اتوار، 28 اگست، 2022

بینکوں اور کمپنیوں کے ریزرو فنڈز Reserve Funds Of Bank And Companies میں زکوٰۃ کا حکم

⚖سوال و جواب⚖

💸مسئلہ نمبر 792💸

(زکوٰۃ کے جدید مسائل)

بینکوں اور کمپنیوں کے ریزرو فنڈز Reserve Funds Of Bank And Companies

 میں زکوٰۃ کا حکم

سوال: اسلامی بینکوں اور دیگر کمپنیوں کے جو ریزرو فنڈز ہوتے ہیں جو وقتی ضروریات پر کام آتے ہیں ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی کہ نہیں؟ دور حاضر کے فقہاء و مفتیان کرام کی اس بارے میں کیا تحقیق ہے؟ (دار الافتاء بہرائچ یوپی)


 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

 الجواب بعون اللہ الوہاب 

اسلامی بینک یا کمپنیوں میں جو ریزرو فنڈز رکھے جاتے ہیں؛ چونکہ وہ عرفا اور قانوناً بینک اور کمپنی کے اثاثوں کا حصّہ ہوتے ہیں اس لئے ان میں بھی زکوٰۃ واجب ہوگی، اور ہر حصے دار کے ذمہ لازم ہوگا کہ وہ اپنے حصے کی زکوۃ نکالے، چنانچہ جن حضرات نے کمپنی میں حصے اس واسطے لیے ہوں کہ وہ اسے فروخت کریں گے تو وہ بازاری قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ نکالیں گے اور جیسا کہ معلوم ہے کہ بازاری قیمت جب متعین کی جاتی ہے تو اس میں ریزرو فنڈز کی رقم کو بھی شامل کرکے اس کی تعیین کی جاتی ہے؛ اس لئے ریزرو فنڈز کی مستقل زکوٰۃ نکالنے کی ضرورت نہیں ہے؛ بلکہ اپنے حصے کی زکوۃ جب بازاری نرخ کے اعتبار سے نکالیں گے تو ریزرو فنڈز کی زکوۃ ایٹومیٹک نکل جائے گی۔

لیکن جن حضرات نے فروختگی کے ارادے سے حصے داری نہیں کیا ہے؛ بلکہ اپنی شرکت کو برقرار رکھنے کے لئے حصہ لیا ہے تو اس صورت میں زکوٰۃ واجب ہوگی اور اس کی زکوۃ مستقل طور پر نکالنی ہوگی البتہ اس صورت میں ناقابلِ زکوٰۃ اثاثوں مثلاً عمارت اور فرنیچر وغیرہ کی رقم کو منہا کرکے زکوٰۃ نکالیں گے اور ان ناقابلِ زکوٰۃ اثاثوں کی تعین اندازے سے کیا جاسکتا ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

(١) خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (التوبة 103)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ ". (سنن الترمذی حدیث نمبر 618 أَبْوَابُ الزَّكَاةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.  | بَابٌ : مَا جَاءَ إِذَا أَدَّيْتَ الزَّكَاةَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ)

إذا كان له عروض أو خادم للتجارة و حال عليه الحول و هو تبلغ نصابا للدراهم... تجب الزكاة فيهما. (الفتاوى السراجية ص ١٣٧)

و منها كون النصاب ناميا حقيقة بالتوالد و التناسل و التجارة. (الفتاوى الهندية ١٩٢/١ كتاب الزكاة)

يزكي رب المال (المالك) رأس المال و حصته من الربح و يزكي العامل حصته من الربح..... قال أبو حنيفة: و يزكي كل واحد من المالك و العامل بحسب نصيبه و حصته من كل سنة. (الفقه الاسلامي و أدلته ١٨٧٨/٣ كتاب الزكاة، سادسا زكاة شركة المضاربة)

مستفاد: فتاویٰ عثمانی 74/2 کتاب الزکوۃ


 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

مورخہ 4/9/1440

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

کیا انبیاء پر زکوٰۃ فرض نہیں تھی؟

 ⚖سوال و جواب⚖

💸مسئلہ نمبر 801💸

(کتاب الزکوۃ، باب الوجوب)

 کیا انبیاء پر زکوٰۃ فرض نہیں تھی؟ 

 سوال: انبیاء کرام علیہم السلام پر زکوٰۃ فرض تھی یا نہیں؟ (شکیل احمد، ڈالی گنج لکھنؤ، یوپی)


 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

 الجواب وباللہ التوفیق 

زکوٰۃ ایک مالی عبادت ہے جو سابقہ اقوام کے ساتھ امت محمدیہ پر بھی فرض کی گئی ہے، قرآن مجید و احادیث مبارکہ کی بعض روایات سے معلوم ھوتا ھے کہ زکوٰۃ کی رقم مال کا میل ہے جو مال کی گندگی کو دور کرتی ہے، ظاہر ہے انبیاء کرام علیہم کی ذات جس طرح پاک ہوتی ہے اسی طرح ان کا مال بھی پاک اور منزہ ہوتا ہے؛ اس لیے اس کی زکوۃ کے ذریعے پاک کرنے کی ضرورت نہیں ہے؛ چنانچہ علامہ شامی اور دیگر فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ اس مسئلے پر تمام امت کا اتفاق ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، نیز انبیاء کرام علیہم السلام اس قدر دریا دل اور سخی ہوتے تھے کہ ان کا ذاتی مال ان کے پاس اس مقدار میں رہتا ہے نہیں تھا کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو، انبیاء کرام علیہم کے پاس اِدھر مال آتا اُدھر امت کے فقراء ومساکین میں تقسیم ہوجاتا، سیرت کی کتابوں سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا، ظاہر ہے کہ جب بقدر نصاب مال ہی نہیں ہوتا تھا تو زکوٰۃ کا وجوب چہ معنیٰ دارد(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔۔


 📚والدليل على ما قلنا📚 

(١) خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (التوبة 103)

تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها" حَالَيْنِ لِلْمُخَاطَبِ، التَّقْدِيرُ: خُذْهَا مُطَهِّرًا لَهُمْ وَمُزَكِّيًا لَهُمْ بِهَا. وَيَجُوزُ أَنْ يَجْعَلَهُمَا صِفَتَيْنِ لِلصَّدَقَةِ، أَيْ صَدَقَةً مُطَهِّرَةً لَهُمْ مُزَكِّيَةً، (الجامع لأحكام القرآن — القرطبي، سورة التوبة ١٠٣)

و لا تجب على الأنبياء إجماعا. (الدر المختار مع رد المحتار ١٧٠/٣ كتاب الزكاة)

لأن الزكاة طهرة لمن عساه أن يتدنس و الأنبياء مبرءون منه، (رد المحتار على الدر المختار ١٧٠/٣ كتاب الزكاة)


 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

مورخہ 13/9/1440

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

وکیل بالقبض بنانے کی شرط پر زکوٰۃ دینا

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1483🖋️

(کتاب الزکاۃ، باب التوکیل)

وکیل بالقبض بنانے کی شرط پر زکوٰۃ دینا


سوال: ایک صاحب بہت زیادہ مقروض ہے، اب زکوٰۃ والے اس کو قرض سے نکالنا چاہتے ہیں، لیکن رقم اس کو نہیں دینا چاہتے ہیں کیونکہ اس کو دینے سے وہ رقم کو ادھر ادھر خرچ کرسکتا ہے، اس لیے اس سے یہ کہا جائے کہ تم وکیل بالقبض بناؤ، جو تمہاری طرف سے زکوٰۃ کی رقم وصول کرے اور قرض ادا کرے تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟ (مفتی عاصم، ساؤتھ افریقہ)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک ضروری ہے، تملیک مستحق کو دینے سے بھی ہوجائے گی اور مستحق کے وکیل کو دینے سے بھی؛ بشرطیکہ مستحق نے وکیل بنایا ہو اور اس کو خرچ کرنے کی اجازت دے دی ہو۔

چنانچہ مذکورہ بالا صورت میں اگر مقروض کسی کو وکیل بنا دیتا ہے اور مقروض کی اجازت سے وہ قرض خواہوں کو رقم ادا کردیتا ہے تو شرعا یہ درست ہے، فقہاء احناف میں سے ابن نجیم مصری اور ابن عابدین شامی نے صراحتاً یہ مسئلہ لکھا ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

 (١) إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة 60)

ويشترط أن يكون الصرف تمليكا لا إباحة. (الدر المختار مع رد المحتار ٢٩١/٣ كتاب الزكاة، باب الصرف، زكريا)

  لو قضى دين الحي  إن قضاه بأمره جاز، ويكون القابض كالوكيل له في قبض الصدقة كذا في غاية البيان وقيده في النهاية بأن يكون المديون فقيرا.  ( البحر الرائق ، کتاب الزکوٰۃ ، باب مصرف الزکوٰۃ ، جلد 2 ، صفحہ 261 ، مطبوعہ بیروت )

(دین الحیی الفقیرفیجوز لو بامرہ) ای یجوز عن الزکاۃ علی انہ تملیک منہ والدائن یقبضہ بحکم النیابۃ عنہ ثم یصیر قابضا لنفسه. (رد المحتار علی الدر المختار 342/3 كتاب الزكاة)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 7/9/1442

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

ہفتہ، 27 اگست، 2022

مخنث شخص اگر اعتکاف کرنا چاہے تو کہاں کرے گا؟ گھر میں یا مسجد میں؟

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1492🖋️

(کتاب الصوم باب الاعتکاف)

مخنث کہاں اعتکاف کرے

سوال: مخنث شخص اگر اعتکاف کرنا چاہے تو کہاں کرے گا؟ گھر میں یا مسجد میں؟ (مدثر دلی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

مخنث میں چونکہ مرد و عورت دونوں کا احتمال ہوتا ہے؛ اس لیے مخنث کے لئے اس کی ذکوریت کو دیکھتے ہوئے گھر میں اعتکاف درست نہیں؛ البتہ مسجد میں اعتکاف کرسکتا ہے؛ لیکن مسجد میں اعتکاف بھی مکروہ ہوگا اس کی تانیث کو دیکھتے ہوئے ماضی قریب کے معتبر فقہاء میں سے علامہ ابنِ عابدین شامی کا یہی رجحان ہے(١) خلاصہ یہ کہ مخنث اعتکاف نا کرے یہی بہتر ہے، ہاں اگر ‌نذر کا اعتکاف ہے تو مسجد میں کرلے۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب ‌


📚والدليل على ما قلنا📚

وهل يصح من الخنثى في بيته لم أره والظاهر لا لاحتمال ذكوريته (الدر المختار 441/2 كتاب الصوم باب الاعتكاف)

(قوله والظاهر لا) لأنه على تقدير أنوثته يصح في المسجد مع الكراهة وعلى تقدير ذكورته لا يصح في البيت بوجه ح.

قلت: لكن صرحوا بأن ما تردد بين الواجب والبدعة يأتي به احتياطا وما تردد بين السنة والبدعة يتركه إلا أن يقال المراد بالبدعة المكروه تحريما وهذا ليس كذلك ولا سيما إذا كان الاعتكاف منذورا. (رد المحتار على الدر المختار 441/2 كتاب الصوم باب الاعتكاف)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 16/9/1442

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

معتکفہ عورت کا بھیک دینے کے لئے نکلنا

 ⚖️سوال وجواب ⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1491🖋️

(کتاب الصوم باب الاعتکاف)

معتکفہ عورت کا بھیک دینے کے لئے نکلنا

سوال: اگر کوئی عورت ایک کمرے میں اعتکاف میں ہے اور کوئی فقیر مانگنے والے کو پیسے دینے والا کوئی نہیں ہے اور پیسے دوسرے کمرے میں ہیں تو کیا معتکفہ دوسرے کمرے میں جاکر پیسے لیکر فقیر کو دے سکتی ہے؟ اگر دے سکتی ہے تو کوئی بات نہیں اگر نہیں دے سکتی تو کیا ایسا کرنے سے اعتکاف ختم ہوجائیگا ۔۔بینوا توجروا۔ (یحییٰ جگرا والا، گجرات)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

معتکفہ عورت بغیر کسی طبعی ضرورت مثلاً استنجاء پیشاب وغیرہ کے دوسری ضروریات کے لئے اپنے اعتکاف گاہ سے باہر نہیں نکل سکتی ہے، فقیر کو پیسے دینا کوئی ایسی ضرورت نہیں ہے جس کے لئے اعتکاف چھوڑ کر نکلا جائے، اس لیے معتکفہ عورت اپنے اعتکاف گاہ سے باہر نہیں نکل سکتی ہے، اگر نکلے گی تو اعتکاف فاسد ہوجائے گا(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

ولا تخرج من بيتها إذا اعتكفت فيه. (الدر المختار 441/2 كتاب الصوم باب الاعتكاف)

أما المرأة إذا اعتكفت في مسجد بيتها لا تخرج منه إلى منزلها إلا لحاجة الإنسان؛ لأن ذلك في حكم المسجد لها على ما بينا. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 114/2 كتاب الصوم باب الاعتكاف دار الكتب العلميه بيروت)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 15/9/1442

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

صرف دسویں محرم کا روزہ رکھنے کا حکم

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1595🖋️

(کتاب الصوم، صیام نوافل)

صرف دسویں محرم کا روزہ رکھنے کا حکم

سوال: کیا صرف دس محرم کا روزہ رکھ سکتے ہیں، بطور خاص اس زمانے میں۔ (وصی اللہ بہرائچ یوپی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتاہے کہ عاشورہ کا روزہ ایک کے بجائے دو رکھنا چاہیے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہودی حضرات اس دن ایک روزہ رکھا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی خاطر دو روزے رکھنے کا حکم دیا؛ تاکہ ان کی مشابہت باقی نہ رہے، یہ عمل دور نبوی میں اور بعد کے ادوار میں چلتا رہا، اب بھی بیشتر لوگ دو روزے رکھتے ہیں؛ لیکن ماضی قریب اور دور حاضر کے بعض محققین کی رائے ہے کہ اس دور کے یہودیوں نے یہ روزہ عملاً ترک کر دیا ہے اور وہ اسلامی تاریخ کے اعتبار سے روزہ نہیں رکھتے؛ اس لیے اب ان کی مشابہت ختم ہوچکی ہے؛ چنانچہ اگر کوئی شخص ایک روزہ رکھنا چاہے تو بھی بلا کراہت درست ہے، علامہ انور شاہ کشمیری کی رائے میں بھی ایک روزہ رکھنے سے سنیت ادا ہوجائے گی، معارف الحدیث میں حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

(١) "سمعت عبد الله بن عباس رضي الله عنهما يقول: حين صام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء وأمر بصيامه، قالوا: يا رسول الله إنه يوم تعظمه اليهود والنصارى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فإذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع»، قال: فلم يأت العام المقبل، حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم" . (صحيح مسلم، (2/ 797)

"وروي عن ابن عباس أنه قال: «صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود»". (سنن الترمذي، (3/ 120)

"وحاصل الشريعة: أن الأفضل صوم عاشوراء وصوم يوم قبله وبعده، ثم الأدون منه صوم عاشوراء مع صوم يوم قبله أو بعده، ثم الأدون صوم يوم عاشوراء فقط. والثلاثة عبادات عظمى، وأما ما في الدر المختار من كراهة صوم عاشوراء منفرداً تنزيهاً، فلا بد من التأويل فيه أي أنها عبادة مفضولة من القسمين الباقيين، ولا يحكم بكراهة؛ فإنه عليه الصلاة والسلام صام مدة عمره صوم عاشوراء منفرداً، وتمنى أن لو بقي إلى المستقبل صام يوماً معه" (العرف الشذي شرح سنن الترمذي 2/ 177)

معارف الحدیث 387/4


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 30/12/1442

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

دوربین، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر سے چاند دیکھنے کا حکم

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1742🖋️

(کتاب الصوم باب رؤیۃ الہلال)

دوربین، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر سے چاند دیکھنے کا حکم

سوال: دوربین، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے چاند دیکھنے کا کیا حکم ہوگا؟ بعض لوگ اس پر حجت کر رہے ہیں اور اسے تکلیف مالا یطاق بتا رہے ہیں؟ شریعت میں کیا اس کی گنجائش ہے اور چاند دیکھنا معتبر ہوگا؟ 

(وصی احمد کانپور)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

چاند دیکھنے کی ممکنہ کوشش کرنا معیوب نہیں بلکہ مستحسن ہے؛ اس کے لیے اونچائی کے مقام کا انتخاب کرنا درختوں پر چڑھنا  ٹیلے اور پہاڑ سے نظارہ کرنا درست ہے؛ کیوں کہ بسااوقات فضائی سطح ابر و باد، دھواں یا ماحولیاتی آلودگی سے کثافت زدہ ہوجاتا ہے اور چاند دیکھنے میں دقت آتی ہے، پہلے زمانے میں بھی لوگ اس قسم کی کوششیں کرتے تھے؛ اسی لئے فقہاء کرام کے یہاں بھی اس کی اجازت ملتی ہے۔

جہاں تک بات دور بین اور ہیلی کاپٹر سے رؤیت کی ہے تو ان سے چاند کی رؤیت مطلقا درست ہے؛ کیوں کہ دوربین موجود چیز کو واضح اور صاف کرکے دکھاتی ہے گویا چاند حقیقتاً مطلع پر موجود ہوگا تبھی نظر آئے ورنہ نہیں؛ اس لیے اس کی رؤیت درست ہے اور ہیلی کاپٹر بھی چونکہ بہت اونچی پرواز نہیں کرپاتا ہے؛  گویا اس میں اس بات کا امکان نہیں رہتا ہے کہ اتنی اونچائی سے رؤیت ہو کہ اختلاف مطلع کی صورت پیدا ہوجائے اس لیے اس کی رؤیت بھی درست ہے۔

البتہ ہوائی جہاز سے رؤیت کے سلسلے میں یہ تفصیل ہے کہ اتنی اونچائی سے رؤیت ہو جتنے میں مطلع بدل جاتا ہے اور اس کی خبر ماننے سے مہینہ 28 یا 31 ہوجاتا ہے تو پھر اس رؤیت کا اعتبار نہیں ہوگا؛ ایسی صورت میں یہ مانا جائے گا کہ جو چاند یہاں کے مطلع پر کل نمودار ہوتا وہ آج ہی دیکھ لیا جو کہ یہاں کا چاند ہے ہی نہیں؛ اس لیے یہ رؤیت معتبر نہیں ہوگی۔ اور اگر اتنی اونچائی سے رؤیت ہوئی ہے کہ مذکورہ بالا صورت پیش نہیں آتی ہے تو ہوائی جہاز کی رؤیت بھی معتبر ہوگی(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

(١) قال: " وينبغي للناس أن يلتمسوا الهلال في اليوم التاسع والعشرين من شعبان فإن رأوه صاموا وإن غم عليهم أكملوا عدة شعبان ثلاثين يوما ثم صاموا " (الهداية للمرغيناني 117/1)

ولا فرق بين أهل المصر ومن ورد من خارج المصر وذكر الطحاوي أنه تقبل شهادة الواحد إذا جاء من خارج المصر لقلة الموانع وإليه الإشارة في كتاب الاستحسان وكذا إذا كان على مكان مرتفع في المصر. (الهداية للمرغيناني 119/1 كتاب الصيام دار الكتب العلميه بيروت)

وذكر الطحاوي أنه تقبل، وجه رواية الطحاوي أن المطالع تختلف بالمصر وخارج المصر في الظهور، والخفاء لصفاء الهواء خارج المصر فتختلف الرؤية. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع 80/2 كتاب الصوم دار الكتب العلميه بيروت)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 29/5/1443

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

جمعہ، 26 اگست، 2022

عصر کی نماز میں پانچ رکعات پڑھ لی تو کیا چھٹی ملانا صحیح نہیں ہوگا

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1613🖋️

(کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو)

عصر کی نماز میں پانچ رکعات پڑھ لی تو کیا چھٹی ملانا صحیح نہیں ہوگا

سوال: اگر کوئی شخص عصر کی نماز پڑھے اور غلطی سے پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہوجائے تو پھر اس میں چھٹی رکعت ملائے گا یا نہیں؟ یہ سوال اس لیے ہے کہ عصر کے بعد نفل پڑھنا منع ہے تو یہ چھٹی رکعت نفل پڑھنا منع ہونا چاہیے۔ (یونس، بنگلور)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق


عصر کے بعد نفل نماز کی ممانعت کے سلسلے میں یہ اصول ہے کہ عصر بعد نفل پڑھنا اس وقت منع ہوتا ہے جب وہ اختیاری ہو؛ یعنی آدمی خود مختار ہوکر نفل پڑھے؛ لیکن اگر اختیاری نہ ہو بلکہ کسی خارجی سبب کی وجہ سے ہو تو پھر یہ کراہت نہیں ہوگی، یہ اصول امام محمد بن حسن شیبانی کا بیان کیا ہوا ہے جسے علامہ علاء الدین کاسانی نے بدائع الصنائع میں اور قاضی خان نے فتاویٰ خانیہ میں نقل کیا ہے اور قاضی خان نے قابلِ اعتماد قول قرار دیا ہے(١) واضح رہے کہ قاضی خان فقہاء احناف کے نہایت معتبر فقہاء اور اصحاب التخریج میں ہیں اور ان کی تصحیح بے انتہا معتبر ہے۔

اب اس اصول کی روشنی میں غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عصر کی نماز میں بھی پانچویں رکعت کے ساتھ چھٹی رکعت ملا لینے میں حرج نہیں ہے، کیوں کہ یہ نفل نماز اختیاری نہیں ہے بلکہ فرض کی چار رکعت کے ساتھ میں غیر اختیاری طور پر شامل ہوگئی ہیں، اس لیے اب کراہت باقی نہیں رہے گی۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

(١) إذا صلى العصر خمسا و قعد في الرابعة  قدر التشهد قالوا لا يضيف إليها الأخرى لأن التنفل بعد العصر مكروه، و لا سهو عليه لفوات محله، لأنه أخر الصلاة و قد انتقل من العصر إلى التطوع و لم يتم التطوع، و عن محمد رحمه الله تعالى: أنه يضيف إليها السادسة، و عليه الاعتماد، لأن التطوع بعد العصر إنما يكره إذا كان عن اختيار، أما إذا لم يكن عن اختيار فلا يكره. (الفتاوى الخانية 78/7)

وإن كان في العصر لا يضيف إليها ركعة أخرى بل يقطع ؛ لأن التنفل بعد العصر غير مشروع ، وروى هشام عن محمد أنه يضيف إليها أخرى أيضا ؛ لأن التنفل بعد العصر إنما يكره إذا شرع فيه قصدا ، فأما إذا وقع فيه بغير قصده فلا يكره. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ١٩٧/٢ كتاب الصلاة)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 18/1/1443

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

Translate