⚖سوال و جواب⚖
مسئلہ نمبر 1082
(کتاب الحج باب الحج عن الغير)
حج کرانے کا پیسہ دے اور اخراجات بڑھ جائیں تو کیا کریں
سوال: ایک صاحب اپنے رشتے دار کو ڈیڑھ لاکھ روپے دیئے تھے حج کرنے کے لئے لیکں اب حج کی لاگت سوا دو لاکھ روپے ہے تو اب وہ کیا کرے، آیا اپنے پاس سے پیسے لگا کر حج کر سکتا ہے؟ (قاری سعود مدرسہ اسلامیہ گلشن نگر جوگیشوری ممبئی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق
حج کے اخراجات کے لئے اگر رقم کم پڑ گئی ہے تو ظاہر ہے اس میں مزید رقم ملائی جائے گی، اب اگر یہ حج بدل کی رقم تھی تو حج بدل کے لیے ضروری ہوگا کہ اصلی رقم ملائی جانے والی رقم سے زیادہ ہو ورنہ حج بدل نہیں ہوگا اور اگر نفلی حج کی رقم ہو کم زیادہ کی تفصیل نہیں ہے، آدمی کو اختیار ہے جتنی اس کے پاس وسعت ہو خود اپنی رقم شامل کرلے اور اگر وسعت نہ ہو لیکن کوئی ثواب کی نیت سے روپیے دینے کو تیار ہو تو اس کی رقم شامل کرلی جایے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی اور کو دے دی جائے جو اپنی رقم شامل کرکے حج کرلے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
📚والدليل على ما قلنا📚
(١) عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ الْبَعِيرِ. قَالَ : " حُجِّي عَنْهُ ". (سنن الترمذي رقم الحديث ٩٢٨ أَبْوَابُ الْحَجِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ | بَابٌ : مَا جَاءَ فِي الْحَجِّ عَنِ الشَّيْخِ الْكَبِيرِ، وَالْمَيِّتِ)
وإن لم يكن في مال الميت وفاء بالنفقة فانفق شيئا من ماله ينظر إن كان أكثر النفقة من مال الميت جاز و إلا فلا و هذا استحسان (الفتاوى الهندية ٢٥٧/٢ كتاب الحج الباب الرابع عشر)
لأن باب النفل أوسع. (الفتاوى الهندية ٢٥٧/٢ كتاب الحج الباب الرابع عشر)
كتبه العبد محمد زبير الندوي
دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 12/7/1441
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ


0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
Thank You So Much