⚖️سوال وجواب⚖️
🖋️مسئلہ نمبر 1638🖋️
(کتاب الصلاۃ باب صلاۃ المسافر)
عورت اپنی سوکن کے گھر جائے تو مقیم ہوگی یا مسافر
سوال: زید کی دو بیویاں ہیں ایک کراچی میں دوسری لاہور میں، اب سوال یہ کہ اگر زید کی کراچی والی بیوی، زید کے ساتھ کچھ دنوں کیلئے لاہور چلی جائے، تو کراچی والی بیوی کا قصر کا حکم ہے یا اتمام کا؟ (مرسل بندۂ خدا، ممبئ)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و باللہ التوفیق
زید کی وہ بیوی جو کراچی میں رہتی ہے وہ اگر اس کی رہائش مستقل طور پر کراچی میں ہے اور صرف مہمانی کی غرض سے وہ لاہور جارہی ہے اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو وہ اس کا نا ہی وطن اصلی بنے گا اور نا ہی وطن اقامت؛ اس لیے وہاں وہ قصر کرے گی شوہر کی تبعیت میں وہ مقیم نہیں مانی جائے گی، یہ مسٔلہ صراحتاً تو کہیں نہیں ملا تاہم نئی نویلی دلہن کے سسرال جانے والے مسئلے پر قیاس کرنے سے یہی حکم مستنبط ہوتا ہے جسے أکثر علماء نے لکھاہے کہ وہ شروع شروع میں قصر کرے گی(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
📚والدليل على ما قلنا📚
(١) "( الوطن الأصلي ) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه ( يبطل بمثله ) إذا لم يبق له بالأول أهل فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما ( لا غير و ) يبطل ( وطن الإقامة بمثله و ) بالوطن (الأصلي و ) بإنشاء ( السفر ) والأصل أن الشيء يبطل بمثله وبما فوقه لا بما دونه، ولم يذكر وطن السكنى وهو ما نوى فيه أقل من نصف شهر لعدم فائدته، وما صوره الزيلعي رده في البحر". (2/132)
(بہشتی زیور 2/50،فتاویٰ محمودیہ 7/501).
كتبه العبد محمد زبير الندوي
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 13/2/1443
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے


0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
Thank You So Much