باب الحیض والنفاس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
باب الحیض والنفاس لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 15 اگست، 2022

ڈیلیوری کے بعد تین ماہ تک خون کا حکم

ڈیلیوری کے بعد تین ماہ تک خون کا حکم


*⚖️سوال وجواب ⚖️*

🖋️مسئلہ نمبر 1779 🖋️

(کتاب الطھارۃ باب الحیض والنفاس)

*ڈیلیوری کے بعد تین ماہ تک خون کا حکم*


سوال: اگر کسی عورت کو ڈیلیوری ہونے کے چالس دن بعد بھی خون آرہا ہو تو کیا مسئلہ ہے اور بچے کی پیدائش آپریشن سے ہوئی ہے اور ڈیلیوری کو  تین مہینہ ہو چکا ہے اور خون اب بھی آرہا ہے اب معلوم یہ کرنا تھا کہ عورت ناپاکی کی حالت میں ہے یا اور کوئی مسئلہ ہو گا؟ (بنت حوا بنگلور)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

بچے کی ولادت کے بعد آنے والے خون کو فقہی اصطلاح میں نفاس کہا جاتا ہے، نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، چالیس دن کے بعد جو خون آئے گا وہ استحاضہ ہوگا، یعنی بیماری کا خون مانا جائے گا، چنانچہ چالیس دن سے زیادہ جو خون آیا ہے وہ بیماری کا خون ہوگا، اس دوران انہیں ہر نماز کے لیے وضو کرکے نماز پڑھنا چاہیے تھا۔ البتہ چالیس دن پورے ہونے کے بعد اگر مستقل خون آرہا ہے تو پندرہ دن کے بعد کا خون حیض کا خون مانا جائے گا، اگر پندرہ دن کے بعد آنے والا خون دس دن کے اندر کچھ دنوں کے لئے بند ہوجایے تو یہ حیض کا ہوگا اور اس سے زیادہ آتا ہے تو دس دن تک کا حیض ہوگا باقی استحاضہ ہوگا(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*📚والدليل على ما قلنا 📚*

(١) و النفاس هو الدم الخارج عقيب الولادة (المختصر للقدوري ص ٢٠ كتاب الطهارة باب الحيض)

أقل النفاس ما يوجد و لو بساعة و عليه الفتوى وأكثره أربعون يوما عندنا (الفتاوى السراجية ص ٥٢ كتاب الطهارة باب النفاس)

و أقل النفاس لا حد له و أكثره أربعون يوما (المختصر للقدوري ص ٢٠ كتاب الطهارة باب الحيض)

و حكمه كالحيض إلا في سبعة (الدر المختار مع رد المحتار ٤٩٦/١ كتاب الطهارة)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ ، عَنْ مُسَّةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَتِ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا - أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً - وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ. تَعْنِي : مِنَ الْكَلَفِ. (سنن ابي داود حديث نمبر ٣١١)

تخلل الطهر في أربعين يوماً لا يفصل عند أبي حنيفة رحمه الله ويكون كله نفاسا (الفتاوى السراجية ص ٥٢ كتاب الطهارة باب النفاس)

(والزائد) على أكثره (استحاضة) لومبتدأة، أما المعتادة فترد لعاداتها وكذا الحيض،

فإن انقطع على أكثرهما أو قبله فالكل نفاس، وكذا حيض إن وليه طهر تام وإلا فعادتها وهي تثبت وتنتقل بمرة، به يفتى، وتمامه فيما علقناه على الملتقى. (الدر المختار مع رد المحتار ٤٩٨/١ كتاب الطهارة باب الحيض)

و إن انقطع الدم قبل الاربعين و دخل وقت صلاة تنتظر إلى آخر الوقت ثم تغتسل في بقية الوقت و تصلي (الفتاوى التاتارخانية ٥٣٨/١ كتاب الطهارة)


*كتبه العبد محمد زبير الندوي*

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 8/7/1443

رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

Share

Translate