باب الوجوب الاضحیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
باب الوجوب الاضحیہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 20 اگست، 2022

بچیوں کے لئے بنوائے گئے زیورات کی وجہ سے کیا بچیوں پر قربانی واجب ہوگی

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1554🖋️


(کتاب الاضحیہ باب الوجوب)


بچیوں کے لئے بنوائے گئے زیورات کی وجہ سے کیا بچیوں پر قربانی واجب ہوگی


سوال: ایک لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور اسکے والدین نے اس کے لیے سونا خریدا، لیکن ابھی اسے  اس سونے کا مالک نہیں بنایا نکاح کے موقع پر وہ سونا اسے دے دیا جائے گا؟ کیا فی الحال ایسی صورت میں اس لڑکی پر قربانی واجب ہے؟ براۓ مہربانی وضاحت فرما دیجئے‌۔ (عبد التواب، آندھرا پردیش)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


سوال نامہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ والدین نے سونا خرید کر اپنی ملکیت میں باقی رکھا ہے، ابھی لڑکی کو دیا نہیں ہے اور یہی ہمارے یہاں کا عرف بھی ہے کہ شادی سے قبل زیورات بچیوں کے حوالے نہیں کئے جاتے ہیں، اس لیے وہ بچی حقیقتاً اس کی مالک نہیں ہے، والدین ہی اس کے مالک و قابض سمجھے جائیں گے؛ چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر اس کے علاوہ اتنی رقم یا زیورات ان کے پاس نہیں ہیں کہ وہ صاحب نصاب ہوں تو ان پر قربانی واجب نہیں ھوگی۔ ہاں والد صاحب پر اور اگر والدہ صاحب نصاب ہوں تو ان پر قربانی واجب ہوگی(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ". حكم الحديث: إسناده ضعيف. (مسند أحمد رقم الحديث ٨٢٧٣ مُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)


الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى (المختصر للقدوري ص ٢٠٨ كتاب الاضحية)


وأما شرائط الوجوب فمنها اليسار وهو اليسار الذي تعلق به وجوب صدقة الفطر دون اليسار الذي تعلق به وجوب الزكاة على ما ذكرنا في كتاب الزكاة. (تحفة الفقهاء جزء ٣ ص ٨٢ كتاب الاضحية)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 18/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

دو جانور قربانی کرنے کی نیت کرنا پھر ایک ہی قربانی کرنا

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1574🖋️


(کتاب الاضحیہ باب الوجوب)


دو جانور قربانی کرنے کی نیت کرنا پھر ایک ہی قربانی کرنا


سوال: ایک شخص نے ایک بکرا قربانی کے لئے پالا اور عیدالاضحی کے موقع پر ایک بکری بھی قربانی کی نیت سے خریدی؛ مگر قربانی سے پہلے اس شخص کے پاس ایک غریب لڑکی کی شادی کا تقاضہ آیا، اس نے بکرے کی تو قربانی کردی؛ مگر بکری اس لڑکی کی شادی میں دینے کے لئے روک لی اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ قرآن اور حدیث روشنی میں بتائیں اس مسئلہ میں کچھ لوگوں کا اختلاف ہے؛ لہذا مدلل و مفصل جواب مطلوب ہے۔ (مفتی نسیم قاسمی، بھنگا شراوستی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


یہ مسئلہ اسی انداز میں صراحتاً تو کسی فقہی کتاب میں نہیں ملا ہے؛ تاہم اصول و ضوابط سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر بکرا پالنے والا اور پھر بکری خریدنے والا صاحب نصاب نہیں ہے یعنی شرعی اصطلاح میں وہ فقیر ہے تو پھر اس کے اوپر دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہوگی؛ کیونکہ شریعت کی رو سے اس پر قربانی واجب نہیں تھی اس نے خود ایجاب مالا یجب کیا ہے؛ اس لیے دونوں واجب ہوجائیں گی، اور اگر وہ صاحب نصاب ہے؛ یعنی مالدار ہے تو دونوں میں سے کسی کی قربانی کردینا کافی ہے، چاہے پالے ہوئے بکرے کی چاہے خریدی ہوئی بکری کی؛ کیوں کہ اس کے ذمے اصلا اراقۃ دم ہے اور وہ ایک جانور سے ادا ہوجائے گا(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) وقال بعضهم: إن وجبت عن يسار فكذا الجواب، وإن عن إعسار ذبحهما ينابيع. (الدر المختار مع رد المحتار 323/6 كتاب الأضحية دار الكتب العلميه بيروت)


ولو ضلت أو سرقت فشرى أخرى فظهرت فعلى الغني إحداهما وعلى الفقير كلاهما شمني. (الدر المختار مع رد المحتار 326/6 كتاب الأضحية دار الكتب العلميه بيروت)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 9/12/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

Translate