بدھ، 31 اگست، 2022

دماغی دورہ کی وجہ سے طلاق دینا

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1445🖋️

(کتاب الطلاق، اسباب طلاق)

دماغی دورہ کی وجہ سے طلاق دینا

سوال: نکاح کے بعد لڑکی کے دماغی مرض (مرگی اور دماغی دورہ وغیرہ) میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا جس میں بے ہوشی وغیرہ طاری ہو جاتی ہے اور ممکن ہے کہ کسی بھی وقت کوئی حادثہ درپیش ہوجائے جس میں جان کا بھی خطرہ ہے نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ نکاح کے کئی سال پہلے سے لڑکی کا ماہر نفسیات کا بھی علاج شروع ہے حتی کہ اسے پاگل خانے میں بھی بھرتی کیا گیا تھا لہٰذا لڑکی کی سرپرست (والدہ) سے رابطہ کیا گیا کہ نکاح کے پہلے آپ نے اس مرض کے متعلق آگاہ کیوں نہیں کیا تو وہ فرمانے لگی کہ "میں اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں مگر میں مجبور تھی کہ کہیں رشتہ نہ ٹوٹ جائے" 

مختصراً یہ کہ صورت مسئولہ میں لڑکے کے لئے (طلاق یا علیٰحدگی وغیرہ کے متعلق) کیا رہنمائی ہے مرحمت فرمائیں عنایت ہوگی. (سائل: میر نوید علی جلگاؤں)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

طلاق اسلامی شریعت میں بہت مکروہ چیز سمجھی گئ ہے، حدیث مبارکہ میں اسے ابغض الحلال بتایا گیا ہے؛ اس لیے حتیٰ الامکان طلاق سے بچنا چاہیے، تاہم بسااوقات طلاق ایک ضرورت بن جاتی ہے اس لیے اس کی اجازت بھی دی گئی ہے، طلاق کے سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ طلاق اس وقت دینی چاہیے جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو یعنی زوجین میں نبھاؤ کی صورت بالکل نہ بن پارہی ہو۔

فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ طلاق اس وقت دینی چاہیے جب بیوی کی بدسلوکی سے آدمی پریشان ہوجائے یا وہ اس کی ایذا سے تنگ آجائے، صورت مسئولہ میں اگر دماغی حالت ایسی ہو کہ آدمی اپنی بیوی سے جنسی تعلقات قائم نہ کرپاتا ہو یا اس کے دماغی توازن میں کمی کی وجہ سے جان مال کا شدید خطرہ ہو تو طلاق دے سکتا ہے، اور اگر ایسی صورت نہ ہو تو بہتر یہی ہے کہ طلاق نہ دی جائے؛ بلکہ ضرورت محسوس ہو اور وسعت ہو تو دوسری شادی کرلی جائے اور دونوں بیویوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کا برتاؤ رکھا جائے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

(١) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ ". (سنن أبي داود رقم الحديث ٢١٧٨ كِتَابٌ : الطَّلَاقُ  | بَابٌ : فِي كَرَاهِيةِ الطَّلَاقِ)

والأولى أن يكون لحاجة كسوء سلوك الزوجة أوإيذائها أحداً، لما فيه من قطع الألفة، وهدم سنة الاجتماع، والتعريض للفساد، ولقوله تعالى: {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلاً} [النساء:٣٤/ ٤] (الفقه الإسلامي و أدلته 2921/9 الأحوال الشخصية)

لأن الطلاق لغير حاجة كفر بنعمة الزواج، وإيذاء محض بالزوجة وأهلها وأولادها. (الفقه الإسلامي و أدلته 2921/9 الأحوال الشخصية)

فَٱنكِحُوا۟ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَاۤءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَـٰثَ وَرُبَـٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُوا۟ فَوَ ٰ⁠حِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَیۡمَـٰنُكُمۡۚ ذَ ٰ⁠لِكَ أَدۡنَىٰۤ أَلَّا تَعُولُوا۟ (النساء 3)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 28/7/1442

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

منگل، 30 اگست، 2022

حج میں دم فوری دینا ہے یا تاخیر بھی درست ہے

 ⚖سوال و جواب⚖

🕋مسئلہ نمبر 898🕋

(کتاب الحج، باب الھدی)


 حج میں دم فوری دینا ہے یا تاخیر بھی درست ہے 

 سوال: اگر حج یا عمرہ میں دم واجب ہوجائے تو دم فوری واجب ہے یا تاخیر کی جاسکتی ہے؟ (مفتی عبد الرحمٰن قاسمی، حیدرآباد)


 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

 الجواب وباللہ التوفیق


حج میں کسی جنایت کی بنا پر اگر دم واجب ہوجائے تو اس دم کو حدودِ حرم میں دینا واجب ہے؛ حدود حرم سے باہر دم دینے سے واجب ادا نہیں ہوگا، البتہ دم کی ادائیگی کے لئے وقت کی تعیین نہیں ہے، تاخیر سے بھی حسب سہولت جب چاہیں دم دے سکتے ہیں، فقہاء کرام نے واضح طور پر اس مسئلے کو تحریر فرمایا ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


 📚والدليل على ما قلنا📚 

(١) لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ (الحج 33)

 و يجوز ذبح بقية الهدايا في أي وقت شاء، و لا يجوز ذبح الهدايا إلا في الحرم. (المختصر للقدوري ص ٧٠ كتاب الحج، باب الحج)

فخصه بمكان و لم يخصه بزمان، و لأنه دم كفارة حتى لا يجوز الأكل الأكل منه، فيختص بالمكان دون الزمان كدماء الكفارات. (المعتصر الضروري مع مختصر القدوري ص ٢٤٧ كتاب الحج باب الاحصار)

انوارِ مناسک ٢٢٠ احرام کی پابندیاں اور امور ممنوعہ ط مکتبۂ یوسفیہ دیوبند


 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 22/12/1440

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

غائب شخص کی طرف سے رمی کرنے کا حکم

⚖سوال و جواب⚖ 

🕋مسئلہ نمبر 993🕋

(کتاب الحج باب الرمی)

 غائب شخص کی طرف سے رمی کرنے کا حکم 

 سوال: اگر کوئی بوڑھا شخص حج کے ایام میں منی میں غائب ہو جائے تو کیا رمی جمار میں غائب شخص کی طرف سے نیابت درست ہے؟ (محمد ساجد ندوی جالون یو پی)


 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

 الجواب بعون اللہ الوہاب

رمی جمار میں خود سے رمی کرنا ضروری ہے کسی اور سے رمی کرانا درست نہیں ہے الا یہ کہ ایسی مجبوری یا بیماری ہو کہ خود سے رمی نہ کرسکے، ایسی صورت میں کسی کو نائب بنا کر رمی کرائی جاسکتی ہے، مذکورہ بالا صورت میں وہ شخص بیمار یا معذور نہیں ہے؛ بلکہ غائب ہوگیا ہے اور غائب شخص عموماً لوگوں کی بھیڑ کے ساتھ  جمرات تک پہنچ جاتا ہے اس لئے وہ خود کر سکتا ہے، چنانچہ غائب شخص کی طرف سے رمی کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ جمرات کو پہنچ کر بذات خود رمی کرلے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


 📚والدليل على ما قلنا📚 

(١) '' السادس: أن یرمي بنفسه، فلا تجوز النیابة فیه عند القدرة. و الرجل و المرأة في الرمي سواء، إلا أن رمیها في اللیل أفضل، فلاتجوز النیابة عن المرأة بغیر عذر. وتجوز عند العذر، فلو رمی عن مریض بأمره أو مغمی علیه و لو بغیر أمره أو صبي أو معتوه أو مجنون جاز. والأولی أن یرمي السبعة أولاً عن نفسه، ثم عن غیره. و لو رمی بحصاتین إحداهما عن نفسه والأخری من غیره جاز، ویکره''. (غنیة الناسك،ص:۲۴۳، فصل في شرائط الرمي)


 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 29/3/1441

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

اگر کوئی شخص عمرہ کرے اورحلق یا قصر کئے بغیراحرام کھولدے پھراحرام باندھ کر دوسراعمرہ کرے اس میں بھی حلق اورقصر کئے بغیر احرام کھول دے تواس کاکیاحکم ہے

 ⚖سوال و جواب⚖ 

مسئلہ نمبر 1066

(کتاب الحج باب الجنایات)

 سوال: اگر کوئی شخص عمرہ کرے اورحلق یا قصر کئے بغیراحرام کھولدے پھراحرام باندھ کر دوسراعمرہ کرے اس میں بھی حلق اورقصر کئے بغیر احرام کھول دے تواس کاکیاحکم ہے۔ (محمد مجیب ممبئی)


 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

 الجواب بعون اللہ الوہاب 

حلق یا قصر عمرہ کے واجبات میں سے ہے، اور واجب کے چھوڑنے سے دم لازم ہوتا ہے چنانچہ صورت مسئولہ میں دو مرتبہ ایسا کرنے سے دم لازم ہوگا جس کو حرم میں دینا ضروری ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


 📚والدليل على ما قلنا📚 

(١) و أما واجباتها فالسعي بين الصفا والمروة، و الحلق أو التقصير (الفتاوى الهندية ٢٦١/١ كتاب الحج باب العمرة)

واعلم أن المحرم إذا نوی رفض الإحرام فجعل یصنع ما یصنعہ الحلال من لبس الثیاب والتطیب والحلق والجماع وقتل الصید فإنہ لا یخرج بذلک من الإحرام، وعلیہ أن یعود کما کان محرما، ویجب دم واحد لجمیع ما ارتکب ولو کل المحظورات إلخ (شامی: ۳/ ۵۸۵، ط: زکریا)

أو عمرة لاختصاص الحلق بالحرم، لا دم في معتمر خرج ثم رجع من حل إلی الحرم ثم قصر (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحج، باب الجنایات ۳:۵۸۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند)


 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 13/6/1441

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

پیر، 29 اگست، 2022

سرکاری کوٹے سے جانے والے کا حج بدل کرنا

⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1769🖋️

(کتاب الحج، باب الحج عن الغیر)

سرکاری کوٹے سے جانے والے کا حج بدل کرنا

 سوال: اگر کوئی سرکاری ملازم حاجی کی خدمت کے لئے سرکار کے طرف سے جا رہا ہے تو کیا وہ شخص کسی مرحوم کے لیے حج کرسکتا ہے اور یہ بھی بتائیں کہ اگر اس سرکاری ملازم پر حج فرض ہے تو کیا اس سرکاری کوٹے سے اس کا حج ادا ہو جائے گا، حدیث اور قرآن کی روشنی میں دلیل دیں۔ (العارض محمد فیض امام پیر باغ مسجد شکتی نگر لکھنؤ)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

کوئی شخص اگر صرف نفلی طور پر حج کرنا چاہتا ہے اور اس کا ثواب کسی مرحوم کو پہنچانا چاہتا ہے تو یہ درست ہے، لیکن اگر کوئی شخص باضابطہ فرض حج کسی کی طرف سے کرنا چاہتا ہے (جسے اصطلاح میں حج بدل کہتے ہیں) تو ضروری ہے کہ جس کی طرف سے حج کرنا چاہتا ہے اس کا پیسہ حج میں لگا ہو، مذکورہ بالا صورت میں چونکہ پیسہ سرکاری لگا ہے اس لیے اس پیسے سے حج بدل نہیں کرسکتا ہے ہاں اگر اس پر خود حج فرض ہو اور سرکاری کوٹے سے کرلے تو اس کا اپنا فرض حج ادا ہوجائے گا (١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم۔


📚والدليل على ما قلنا📚

(١) الأصل في هذا الباب أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها عند أهل السنة والجماعة لما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عن أمته ممن أقر بوحدانية الله تعالى وشهد له بالبلاغ جعل تضحية إحدى الشاتين لأمته....وتجري في النوع الثالث عند العجز للمعنى الثاني وهو المشقة بتنقيص المال ولا تجري عند القدرة لعدم إتعاب النفس والشرط العجز الدائم إلى وقت الموت لأن الحج فرض العمر وفي الحج النفل تجوز الإنابة حالة القدرة (الهداية 178/1)

ولجواز النيابة في الحج شرائط. (منها) : أن يكون المحجوج عنه عاجزا عن الأداء بنفسه وله مال، فإن كان قادرا على الأداء بنفسه بأن كان صحيح البدن وله مال أو كان فقيرا صحيح البدن لا يجوز حج غيره عنه. (ومنها) استدامة العجز من وقت الإحجاج إلى وقت الموت هكذا في البدائع..... (ومنها) أن يكون حج المأمور بمال المحجوج عنه فإن تطوع الحاج عنه بمال نفسه لم يجز عنه حتى يحج بماله (الفتاوى الهندية 201/1)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 27/6/1443

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

حج کرانے کا پیسہ دے اور اخراجات بڑھ جائیں تو کیا کریں

 ⚖سوال و جواب⚖ 

 مسئلہ نمبر 1082 

(کتاب الحج باب الحج عن الغير)

 حج کرانے کا پیسہ دے اور اخراجات بڑھ جائیں تو کیا کریں 

 سوال: ایک صاحب اپنے رشتے دار کو ڈیڑھ لاکھ روپے دیئے تھے حج کرنے کے لئے لیکں اب حج کی لاگت سوا دو لاکھ روپے ہے تو اب وہ کیا کرے، آیا اپنے پاس سے پیسے لگا کر حج کر سکتا ہے؟ (قاری سعود مدرسہ اسلامیہ گلشن نگر جوگیشوری ممبئی)


 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

 الجواب وباللہ التوفیق 

 حج کے اخراجات کے لئے اگر رقم کم پڑ گئی ہے تو ظاہر ہے اس میں مزید رقم ملائی جائے گی، اب اگر یہ حج بدل کی رقم تھی تو حج بدل کے لیے ضروری ہوگا کہ اصلی رقم ملائی جانے والی رقم سے زیادہ ہو ورنہ حج بدل نہیں ہوگا اور اگر نفلی حج کی رقم ہو کم زیادہ کی تفصیل نہیں ہے، آدمی کو اختیار ہے جتنی اس کے پاس وسعت ہو  خود اپنی رقم شامل کرلے اور اگر وسعت نہ ہو لیکن کوئی ثواب کی نیت سے روپیے دینے کو تیار ہو تو اس کی رقم شامل کرلی جایے، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی اور کو دے دی جائے جو اپنی رقم شامل کرکے حج کرلے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


 📚والدليل على ما قلنا📚 

(١) عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ الْبَعِيرِ. قَالَ : " حُجِّي عَنْهُ ". (سنن الترمذي رقم الحديث ٩٢٨ أَبْوَابُ الْحَجِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  | بَابٌ : مَا جَاءَ فِي الْحَجِّ عَنِ الشَّيْخِ الْكَبِيرِ، وَالْمَيِّتِ)

 وإن لم يكن في مال الميت وفاء بالنفقة فانفق شيئا من ماله ينظر إن كان أكثر النفقة من مال الميت جاز و إلا فلا و هذا استحسان  (الفتاوى الهندية ٢٥٧/٢ كتاب الحج الباب الرابع عشر)

لأن باب النفل أوسع. (الفتاوى الهندية ٢٥٧/٢ كتاب الحج الباب الرابع عشر)


 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 12/7/1441

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ

Share

طواف کے دوران قرآن پڑھنا

 ⚖️سوال وجواب ⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1773 🖋️

(کتاب الحج باب آداب الطواف)

طواف کے دوران قرآن پڑھنا

سوال: ایک حافظ صاحب ہیں وہ حج کرنے گئے تو طواف کے دوران قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے کیا ان کا یہ عمل درست ہے؟ (عبد الکریم ممبئ)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

دین میں اصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے، اپنی من مانی درست نہیں ہے، بطورِ خاص وہ امور جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل موجود ہو وہ بہرحال مقدم ہوگا، طواف کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دعاء کرنے اور اللہ کی جانب متوجہ رہنے کا تھا، اس دوران تلاوت کرنا ثابت نہیں ہے، اس لیے مسنون طریقہ دعاؤں کا اہتمام ہے تلاوت نہیں ہے۔ 

اسی لیے بعض فقہاء نے اس موقع پر تلاوت کو مکروہ قرار دیا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا ترک لازم آتا ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا 📚

(١) حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وُكِلَ بِهِ سَبْعُونَ مَلَكًا، فَمَنْ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، { رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ }. قَالُوا : آمِينَ ". فَلَمَّا بَلَغَ الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، مَا بَلَغَكَ فِي هَذَا الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ ؟ فَقَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ فَاوَضَهُ فَإِنَّمَا يُفَاوِضُ يَدَ الرَّحْمَنِ ". قَالَ لَهُ ابْنُ هِشَامٍ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، فَالطَّوَافُ. قَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بِهَا عَشْرَ  دَرَجَاتٍ، وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ، كَخَائِضِ الْمَاءِ بِرِجْلَيْهِ ". (سنن ابن ماجه  كِتَابُ الْمَنَاسِكِ  | بَابٌ : فَضْلِ الطَّوَافِ)

 و تكره قراءة القرآن في طواف. (الفتاوى الهندية ٣١٦/٥)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 2/7/1443

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

اتوار، 28 اگست، 2022

بینکوں اور کمپنیوں کے ریزرو فنڈز Reserve Funds Of Bank And Companies میں زکوٰۃ کا حکم

⚖سوال و جواب⚖

💸مسئلہ نمبر 792💸

(زکوٰۃ کے جدید مسائل)

بینکوں اور کمپنیوں کے ریزرو فنڈز Reserve Funds Of Bank And Companies

 میں زکوٰۃ کا حکم

سوال: اسلامی بینکوں اور دیگر کمپنیوں کے جو ریزرو فنڈز ہوتے ہیں جو وقتی ضروریات پر کام آتے ہیں ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی کہ نہیں؟ دور حاضر کے فقہاء و مفتیان کرام کی اس بارے میں کیا تحقیق ہے؟ (دار الافتاء بہرائچ یوپی)


 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

 الجواب بعون اللہ الوہاب 

اسلامی بینک یا کمپنیوں میں جو ریزرو فنڈز رکھے جاتے ہیں؛ چونکہ وہ عرفا اور قانوناً بینک اور کمپنی کے اثاثوں کا حصّہ ہوتے ہیں اس لئے ان میں بھی زکوٰۃ واجب ہوگی، اور ہر حصے دار کے ذمہ لازم ہوگا کہ وہ اپنے حصے کی زکوۃ نکالے، چنانچہ جن حضرات نے کمپنی میں حصے اس واسطے لیے ہوں کہ وہ اسے فروخت کریں گے تو وہ بازاری قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ نکالیں گے اور جیسا کہ معلوم ہے کہ بازاری قیمت جب متعین کی جاتی ہے تو اس میں ریزرو فنڈز کی رقم کو بھی شامل کرکے اس کی تعیین کی جاتی ہے؛ اس لئے ریزرو فنڈز کی مستقل زکوٰۃ نکالنے کی ضرورت نہیں ہے؛ بلکہ اپنے حصے کی زکوۃ جب بازاری نرخ کے اعتبار سے نکالیں گے تو ریزرو فنڈز کی زکوۃ ایٹومیٹک نکل جائے گی۔

لیکن جن حضرات نے فروختگی کے ارادے سے حصے داری نہیں کیا ہے؛ بلکہ اپنی شرکت کو برقرار رکھنے کے لئے حصہ لیا ہے تو اس صورت میں زکوٰۃ واجب ہوگی اور اس کی زکوۃ مستقل طور پر نکالنی ہوگی البتہ اس صورت میں ناقابلِ زکوٰۃ اثاثوں مثلاً عمارت اور فرنیچر وغیرہ کی رقم کو منہا کرکے زکوٰۃ نکالیں گے اور ان ناقابلِ زکوٰۃ اثاثوں کی تعین اندازے سے کیا جاسکتا ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

(١) خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (التوبة 103)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ ". (سنن الترمذی حدیث نمبر 618 أَبْوَابُ الزَّكَاةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.  | بَابٌ : مَا جَاءَ إِذَا أَدَّيْتَ الزَّكَاةَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ)

إذا كان له عروض أو خادم للتجارة و حال عليه الحول و هو تبلغ نصابا للدراهم... تجب الزكاة فيهما. (الفتاوى السراجية ص ١٣٧)

و منها كون النصاب ناميا حقيقة بالتوالد و التناسل و التجارة. (الفتاوى الهندية ١٩٢/١ كتاب الزكاة)

يزكي رب المال (المالك) رأس المال و حصته من الربح و يزكي العامل حصته من الربح..... قال أبو حنيفة: و يزكي كل واحد من المالك و العامل بحسب نصيبه و حصته من كل سنة. (الفقه الاسلامي و أدلته ١٨٧٨/٣ كتاب الزكاة، سادسا زكاة شركة المضاربة)

مستفاد: فتاویٰ عثمانی 74/2 کتاب الزکوۃ


 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

مورخہ 4/9/1440

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

Translate