انڈیا نے چونکہ اس کو کرنسی نہیں مانا ہے اور اپنے ملک کے لئے قبول نہیں کیا ہے اس لیے اس کی خریداری درست نہیں ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا 📚

(١) فالشرط الأول في الثمن أن يكون مالا متقوما شرعا، و كل ما ذكرنا في مالية المبيع و تقومه يجري في مالية الثمن أيضا. (فقه البيوع ٤٢٣/١ الباب الثاني في أحكام الثمن)

المراد بالمال ما يميل إليه الطبع و يمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم والتقوم يثبت بها و بإباحة الانتفاع به شرعا. (رد المحتار على الدر المختار ١٠/٧ كتاب البيوع مطلب في تعريف المال)

كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 11/3/1442

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

پیر، 15 اگست، 2022

کتابیں دلوانے پر اجرت لینا جائز ہے

 کتاب البیوع جدید مسائل



*سوال وجواب *

مسئلہ نمبر 1780 

(کتاب البیوع جدید مسائل)

*کتابیں دلوانے پر اجرت لینا*

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید سے حامد کتابیں منگواتا ہے اور زید صرف فون کے ذریعہ سے کتب خانہ سے ہی حامد کے پتے پر کتب ارسال کروادیتا ہے تو کیا اس پر زید کچھ زائد رقم لے سکتا ہے ۔یا پھر یہ ڈاکٹر کے کمیشن کی طرح (جوکہ ایکسرے وغیرہ کے تعلق سے ہوتا ہے) ناجائز ہوگا ۔ (اطہر ندوی کلکتہ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق


کمیشن کے طور پر اجرت لینے کے لئے محنت اور عمل ضروری ہے، صرف فون کرکے بتا دینا یہ کوئی عمل نہیں ہے، اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی راہ گیر کو راستہ بتانے پر اجرت مانگنا، اس لیے مذکورہ بالا صورت میں اجرت یا کمیشن کا مطالبہ درست نہیں ہے۔ ہاں اس آرڈر پر نفع لینے کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ پہلے زید وہ کتابیں ادھار خرید لے اور پھر اپنے نفع کے ساتھ اس کو آرڈر پر لگائے؛ لیکن اس صورت میں راستے میں اگر کہیں کتاب کا پارسل غائب ہو جاتا ہے یا کتابوں کو ایسا نقصان ہوجاتاہے جس کی وجہ سے حامد وہ کتابیں نہیں لیتا ہے تو اس کا پورا رسک اور نقصان زید پر ہوگا اس لیے کہ قاعدہ یہ ہے کہ جو نفع حاصل کرے گا نقصان کا رسک بھی اسی کو لینا ہوگا حدیث مبارکہ میں بھی آیا ہے الخراج بالضمان۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*والدليل على ما قلنا *
(١) {قال إني أريد أن أنكحك إحدى ابنتي هاتين على أن تأجرني ثماني حجج} [القصص: ٢٧] 

أي على أن تكون أجيرا لي أو على أن تجعل عوضي من إنكاحي ابنتي إياك رعي غنمي ثماني حجج. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 173/4 كتاب الاجارة)

الاجیر المشترك لا يستحق الأجرة إلا بالعمل (مجلة الأحكام العدلية مع شرحها 457/1 المادة 424)

عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ. (سنن الترمذي حدیث نمبر 1285 أَبْوابٌ : الْبُيُوعُ)

الغرم بالغنم (قواعد الفقه ص 64)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مؤرخہ 9/7/1443
رابطہ9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*
Share

Translate