جمعرات، 1 ستمبر، 2022

نیا سال منانے اور اس کی مبارکباد دینے کا شرعی حکم

🎍سوال و جواب🎍

(مسئلہ نمبر 295)

 نیا سال منانے اور اس کی مبارکباد دینے کا شرعی حکم 

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام و علمائے  عظام درج ذیل مسئلہ میں؛ بحوالہ جواب مرحمت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں :

کہ نیا سال منانے اور اس کی مبارکباد دینا کیسا ہے؟ (انظر حسین کرہی بستی یوپی)


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

الجواب و باللہ الصواب 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی نہایت سادہ اور رسم و رواج سے بالکلیہ دور تھی، اس قسم کے بے سود، لایعنی اور خرافاتی طور طریقے نبوی معاشرے میں ہرگز جگہ نہیں پا سکتے تھے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور اسلام کے پھیلاؤ میں ہجرت نبوی کو کس قدر اہمیت حاصل ہے بلکہ اس کی اہمیت کے پیش اسلامی کیلینڈر کی بنیاد سال بنایا گیا؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور صحابہ کرام کے دور اور بعد کے ادوار میں ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ جس میں نئے سال کا جشن منایا گیا ہو یا اس کی مبارکبادی دی گئی ہو؛ بلکہ اس جانب کسی صحابی یا محدث و فقیہ کا شاید ذہن تک نہیں گیا چنانچہ سلف صالحین کی کتب میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا؛ اس لئے یہ بات تو یقینی ہے کہ نئے سال کا جشن منانا؛ اس کی مبارکبادی دینا شرعاً کوئی دینی عمل نہیں ہے اور نہ ہی اسلامی تہذیب و ثقافت سے اس کا کوئی تعلق ہے؛ بلکہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اسلام دشمن اور اسلامی تہذیب و معاشرت سے بیزار لوگوں کا بنایا اور دیا ہوا طریقہ ہے جس کا سوائے بے شمار دینی و دنیوی نقصان اور مختلف گھناؤنی حرکات کے کچھ حاصل نہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ لایعنی کاموں کو چھوڑ دے اور دیکھا جائے تو یہ ناکہ صرف لایعنی ہے بلکہ بیشمار گناہوں کا باعث بھی ہے خاص طور پر انگریزی تاریخ کا نیا سال منانے کی شروعات اور طریقہ تو سراسر غیر اسلامی تہذیب و تمدن کا حصہ ہے اس لئے اس کے خلاف دین ہونے میں کوئی شک ہی نہیں ہے۔

اور تاریخی مشاہدہ ہے کہ اس قسم کی رسمیں آہستہ آہستہ ایک اہم مقام اور بدعت کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، اس لئے نیا سال منانے، (خواہ ہجری سال ہو یا عیسوی) اس کی مبارکبادی دینے، اور happy New year وغیرہ کہنے سے اجتناب لازم و ضروری ہے، چونکہ قرآن مجید کا حکم ہے کہ اچھے اور نیک کام میں ایک دوسرے کی مدد کروں اور برائی و ظلم کے کاموں میں کسی کی مدد نہ کرو اس لئے اس کام سے خود رکنا اور اپنے دوست احباب اور اہل و عیال کو روکنا ضروری ہے، بصورت دیگر گناہ کبیرہ میں گرفتار ہونے کا اندیشہ ہے۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب


 📚📚والدليل على ما قلنا📚📚 

(١) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ)). (سنن أبي داود حديث نمبر 4033)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكَهُ مَا لاَ يَعْنِيهِ)). (سنن الترمذي حديث نمبر ٢٤٨٨)

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدة 2)

تفصیل کے لئے دیکھئے: کتاب الفتاوی 481/1 مجلہ شاہراہِ علم0ص 313 ربیع الثانی 1429، اشاعت العلوم اکل کنواں۔ نیا سال مغرب اور اسلام کا نقطہ نظر ص 26.

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹


 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

مركز البحث و الإفتاء مدرسه أشرف العلوم نالا سوپارہ ممبئی انڈیا

مورخہ 9/4/1439

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share
نام۔ محمد قاسم خان دینی تعلیم: حفظ قرآن ۔ دارالعلوم سلیمانیہ میراروڈ ممبئی۔ عالمیت ابتدائی تعلیم: مدرسہ فلاح المسلمین امین نگر تیندوا راۓ بریلی۔ عالمیت فراغت: دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ۔ افتاء: المعھد العلمی النعمانی بہرائچ اترپردیش۔ ویب سائٹ کا مقصد دینی اور دنیاوی تعلیم سے لوگوں کو باخبر کرنا۔ اس کار خیر میں آپ ہمارا ساتھ دیں۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا فی الدنیا والآخرۃ

0 Comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

Thank You So Much

Translate

بلاگ آرکائیو