⚖️سوال وجواب⚖️
🖋️مسئلہ نمبر 1649🖋️
(کتاب الصلاۃ باب الامامۃ)
منفرد کے پیچھے شریک نماز ہونا اور منفرد کا سری قراءت کرنا
سوال: ایک آدمی عشاء کی فرض نماز تنہا پڑھ رہا تھا دوسرا آکر نماز میں اس کے ساتھ شامل ہو گیا؛ لیکن اس منفرد کو معلوم نہیں ہوا کوئی اس کے ساتھ شامل ہے، اس نے سری قرائت کے ساتھ نماز مکمل کی تو ان کی نماز ہوئی یا نہیں؟ (رضوان، شراوستی یوپی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و باللہ التوفیق
فرض نمازوں میں اقتدا درست ہونے کے لیے مقتدی کا اقتدا کی نیت کرنا ضروری ہے، امام کے لیے امامت کی نیت کرنا شرط نہیں ہے؛ اس لیے منفرد کے پیچھے اگر کسی نے آکر نیت کرلی اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے لگا تو نماز ہوجائے گی؛ بشرطیکہ دونوں کی نمازیں ایک ہوں اور اقتداء کی دیگر شرطیں پائی جائیں، البتہ چونکہ منفرد کو اس کی اقتداء کا علم نہیں ہوا ہے یا ہوا ہے مگر امامت کا ارادہ نہیں کیا ہے تو اس پر امامت کے وہ لوازم ضروری نہیں ہونگے جو امام کے لئے ضروری ہوتے ہیں مثلاً جہری قراءت وغیرہ(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
📚والدليل على ما قلنا📚
(١) ولا یصح الاقتداء بإمام إلا بنیةٍ، وتصحُّ الإمامة بدون نیتہا․ (الأشباہ والنظائر، ۱۰/ ۷۲، ط: زکریا دیوبند)
ائتمّ بہ بعد الفاتحة، یجہرُ بالسورة إن قصد الإمامة وإلا فلا یلزمُہ الجہرُ في الفجر وأولیی العشاء ین الخ․ وقال العلامة ابن عابدین: وسیذکر في باب الوتر․․․ أنہ لا کراہة علی الإمام لو لم ینو الإمامة، فإذا کان کذلک فکیف تلزم أحکامُ الإمامة بدون الالتزام․ (الدر مع الرد: ۳/۲۵۰، ط: زکریا دیوبند)
كتبه العبد محمد زبير الندوي
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 24/2/1443
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے


0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
Thank You So Much