⚖️سوال وجواب⚖️
🖋️مسئلہ نمبر 1764🖋️
(کتاب البیوع جدید مسائل)
مشترکہ زمینی کاروبار میں اختلاف اور اس کا حل
سوال: تقریبا سو (100) لوگوں نے مل کر زمین کی پلاٹنگ کا کاروبارشروع کیا۔ اوربلا کسی معاوضہ کے رضاکارانہ خدمات کے لیےشر کاء ہی میں سے پانچ(5) افرادکی ایک کمیٹی بنادی گئی۔ کمیٹی کی ذمہ داری میں یہ باتیں تھیں کہ:
1.وہ گراہکوں سے پلاٹوں وشیئرس کاسودا کریں گے۔
2.اور پلاٹوں کی بڑھتی گھٹی قیمتوں کے بارے میں ماہ بہ ماہ شرکاء(شیئرہولڈرس ) کومطلع کرتے رہیں گے. قیمتوں کی بنیاد پر شیئرس کی خرید وفروخت کے لیے شرکاء سے اجازت حاصل کی جائے گی۔
3.وہ ارکان کمیٹی اپنے شیئرس کے نفع ونقصان کے مالک ہوں گے، لیکن دوسرے شیئرس کے نفع ونقصان سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔
4.جملہ زمین کے سلسلہ میں جوسرکاری یا میزبانی کے اخراجات ہوں گے وہ تمام شرکاء کے درمیان مشترک ہوں گے۔ کمیٹی والوں کو مستقل الگ سے کوئی جارج نہیں دیاجائے گا۔ ان کی خدمات رضاکارانہ ہوں گی۔
اس طرح شروع میں کئی زمینوں کی خرید وفروخت کر کے منافع کمایا گیا ۔ اورآخر میں ایک زمین خریدی گئی، لیکن:
1.اس زمین کے سلسلے میں اس کمیٹی نے شرکاء (شیئر ہولڈرس) کے سامنے زمینوں کی قیمت اوپن( واضح) نہیں کی۔
2.نیز بغیرشیئرہولڈرس کی رائے لیے اپنی مرضی سے کمیٹی میں بعض دوسرے افراد کو شریک کرلیا۔
3.پھر بہت کم قیمت میں ارکان کمیٹی، یاان کی اولادوں ورشتہ داروں نے خود ہی لوگوں کے شیئرس خرید لیے۔ سوال یہ ہے کہ :
1.شیئرس کی قیمتوں ماہ بماہ اوپن کرنے کے بجائے شیئرس ہولڈرس کی مرضی خلاف کم دام میں سودا کرنا کمیٹی کے لیے جائز ہے یا نہیں؟
2۔ارکان کمیٹی جو کہ شرکا ء کے وکیل ہیں ، کیا وہ شیئرس ہولڈرس کی اجازت کے بغیرخود اپنے یا اپنی اولادوں کے لیے منتذ کرہ شیئرزخرید سکتے ہیں ۔ اگرارکان کمیٹی اور ان کی اولادیں شیئرز خریدتی ہیں،تو کیا یہ خریداری درست و نافذ ہے؟
3 - ارکان کمیٹی کی طرف سے کئے گئے بیع وشراء کایہ معاملہ درست نہ ہونے کی صورت میں ارکان کمیٹی کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ کیا سودے کو لوٹانا ضروری ہے؟
4۔ اگر یہ لوگ سودانہیں لوٹاتے ہیں تو قومی وملی اداروں میں کسی منصب اور عہدے کے قابل ہیں یا خائن قرار پاکر ملی وتنظیمی ذمہ داریوں کے اہل نہیں رہیں گے ۔
بینوا وتوجروا فقط والسلام
المستفتی: ابومصعب ناگوری۔
مہدپور،اُجین، (ایم پی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و باللہ التوفیق
بنیادی طور پر تمام شرکاء پر لازم تھا کہ جو وعدہ اور اصول شروع میں بنا دیا گیا تھا اس کی پاسداری کرتے، قرآن مجید میں بھی اس کی تاکید موجود ہے اور احادیث مبارکہ میں بھی یہ بات آئی ہے کہ مسلمان اپنے وعدوں اور شرطوں پر پورا اتریں، اس لیے کمیٹی کے ارکان کے لئے شرطوں کی خلاف ورزی کرنا درست نہیں ہے۔
ارکان کمیٹی نے جو زمین بھی شرکاء کے پیسے سے خریدی ہے اس میں تمام شرکاء کا حصّہ حسب شرط ہے، اور اگر اراکین اس زمین کو خود خریدتے ہیں تو ان کے لیے خریدنا درست نہیں ہے؛ کیونکہ اس صورت میں وہ خود بائع اور مشتری ہونگے اور ایک ہی شخص دونوں نہیں ہوسکتا ہے، نیز اگر وہ اپنے بچوں یا رشتہ داروں کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں تو یہ بیع درست تو ہوگی مگر شرکاء کی اجازت پر موقوف رہے گی، اگر شرکاء اجازت دیتے ہیں تو درست ہوجائے گی ورنہ درست نہیں گی اور معاملہ ختم ہوجائے گا۔
نیز ارکان کمیٹی نے جو زمین خریدی ہے اگر وہ شرکاء کو سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو معاملہ فسخ کرسکتے ہیں بشرطیکہ بیچنے والا معاملہ ختم کرنے پر راضی ہو۔ واضح رہے کہ اگر ارکان کمیٹی نے مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ایسا کیا ہے تو وہ کسی حد تک معذور ہونگے اور اگر جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو دل میں چور ہونے میں کیا شک ہے؟ ایسے حضرات کو اعلیٰ ذمہ داریاں دینا یا دینی امور تفویض کرنا مناسب نہیں ہے۔ البتہ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مذکورہ حکم سوالنامہ کی روشنی میں لکھا گیا ہے، اگر معاملہ میں کچھ اور پیچیدگی ہے اور دیگر وجوہات ہیں جنہیں اس سوالنامہ میں ظاہر نہیں کیا گیا ہے تو اس کے ذمہ دار سائل حضرات ہیں۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
📚والدليل على ما قلنا📚
(١) یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَوۡفُوا۟ بِٱلۡعُقُودِۚ (المائدة ١)
قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ ". (صحيح البخاري كِتَابٌ : الْإِجَارَةُ. | بَابُ أَجْرِ السَّمْسَرَةِ)
لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه. (مجلة الأحكام العدلية مادة 96)
يلزم مراعاة الشرط بقدر الإمكان. (مجلة الأحكام العدلية مادة 83)
للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء. (الفقه الإسلامي و أدلته ٥٥٢/٦)
”و لو اشتری من جنس تجارتھما و اشھد عند الشراء انہ یشتریہ لنفسہ فھو مشترک بینھما لانہ فی النصف بمنزلۃ الوکیل بشراء شیء معین و لو اشتری مالیس من تجارتھما فھو لہ خاصۃ لان ھذا النوع من التجارۃ لم ینطو علیہ عقد الشرکۃ. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق کتاب الشرکۃ ، جلد 5 ، صفحہ 294 ، مطبوعہ کوئٹہ )
إن الموكل مخير و البيع موقوف على إجازته إن اجازه نفذ وإلا فلا. (النتف في الفتاوى 597/2)
كتبه العبد محمد زبير الندوي
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مؤرخہ 22/6/1443
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے



%D8%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%20%D9%82%D8%B3%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D9%84Design.png)


