منگل، 23 اگست، 2022

بارہ دن مدت مسافت پر رہنے والے کی نماز کا حکم

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1767🖋️

(کتاب الصلاۃ باب صلاۃ المسافر)

بارہ دن مدت مسافت پر رہنے والے کی نماز کا حکم


سوال: ایک پولیس والا مدت سفر اور مسافت سفر پر ڈیوٹی کرتا ہے اور کم سے کم بارہ تیرہ دن بعد گھر آتا ہے جہاں ڈیوٹی کرتا ہے وہاں ایک ہی جگہ رکا رہتا ہے کیا ایسا آدمی قصر کرے گا یا مکمل نماز ادا کرے گا؟ (ولی اللہ، دلی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

وہ شخص جہاں پر ڈیوٹی کر رہا ہے وہ اس کا وطن اصلی نہیں ہے، اگر وطن اصلی نہ ہو تو اصول یہ ہے کہ جب تک پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ ہو تو اس صورت میں اس پر قصر نماز پڑھنا ضروری ہے، فرض نماز چار رکعت نہیں پڑھ سکتا ہے، چنانچہ انہیں مذکورہ بالا صورت میں قصر کرنا واجب ہوگا(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

(١) حدثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : كَمْ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ؟ قَالَ : عَشْرًا. (سنن الترمذی أَبْوَابُ السَّفَرِ  رقم الحدیث 548 بَابٌ : مَا جَاءَ فِي كَمْ تُقْصَرُ الصَّلَاةُ)

وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ : مَنْ أَقَامَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا أَتَمَّ الصَّلَاةَ، وَرُوِيَ عَنْهُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ. (سنن الترمذي رقم الحديث 548 أَبْوَابُ السَّفَرِ  | بَابٌ : مَا جَاءَ فِي كَمْ تُقْصَرُ الصَّلَاةُ)

ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلد يصلح للإقامة خمسة عشر يوما فصاعدا فيلزمه الإتمام. (الجوهرة النيرة 86/1 كتاب الصلاة باب صلاة المسافر)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 25/6/1443

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

عورت اپنی سوکن کے گھر جائے تو مقیم ہوگی یا مسافر

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1638🖋️

(کتاب الصلاۃ باب صلاۃ المسافر)

عورت اپنی سوکن کے گھر جائے تو مقیم ہوگی یا مسافر

سوال: زید کی دو بیویاں ہیں ایک کراچی میں دوسری لاہور میں، اب سوال یہ کہ اگر زید کی کراچی والی بیوی، زید کے ساتھ کچھ دنوں کیلئے لاہور چلی جائے، تو کراچی والی بیوی کا قصر کا حکم ہے یا اتمام کا؟ (مرسل بندۂ خدا، ممبئ)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

زید کی وہ بیوی جو کراچی میں رہتی ہے وہ اگر اس کی رہائش مستقل طور پر کراچی میں ہے اور صرف مہمانی کی غرض سے وہ لاہور جارہی ہے اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو وہ اس کا نا ہی وطن اصلی بنے گا اور نا ہی وطن اقامت؛ اس لیے وہاں وہ قصر کرے گی شوہر کی تبعیت میں وہ مقیم نہیں مانی جائے گی، یہ مسٔلہ صراحتاً تو کہیں نہیں ملا تاہم نئی نویلی دلہن کے سسرال جانے والے مسئلے پر قیاس کرنے سے یہی حکم مستنبط ہوتا ہے جسے أکثر علماء نے لکھاہے کہ وہ شروع شروع میں قصر کرے گی(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚

(١) "( الوطن الأصلي ) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه ( يبطل بمثله ) إذا لم يبق له بالأول أهل فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما ( لا غير و ) يبطل ( وطن الإقامة بمثله و ) بالوطن (الأصلي و ) بإنشاء ( السفر ) والأصل أن الشيء يبطل بمثله وبما فوقه لا بما دونه، ولم يذكر وطن السكنى وهو ما نوى فيه أقل من نصف شهر لعدم فائدته، وما صوره الزيلعي رده في البحر". (2/132)

(بہشتی زیور 2/50،فتاویٰ محمودیہ 7/501).


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 13/2/1443

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

ہفتہ، 20 اگست، 2022

کرامات اولیاء سے متعلق نہایت اہم وضاحتیں دوسری قسط

کرامات اولیاء سے متعلق نہایت اہم وضاحتیں



دوسری قسط  

 سوال: کیا کرامات اولیاء برحق ہیں؟ کرامات اولیاء کو نہ ماننے والے کے ایمان پر کچھ فرق پڑتا ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کرامات اولیاءکو بالکل نہیں مانتے ایسے لوگوں کا ایمان کیسا ہے؟ 

مکل و مدلل جواب عنایت کیجیے. (ابو یحییٰ محمد صغیر، مہاراشٹر)

"اہل سنت والجماعت کے بنیادی اصولوں میں سے اولیاء کرام کی کرامتوں کی تصدیق بھی ہے، اور ان باتوں کی تصدیق جو اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں ظاہر فرماتے ہیں مختلف علوم اور کشف و کرامت کی خارق عادت باتیں وغیرہ۔۔۔۔ اور یہ کرامات اور خارق عادت باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کی امتوں میں بھی ہوئی ہیں، جیسے کہ سورہ کہف وغیرہ میں ہے اور اس امت کے افراد صحابہ کرام و تابعین عظام اور امت مسلمہ کی تمام صدیوں میں ہوئی ہیں اور یہی نہیں بلکہ قیامت تک کرامات اور خارق عادت باتوں کا سلسلہ چلتا رہے گا"(١٢)

علامہ ابن تیمیہ کی وضاحت اور تمام اہل سنت والجماعت کے اتفاق سے معلوم ہوا کہ کرامت خدا کے صالح بندوں سے صادر ہوتی اور سوائے معتزلہ اور بدعت پرست لوگوں کے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا ہے، لیکن واضح رہے کہ کرامت کے صدور میں ولی کے کسی فعل کا عمل دخل نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ خدائی قوت و عمل سے انجام پاتا ہے بندہ صرف اور اس میں ذریعہ ھوتا ہے۔

اب رہی یہ بات کہ کرامت کے منکر کا کیا حکم ہوگا، تو اگر کوئی شخص سرے سے کرامت کا ہی منکر ہے اور وہ کرامت کو تسلیم ہی نہیں کرتا ہے تو وہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہے اور معتزلہ جیسے گمراہ فرقے کا اس مسئلے میں متبع ہے، لیکن اس پر نہ کفر کا حکم لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے کافر کہا جائے گا۔ اکابر اہل علم کی اس بابت یہی تحقیق ہے (١٣) فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


 والدليل على ما قلنا 


(١) الكرامة هي ظهور أمر خارق للعادة من قبل شخص غير مقارن لدعوى النبوة فما لا يكون مقرونا بالإيمان و العمل الصالح يكون استدراجا (كتاب التعريفات للجرجاني ١٥٤ باب الكاف دار الفضيله القاهرة)

(٢) وجد عندها رزقا۔۔۔۔۔۔ و استدل الآية على جواز الكرامة للاولياء لأن مريم لا نبوة لها على المشهور. (روح المعاني للآلوسي ٢٢٥/٣ سورة آل عمران آية ٣٧)

(٣) كما استدلوا على وقوعها بقصة أهل الكهف التي وردت في سورة الكهف.... و كذلك بقصة الذي كان عنده علم من الكتاب في زمن سليمان عليه السلام... و كذلك بما وقع للصحابة من كرامات في حياتهم. (الموسوعة الفقهية ٢٢٠/٣٤ الكرامة)

(٤) كاتيان صاحب سليمان عم وهو آصف بن برخيا على الأشهر بعرش بلقيس قبل ارتداد الطرف مع بعد المسافة (شرح العقائد ص ١٠٦)

(٥) عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ، وَمَعَهُمَا مِثْلُ الْمِصْبَاحَيْنِ يُضِيئَانِ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا، فَلَمَّا افْتَرَقَا صَارَ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَاحِدٌ حَتَّى أَتَى أَهْلَهُ. (صحيح البخاري حديث نمبر ٤٦٥)

(٦) أن الرجلين هما عباد ابن بشر و أسيد بن حضير (فتح الباري شرح صحيح البخاري ١٢٥/٧ حديث نمبر ٤٦٥)

(٧) يا أمير المؤمنين هزمنا فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتا ينادي : يا سارية الجبل ثلاثا فأسندنا ظهورنا إلى الجبل فهزمهم الله قال : قيل لعمر : إنك كنت تصيح بذلك و ذلك الجبل الذي كان سارية عنده بنهاوند من أرض العجم قال ابن حجر في الإصابة : إسناده حسن . (تاريخ الخلفاء للسيوطي ١١٣/١ الطبعة الأولى و تاريخ دمشق ج ٤٤)

(٨) ذهب جمهور علماء السنة إلى جواز ظهور أمر خارق للعادة على يد مومن ظاهر الصلاح اكراما من الله له و إلى وقوعها فعلا. (الموسوعة الفقهية ٢٢٨/ ٣٤ الكرامة)

(٩) و كرامات الأولياء حق والولي هو العارف بالله و صفاته حسب ما يمكن المواظب على الطاعات المجتنب عن المعاصي (شرح العقائد للتفتازاني ص ١٠٥ رشيدية دهلي)

(١٠) اعلم أن الكرامات حق كما أن المعجزات حق و كلتاهما من عالم القدرة. (حاشية رمضان آفندي على شرح العقائد. ٢٩١ رحيمية ديوبند)

(١١) حق أي ثابت بالكتاب والسنة و لا عبرة بمخالفة المعتزلة و أهل البدعة في إنكار الكرامة. (الحاشية على شرح العقائد للتفتازاني ص ١٠٥ كتب خانه رشيدية دهلي)

(١٢) و من أصول أهل السنة والجماعة: التصديق بكرامات الاولياء و ما يجري الله على أيديهم من خوارق العادات في انواع العلوم و المكاشفات و انواع القدرة والتأثير كالماثور عن سالف الأمم في سورة الكهف و غيرها و عن صدر هذه الأمة من الصحابة والتابعين و سائر قرون الأمة و هي موجودة فيها إلى يوم القيامة. (مجموع فتاوى شيخ الاسلام ابن تيمية ١٥٦/٣ اعتقاد السلف)

(١٣) اعلم أن الكرامات حق كما أن المعجزات حق و كلتاهما من عالم القدرة. (حاشية رمضان آفندي على شرح العقائد. ٢٩١ رحيمية ديوبند)

و كرامات الأولياء حق و منكرها خارج من أهل السنّة والجماعة. (إمداد الفتاوى ٣٢٧/٦ كتاب العقائد والكلام زکریا)


نیز دیکھئے: کفایت المفتی ١٥٦/١

 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

مركز البحث و الإفتاء الجامعة الإسلامية دار العلوم مہذب پور سنجر پور اعظم گڑھ یوپی

مورخہ 23/11/1439

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے
Share

جیسے بہت سے انسان آنکھوں سے کنجے ہوتے ہیں ویسے ہی اگر کوئی جانور کنجا ہو تو اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہوگا؟

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1545🖋️


(کتاب الاضحیہ، باب عیوب الحیوان)


کنجے جانور کی قربانی کا حکم


سوال: جیسے بہت سے انسان آنکھوں سے کنجے ہوتے ہیں ویسے ہی اگر کوئی جانور کنجا ہو تو اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہوگا؟ (حکیم مظہر الحق، یوپی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


کنجا ہونا (نیلی آنکھ والا جانور) کوئی ایسا عیب نہیں ہے جس سے جانور میں کوئی کمی پیدا ہوتی ہو، یا اس کے جمال و کمال میں نقص پیدا ہوتا ہے؛ اس لیے اس کی قربانی درست ہے فقہاء کرام نے احول جانور یعنی جس کی آنکھ میں موتیا بند ہو اس کی قربانی کی اجازت دی ہے تو کنجے کی بدرجہ اولی قربانی جائز ہوگی(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية و ما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. (الفتاوى الهندية ٢٩٩/٥ كتاب الأضحية)


والحولاء تجزئ وهي التي في عينها حول. (الفتاوى الهندية 298/5 كتاب الاضحيه دار الكتب العلميه بيروت)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 9/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

کوڑھ زدہ جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟ شرعی نقطۂ نظر سے وضاحت فرمائیں

⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1552🖋️


(کتاب الاضحیہ باب عیوب الحیوان)


کوڑھ زدہ جانور کی قربانی کا حکم


سوال: کوڑھ زدہ جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟ شرعی نقطۂ نظر سے وضاحت فرمائیں۔ (انیس الرحمن، بستی یوپی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


 جذام یا کوڑھ ایسی بیماری ہے جس سے انسان کو سخت نفرت اور کراہت محسوس ہوتی ہے، اگر کسی جانور کو یہ بیماری لگ جائے تو اس کو کوئی گوشت کھانا کجا کوئی اس کو خریدنا گوارا نہیں کرے گا، اس لیے یہ شدید قسم کا عیب ہے، ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ہے، احادیث مبارکہ اور فقہاء کرام کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور میں گوشت بھی بہت حد تک مطلوب ھوتا ھے اسی لیے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ مخنث جانور کی قربانی درست نہیں ہے کیوں کہ اس کا گوشت گلتا نہیں ہے، اور ظاہر ہے جب مجذوم جانور کا گوشت ناقابلِ انتفاع ہے تو اس کی قربانی کیوں کر درست ہوسکتی ہے،اسی طرح سنن نسائی وغیرہ کی روایت میں آیا ہے کہ جس جانور کا مرض ظاہر ہو اس کی قربانی درست نہیں ہے اور کوڑھ پن ظاہری بیماری ہے اس لیے اس کی قربانی کی ممانعت ہوگی(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ : " أَرْبَعٌ لَا يَجُزْنَ : الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا. (سنن النسائي رقم الحديث 4369 كِتَابُ الضَّحَايَا  | مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءِ)


والمريضة البين مرضها. (بدائع الصنائع 75/5 كتاب الاضحيه دار الكتب العلميه)


ولا بالخنثى لأن لحمها لا ينضج شرح وهبانية. (الدر المختار مع رد المحتار 325/6 كتاب الأضحية دار الكتب العلميه)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 16/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

جس جانور کی دم ہو لیکن دم پر بال نہ ہوں خواہ پیدایشی خواہ بعد میں جھڑ گئے ہوں تو اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1553🖋️


(کتاب الاضحیہ باب عیوب الحیوان)


جس جانور کی دم پر بال نہ ہو اس کی قربانی


سوال: جس جانور کی دم ہو لیکن دم پر بال نہ ہوں خواہ پیدایشی خواہ بعد میں جھڑ گئے ہوں تو اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟ (اشرف، بھوپال، مدھیہ پردیش)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


جانور کی دم پر بال نہ ہونا عیب نہیں ہے؛ کیوں کہ اس سے نا اس کی خوبصورتی میں کوئی خاص فرق پڑتا ہے اور نا ہی منفعت میں کمی آتی ہے اس لیے اس کی قربانی کرنا جائز ہے(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية و ما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. (الفتاوى الهندية ٢٩٩/٥ كتاب الأضحية)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 17/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

بچیوں کے لئے بنوائے گئے زیورات کی وجہ سے کیا بچیوں پر قربانی واجب ہوگی

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1554🖋️


(کتاب الاضحیہ باب الوجوب)


بچیوں کے لئے بنوائے گئے زیورات کی وجہ سے کیا بچیوں پر قربانی واجب ہوگی


سوال: ایک لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور اسکے والدین نے اس کے لیے سونا خریدا، لیکن ابھی اسے  اس سونے کا مالک نہیں بنایا نکاح کے موقع پر وہ سونا اسے دے دیا جائے گا؟ کیا فی الحال ایسی صورت میں اس لڑکی پر قربانی واجب ہے؟ براۓ مہربانی وضاحت فرما دیجئے‌۔ (عبد التواب، آندھرا پردیش)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


سوال نامہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ والدین نے سونا خرید کر اپنی ملکیت میں باقی رکھا ہے، ابھی لڑکی کو دیا نہیں ہے اور یہی ہمارے یہاں کا عرف بھی ہے کہ شادی سے قبل زیورات بچیوں کے حوالے نہیں کئے جاتے ہیں، اس لیے وہ بچی حقیقتاً اس کی مالک نہیں ہے، والدین ہی اس کے مالک و قابض سمجھے جائیں گے؛ چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر اس کے علاوہ اتنی رقم یا زیورات ان کے پاس نہیں ہیں کہ وہ صاحب نصاب ہوں تو ان پر قربانی واجب نہیں ھوگی۔ ہاں والد صاحب پر اور اگر والدہ صاحب نصاب ہوں تو ان پر قربانی واجب ہوگی(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ". حكم الحديث: إسناده ضعيف. (مسند أحمد رقم الحديث ٨٢٧٣ مُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)


الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى (المختصر للقدوري ص ٢٠٨ كتاب الاضحية)


وأما شرائط الوجوب فمنها اليسار وهو اليسار الذي تعلق به وجوب صدقة الفطر دون اليسار الذي تعلق به وجوب الزكاة على ما ذكرنا في كتاب الزكاة. (تحفة الفقهاء جزء ٣ ص ٨٢ كتاب الاضحية)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 18/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

قربانی میں ولیمہ کی گوشت کے لئے حصہ لینا شرعا کیسا ہے؟ کیا اس سے سب کی قربانی ہوجائے گی؟

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1555🖋️


(کتاب الاضحیہ باب المتفرقات)


قربانی کے جانور میں ولیمہ کا حصہ لینا


سوال: قربانی میں ولیمہ کی گوشت کے لئے حصہ لینا شرعا کیسا ہے؟ کیا اس سے سب کی قربانی ہوجائے گی؟ (جاوید اختر، کشی نگر یوپی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


قربانی کے جانور میں جمیع مشارکین کا قربت یعنی عبادت کی نیت کرنا ضروری ہے، غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ولیمہ مسنونہ بھی ایک طرح کی قربت ہے ض، حدیث مبارکہ میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے، تاہم متقدمین کے یہاں ولیمے کے سلسلے میں یہ بات نہیں ملتی ہے کہ قربانی میں ولیمہ کا حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟ البتہ متاخرین احناف نے صراحت کی ہے کہ اگر سنت ولیمہ کی ادائیگی کی نیت ہو تو یہ بھی قربت میں شامل ہے اس لیے قربانی میں ولیمہ کی نیت سے بھی حصہ لے سکتے ہیں(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلِمْ، وَلَوْ بِشَاةٍ ". (صحيح البخاري رقم الحديث 2048  كِتَابٌ : الْبُيُوعُ.  | بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ)


ذكره محمد و لم يذكر الوليمة وينبغي أن تجوز لأنها تقام شكرا لله تعالى على نعمة النكاح و وردت بها السنة فإذا قصد بها الشكر أو إقامة السنة فقد أراد القربة. (رد المحتار على الدر المختار 472/9 كتاب الأضحية)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

 دار الافتاء و التحقيق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 19/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

Translate