ہفتہ، 20 اگست، 2022

بچیوں کے لئے بنوائے گئے زیورات کی وجہ سے کیا بچیوں پر قربانی واجب ہوگی

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1554🖋️


(کتاب الاضحیہ باب الوجوب)


بچیوں کے لئے بنوائے گئے زیورات کی وجہ سے کیا بچیوں پر قربانی واجب ہوگی


سوال: ایک لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور اسکے والدین نے اس کے لیے سونا خریدا، لیکن ابھی اسے  اس سونے کا مالک نہیں بنایا نکاح کے موقع پر وہ سونا اسے دے دیا جائے گا؟ کیا فی الحال ایسی صورت میں اس لڑکی پر قربانی واجب ہے؟ براۓ مہربانی وضاحت فرما دیجئے‌۔ (عبد التواب، آندھرا پردیش)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


سوال نامہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ والدین نے سونا خرید کر اپنی ملکیت میں باقی رکھا ہے، ابھی لڑکی کو دیا نہیں ہے اور یہی ہمارے یہاں کا عرف بھی ہے کہ شادی سے قبل زیورات بچیوں کے حوالے نہیں کئے جاتے ہیں، اس لیے وہ بچی حقیقتاً اس کی مالک نہیں ہے، والدین ہی اس کے مالک و قابض سمجھے جائیں گے؛ چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر اس کے علاوہ اتنی رقم یا زیورات ان کے پاس نہیں ہیں کہ وہ صاحب نصاب ہوں تو ان پر قربانی واجب نہیں ھوگی۔ ہاں والد صاحب پر اور اگر والدہ صاحب نصاب ہوں تو ان پر قربانی واجب ہوگی(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ". حكم الحديث: إسناده ضعيف. (مسند أحمد رقم الحديث ٨٢٧٣ مُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)


الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى (المختصر للقدوري ص ٢٠٨ كتاب الاضحية)


وأما شرائط الوجوب فمنها اليسار وهو اليسار الذي تعلق به وجوب صدقة الفطر دون اليسار الذي تعلق به وجوب الزكاة على ما ذكرنا في كتاب الزكاة. (تحفة الفقهاء جزء ٣ ص ٨٢ كتاب الاضحية)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 18/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

قربانی میں ولیمہ کی گوشت کے لئے حصہ لینا شرعا کیسا ہے؟ کیا اس سے سب کی قربانی ہوجائے گی؟

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1555🖋️


(کتاب الاضحیہ باب المتفرقات)


قربانی کے جانور میں ولیمہ کا حصہ لینا


سوال: قربانی میں ولیمہ کی گوشت کے لئے حصہ لینا شرعا کیسا ہے؟ کیا اس سے سب کی قربانی ہوجائے گی؟ (جاوید اختر، کشی نگر یوپی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


قربانی کے جانور میں جمیع مشارکین کا قربت یعنی عبادت کی نیت کرنا ضروری ہے، غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ولیمہ مسنونہ بھی ایک طرح کی قربت ہے ض، حدیث مبارکہ میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے، تاہم متقدمین کے یہاں ولیمے کے سلسلے میں یہ بات نہیں ملتی ہے کہ قربانی میں ولیمہ کا حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟ البتہ متاخرین احناف نے صراحت کی ہے کہ اگر سنت ولیمہ کی ادائیگی کی نیت ہو تو یہ بھی قربت میں شامل ہے اس لیے قربانی میں ولیمہ کی نیت سے بھی حصہ لے سکتے ہیں(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلِمْ، وَلَوْ بِشَاةٍ ". (صحيح البخاري رقم الحديث 2048  كِتَابٌ : الْبُيُوعُ.  | بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ)


ذكره محمد و لم يذكر الوليمة وينبغي أن تجوز لأنها تقام شكرا لله تعالى على نعمة النكاح و وردت بها السنة فإذا قصد بها الشكر أو إقامة السنة فقد أراد القربة. (رد المحتار على الدر المختار 472/9 كتاب الأضحية)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

 دار الافتاء و التحقيق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 19/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

اگر جانور کے تھن پیدائشی طور پر پانچ ہوں تو کیا یہ بھی عیب شمار ہوگا

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1559🖋️


(کتاب الاضحیہ، باب عیوب الحیوان)


پانچ تھن والے جانور کی قربانی


سوال: اگر جانور کے تھن پیدائشی طور پر پانچ ہوں تو کیا یہ بھی عیب شمار ہوگا۔ از راہ کرم جواب سے نوازیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔ (محمد فیضان رامپور یوپی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


قربانی کے جانور میں وہ عیوب مانعِ قربانی شمار ہوتے ہیں جو جانور کی خوبصورتی کو یا اس کی منفعت کو بالکلیہ ختم کردیں، ظاہر ہے ایک تھن زائد ہونے سے نا اس کی منفعت میں کمی پیدا ہوگی اور نا ہی خوبصورتی میں؛ اس لیے اس کی قربانی درست ہے(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) كل عيب يزيل المنعفة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. (الفتاوى الهندية: 5/ 299).


ومن المشايخ من يذكر في هذا الفصل أصلا، ويقول كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. اهـ ظهيرية. (تبيين الحقائق 6/6 کتاب الاضحیہ).


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 23/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

کم قیمت میں جانور خرید کر زیادہ رقم میں حصے لگانا اور خود شریک ہونا

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1562🖋️


(کتاب الاضحیہ باب الشرکۃ)


کم قیمت میں جانور خرید کر زیادہ رقم میں حصے لگانا اور خود شریک ہونا


سوال: ایک مسئلہ کا حل دریافت کرنا ہے کہ زید نے ایک جانور 30000 روپے کا خریدا اب وہ اسمیں قربانی کے حصے تشکیل دے رہا ہے، اب زید نے اسکی قیمت طے کی 35000 روپے؛ جبکہ زید کا حصہ بھی اسی جانور میں ہے تو کیا زید کے لئے یہ نفع لینا درست ہے برائے مہربانی مدلل جواب تحریر فرمائیں۔ (انوار الحق، بنگال)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


قربانی کرنے کی مذکورہ بالا صورت کا صریح حکم تلاش بسیار کے باوجود کسی فقہی کتاب میں نہیں مل سکا؛ تاہم اصول کے پیش نظر اس کا حکم یہ معلوم ہوتاہے کہ قربانی کا جانور خریداری کے بعد ایک حد تک قربت کے لیے متعین ہوجاتا ہے؛ اس لیے قیمت خرید سے زیادہ اس کی قیمت لینا قربانی کے جانور سے استفادہ کرنے کے حکم میں ہوگا جو درست نہیں ہے؛ لیکن اگر نادانی میں ایسا کرلیا ہے تو اس کی زائد قیمت کو صدقہ کردے، جہاں تک خود اس کی قربانی کی بات ہے تو اس میں اس شخص کا حصہ اس کی خدمات کے عوض مانا جائے گا؛ کیونکہ اس جانور کو خریدنے، پالنے، دانا پانی کے انتظامات کرنے میں مختلف طرح کے اخراجات آتے ہیں اور خدمات انجام دینے میں بسااوقات مشقت بھی ہوتی ہے؛ اس لیے اسے عوض قرار دینا درست ہے، واضح رہے کہ بعینہ اسی طرح کے سوال کے جواب میں مفتی رضاء الحق صاحب مفتی اعظم جنوبی افریقہ نے لکھا ہے کہ:


"مسئلہ مذکورہ بالا سے متعلق کوئی صریح جزئیہ نظر سے نہیں گزرا تاہم ایک فقہی نظیر سے اس کا حکم مستفاد ہوتا ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے، اور اگر کسی نے کرلیا تو زائد رقم صدقہ کردے"(١)


مفتی صاحب نے اس میں جو فقہی نظائر پیش کی ہیں وہ وہی ہیں جو خریدے ہوئے جانور کو زیادہ رقم میں بیچنے سے متعلق ہیں، یہی بات حضرت حکیم بن حزام کی روایت سے بھی مستفاد ہوتی ہے کہ جب انہوں نے ایک دینار سے قربانی کی بکری خرید کر دو دینار میں بیچ دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دینار صدقہ کردیا تھا، نیز اس روایت کی شرح میں صاحب عون المعبود نے علامہ شوکانی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ چونکہ پہلی بکری جو خریدی تھی وہ قربت کے لیے ہوگیی تھی اس لیے اس کے نفع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا اور صدقہ کردیا، نیز فقہاء کرام نے جن مسائل میں قربانی کے جانور سے انتفاع کو مکروہ قرار دیا وہ جزئیات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب


📚والدلیل علی ما قلنا📚


(١) عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً، فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ، وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ، فَرَجَعَ فَاشْتَرَى لَهُ أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ، وَجَاءَ بِدِينَارٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ.

حكم الحديث: ضعيف. (سنن أبي داود رقم الحديث ٣٣٨٦ كِتَابٌ : الْبُيُوعُ، وِالْإِجَارَاتُ  | بَابٌ : فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ)


ويحتمل أن يتصدق به لأنه قد خرج عنه للقربة لله تعالى في الأضحية فكره أكل ثمنها. قاله في النيل. (عون المعبود شرح سنن أبي داود رقم الحديث ٣٣٨٦ سنن أبي داود | كِتَابٌ : الْبُيُوعُ، وِالْإِجَارَاتُ  | بَابٌ : فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ)


(وكره) (جز صوفها قبل الذبح) لينتفع به، فإن جزه تصدق به، ولا يركبها ولا يحمل عليها شيئا ولا يؤجرها فإن فعل تصدق بالأجرة حاوي الفتاوى لأنه التزم إقامة القربة بجميع أجزائها (بخلاف ما بعده) لحصول المقصود مجتبى. (الدر المختار مع رد المحتار 329/6 كتاب الأضحية دار الكتب العلميه)


(ولو شرى بدنة للأضحية ثم أشرك فيها ستة جاز استحسانا) وفي القياس لا يجوز وهو قول زفر ورواية عن الإمام لأنه أعدها للقربة فلا يجوز بيعها. (مجمع الانهر 518/2 كتاب الاضحيه دار الكتب العلميه)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 26/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

دو جانور قربانی کرنے کی نیت کرنا پھر ایک ہی قربانی کرنا

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1574🖋️


(کتاب الاضحیہ باب الوجوب)


دو جانور قربانی کرنے کی نیت کرنا پھر ایک ہی قربانی کرنا


سوال: ایک شخص نے ایک بکرا قربانی کے لئے پالا اور عیدالاضحی کے موقع پر ایک بکری بھی قربانی کی نیت سے خریدی؛ مگر قربانی سے پہلے اس شخص کے پاس ایک غریب لڑکی کی شادی کا تقاضہ آیا، اس نے بکرے کی تو قربانی کردی؛ مگر بکری اس لڑکی کی شادی میں دینے کے لئے روک لی اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ قرآن اور حدیث روشنی میں بتائیں اس مسئلہ میں کچھ لوگوں کا اختلاف ہے؛ لہذا مدلل و مفصل جواب مطلوب ہے۔ (مفتی نسیم قاسمی، بھنگا شراوستی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


یہ مسئلہ اسی انداز میں صراحتاً تو کسی فقہی کتاب میں نہیں ملا ہے؛ تاہم اصول و ضوابط سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر بکرا پالنے والا اور پھر بکری خریدنے والا صاحب نصاب نہیں ہے یعنی شرعی اصطلاح میں وہ فقیر ہے تو پھر اس کے اوپر دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہوگی؛ کیونکہ شریعت کی رو سے اس پر قربانی واجب نہیں تھی اس نے خود ایجاب مالا یجب کیا ہے؛ اس لیے دونوں واجب ہوجائیں گی، اور اگر وہ صاحب نصاب ہے؛ یعنی مالدار ہے تو دونوں میں سے کسی کی قربانی کردینا کافی ہے، چاہے پالے ہوئے بکرے کی چاہے خریدی ہوئی بکری کی؛ کیوں کہ اس کے ذمے اصلا اراقۃ دم ہے اور وہ ایک جانور سے ادا ہوجائے گا(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) وقال بعضهم: إن وجبت عن يسار فكذا الجواب، وإن عن إعسار ذبحهما ينابيع. (الدر المختار مع رد المحتار 323/6 كتاب الأضحية دار الكتب العلميه بيروت)


ولو ضلت أو سرقت فشرى أخرى فظهرت فعلى الغني إحداهما وعلى الفقير كلاهما شمني. (الدر المختار مع رد المحتار 326/6 كتاب الأضحية دار الكتب العلميه بيروت)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 9/12/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

غلط فہمی میں دو شریک قربانی نہیں کرسکے تو اب کیا کریں

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1578🖋️


(کتاب الاضحیہ باب الشرکۃ)


غلط فہمی میں دو شریک قربانی نہیں کرسکے تو اب کیا کریں


سوال: قربانی کے جانور میں پانچ شرکاء تھے، جانور ایام قربانی میں بیمار ہوگیا، تین شرکاء نے دوسرے جانور میں حصہ لے لیا، جب کہ مابقیہ دو شریک نے کوئی حصہ نہیں لیا، اب جانور ٹھیک ہو چکا ہے، تو اس  جانور کا کیا حکم ہے؟ (وسیم اختر، بہار)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


قربانی کے جانور کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے عیوب سے پاک ہو جو قربانی کے لیے مانع ہیں، چنانچہ وہ جانور اگر ایسی بیماری میں مبتلا ہوا جو مانع قربانی تھی تو اس کی قربانی درست نہیں تھی، بلکہ اس کی جگہ دوسرا جانور قربان کرنا ضروری تھا، وہ جانور بیچ کر دوسرا جانور لے کر قربان کرنا چاھیے تھا، اور اگر ایسی بیماری میں مبتلا نہیں تھا جو مانعِ قربانی ہو بلکہ ہلکا پھلکا بیمار تھا مثلاً بخار وغیرہ تھا تو اس کی قربانی درست تھی، اسے قربان کرنا چاھیے تھا: لیکن اس کے باوجود اگر قربان نہیں کیا اور ایام نحر گزر گئے تو پھر اس زندہ جانور کو صدقہ کرنا ضروری ہوگا، ان بقیہ دو شریکوں کو چاہئے کہ اس کو کسی فقیر و محتاج کو وہ زندہ جانور دے دیں(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) قال: (فإن مضت ولم يذبح، فإن كان فقيرا وقد اشتراها تصدق بها حية) ; لأنها غير واجبة على الفقير، فإذا اشتراها بنية الأضحية تعينت للوجوب، والإراقة إنما عرفت قربة في وقت معلوم وقد فات فيتصدق بعينها.

(وإن كان غنيا تصدق بثمنها اشتراها أو لا) لأنها واجبة عليه، فإذا فات وقت القربة في الأضحية تصدق بالثمن إخراجا له عن العهدة كما قلنا في الجمعة إذا فاتت تقضى الظهر والفدية عند العجز عن الصوم إخراجا له عن العهدة. (الاختيار لتعليل المختار 19/5 كتاب الاضحيه دار الكتب العلميه)


إذا وجبت بإيجابه صريحا أو بالشراء لها، فإن تصدق بعينها في أيامها فعليه مثلها مكانها، لأن الواجب عليه الإراقة وإنما ينتقل إلى الصدقة إذا وقع اليأس عن التضحية بمضي أيامها، وإن لم يشتر مثلها حتى مضت أيامها تصدق بقيمتها، لأن الإراقة إنما عرفت قربة في زمان مخصوص ولا تجزيه الصدقة الأولى عما يلزمه بعد لأنها قبل سبب الوجوب اهـ (قوله تصدق بها حية) لوقوع اليأس عن التقرب بالإراقة، وإن تصدق بقيمتها أجزأه أيضا لأن الواجب هنا التصدق بعينها وهذا مثله فيما هو المقصود اهـ ذخيرة. (رد المحتار على الدر المختار 320/6 كتاب الأضحية دار الكتب العلميه بيروت)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 13/12/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

ایک سے زائد مردہ ایک قبر میں دفن کر نا

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1700🖋️

(کتاب الصلاۃ، باب الجنائز)

ایک سے زائد مردہ ایک قبر میں دفن کر نا


سوال: کیا عام حالات میں ایک سے زائد افراد کو ایک قبر میں دفن کرسکتے ہیں ؟ اور ہنگامی صورت ہو تو شرعی حکم کیاھے تفصیلی جواب اھل علم حضرات سے مطلوب ہے۔ ( محمد فردوس حلیمی، بھاگلپور بہار)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے یہی طریقہ چلا آرہا ہے کہ ایک قبر میں ایک میت کو دفن کیا جائے، صرف بعض ہنگامی حالت میں ایک قبر میں دو یا دو سے زیادہ لوگوں کو دفنانے کی روایت ملتی ہے، چنانچہ غزوۂ احد کے موقع پر یہی صورتحال تھی اور ایک ایک قبر میں دو دو شہیدوںوں ور تین تین افراد کو دفن کیا گیا، گویا یہ معاملہ تکلیف ما لایطاق میں یسر و سہولت کی غرض سے تھا، اس سے اس بات کا اندازہ ہوتاہے کہ عام حالات میں ایک قبر میں متعدد لوگوں کو دفن کرنا صحیح نہیں ہے، فقہ حنفی کی بعض کتابیں مثلا بدائع الصنائع اور فتاوی ہندیہ وغیرہ میں اس کی صراحت موجود ہے(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

(١) عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : جَاءَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالُوا : أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ ". قِيلَ : فَأَيُّهُمْ يُقَدَّمُ ؟ قَالَ : " أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا ". قَالَ : أُصِيبَ أَبِي يَوْمَئِذٍ عَامِرٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ. أَوْ قَالَ : وَاحِدٌ. حكم الحديث: صحيح. (سنن أبي داود رقم الحديث 3215  كِتَابٌ : الْجَنَائِزُ  | بَابٌ : فِي تَعْمِيقِ الْقَبْرِ )

فيه جواز الجمع بين جماعة في قبر واحد ولكن إذا دعت إلى ذلك حاجة كما في مثل هذه الواقعة. (عون المعبود شرح سنن أبي داود رقم الحديث 3215 كِتَابٌ : الْجَنَائِزُ  | بَابٌ : فِي تَعْمِيقِ الْقَبْرِ)

ولا يدفن الرجلان أو أكثر في قبر واحد هكذا جرت السنة من لدن آدم إلى يومنا هذا، فإن احتاجوا إلى ذلك قدموا أفضلهما وجعلوا بينهما حاجزا من الصعيد لما روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - «أنه أمر بدفن قتلى أحد وكان يدفن في القبر رجلان، أو ثلاثة، وقال: قدموا أكثرهم قرآنا» وإن كان رجل وامرأة قدم الرجل مما يلي القبلة، والمرأة خلفه اعتبارا بحال الحياة. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٣١٩/١ كتاب الصلاة باب الجنائز دار الكتب العلميه بيروت)

ولا يدفن اثنان أو ثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة فيوضع الرجل مما يلي القبلة ثم خلفه الغلام ثم خلفه الخنثى ثم خلفه المرأة ويجعل بين كل ميتين حاجز من التراب، كذا في محيط السرخسي، وإن كانا رجلين يقدم في اللحد أفضلهما، هكذا في المحيط. (الفتاوى الهندية 166/1 كتاب الصلاة باب الجنائز)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 16/4/1443

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

طلوعِ آفتاب کا مسجد سے اعلان کرنے کا حکم

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1711🖋️

(کتاب الصلاۃ باب أوقات الصلاۃ)

طلوعِ آفتاب کا مسجد سے اعلان کرنے کا حکم



سوال: ہمارے گاؤں جامع مسجد میں برسوں سے نماز فجر کے بعد جس وقت سورج طلوع ہوجاتاہے تو مسجد کے اوپر کے مائیک سے اعلان کیا جاتا ہے کہ اب اداء نماز کا وقت نہیں رہا، اب سے بیس منٹ بعد قضا نماز پڑھی جائے، یہ اعلان کرنا کیسا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ و تابعین کے دور میں کیا ایسا ہوتا تھا؟ دلیل کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ (ذاکر حسین ندوی، سہارنپور یوپی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق


نماز کے وقت کے اختتام کا اس طرح اعلان کرنے کے بارے میں کوئی آیت یا حدیث کی روایت اور دور صحابہ و تابعین کی کوئی سنت نہیں ملتی ہے، یہ عمل متوارث اور متواتر عمل کے خلاف ہے اور امت پر کئی اعتبار سے مشقت کا باعث ہے، احادیث مبارکہ میں اس امت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور صحابہ کے طریقۂ کار پر چلنے کی تاکید کی گئی ہے اور دین میں اپنی طرف سے اضافہ کو بدعت اور ضلالت سے تعبیر کیا گیا ہے(١) یہ طریقہ واجب الترک ہے اس میں کئی مفاسد پائے جاتے ہیں، دار الافتاء دارالعلوم دیوبند نے اپنے ایک فتوے میں بالتفصیل اس کی قباحت اور مفاسد کا ذکر کیا ہے جو بعینہٖ پیش خدمت ہے امید ہے کہ صحیح بات آجانے کے بعد پرانی روش میں تبدیلی آجائے گی:


" یہ اعلان لائق ترک ہے اس میں ایک مفسدہ یہ ہے کہ اس اعلان کو سن کر بعض لوگ نماز سے رک جاتے ہیں اور دوسرے کسی کام میں مشغول ہوکر بالکل ہی نماز کو ترک کردیتے ہیں؛ حالانکہ بالکلیہ ترک سے ایسے لوگوں کے حق میں یہی بہتر ہے کہ وہ طلوع ہوتے ہوئے پڑھ لیتے؛ کیونکہ ہمارے نزدیک اگرچہ نماز نہیں ہوتی مگر ایک قول بعض حضرات کا یہ بھی ہے کہ نماز درست ہوجاتی ہے، پس عوام کو نماز سے نہ روکا جائے، فتاوی شامی اور البحر الرائق وغیرہ سے اسی طرح ثابت ہے، ایک مفسدہ یہ ہے کہ بعض مرتبہ گھڑی گھنٹوں جنتریوں اور نقشوں میں فرق ہوتا ہے اعلان سے لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ نماز کا وقت ختم ہوگیا مگر حقیقةً وقتِ ادا باقی ہوتا ہے یعنی اتنا وقت ہوتا ہے کہ جلدی سے فرض پڑھ لیے جاتے تو وہ ادا ہی ہوتے ایسی صورت میں اعلان سن کر جتنے لوگ نماز سے رکیں گے ان کی نمازوں کے قضا ہونے کا سبب یہ اعلان ہوجائے گا اس لیے بھی یہ اعلان قابل ترک ہے، نیز سلف صالحین سے اس کا ثبوت نہیں ملتا حالانکہ جس زمانہ میں گھڑی گھنٹے وغیرہ عام نہ تھے یا بالکل نہ تھے اس وقت تو اِس اعلان کی زیادہ ضرورت تھی مگر پھر بھی اس کو اختیار نہ کیا گیا اور آج تو گھڑی گھنٹوں کی بہتات ہے، پس ہرنمازی کو خود ہی وقت ادا کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ ایک خرابی یہ ہے کہ اعلان سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں فجر کی نماز کے قضا کرنے کی فضا بنتی جارہی ہے الغرض ان جیسی خرابیوں کی وجہ سے ا علان کرنا صحیح نہیں ہے"۔

فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب


📚والدليل على ما📚

(١) فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا، وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ ؛ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ". (سنن أبي داود رقم الحديث 4607 أَوْلُ كِتَابِ السُّنَّةِ  | بَابٌ : فِي لُزُومِ السُّنَّةِ)

{كل بدعة ضلالة} والمراد بالبدعة ما أحدث مما لا أصل له في الشريعة يدل عليه، وأما ما كان له أصل من الشرع يدل عليه فليس ببدعة شرعا وإن كان بدعة لغة (عون المعبود شرح سنن أبي داود رقم الحديث 4607 أَوْلُ كِتَابِ السُّنَّةِ  | بَابٌ : فِي لُزُومِ السُّنَّةِ)

(٢) دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند جواب نمبر: 58841


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 27/4/1443

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

Translate