⚖سوال و جواب⚖
🏢مسئلہ نمبر 980🏢
(کتاب الاجارۃ)
رقم لے کر فری میں کرایہ پر مکان دینے کا حکم
سوال: کرناٹک میں عمومی طور پر لوگ اپنے گھر کو (لیج) ایک متعینہ رقم طے کر کے دیتے ہیں۔ مثلا ایک لاکھ روپے دے دیں اسکے بدلے ایک سال تک میرے گھر کو استعمال کریں جب سال پورا ہوجائے تو آپ کا پیسہ واپس کردیاجاۓ گا۔ پیسے واپس بھی کردیۓ جاتے ہیں۔ اب اس صورت میں اس گھر کا استعمال بغیر کرایہ کے ہوگیا۔ کیا یہ شریعت میں جائز؟ (محمد امیر سبحانی قاسمی بنگلور کرناٹک)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب وباللہ التوفیق
آپ نے جو صورت سوالنامہ میں لکھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دی جانے رقم بطورِ قرض دی جاتی ہے اور اس کے بدلے مکان میں بنا کرایہ کے سکونت کا موقع ملتا ہے یا شکل تو ڈپازٹ کی ہوتی ہے مگر ہوتی قرض ہی ہے، ظاہر ہے کہ یہ قرض سے استفادہ کی صورت ہے جو کہ سود ہے اور سود لینا دینا جائز نہیں ہے؛ اس لئے مذکورہ بالا صورت درست نہیں ہے، آپ حضرات کو اس سلسلے میں سخت احتیاط برتنی چاہیے۔
اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ یا تو پورا کرایہ دیا جائے یا کم از کم اتنا کرایہ ضرور دیا جائے جو اس کا کم سے کم کرایہ اس علاقے میں ہوسکتا ہو(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
📚والدليل على ما قلنا📚
(١) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ )
البقرة (278)
كل قرض جر نفعا فهو ربا. (شرح معاني الآثار رقم الحديث ٥٨٨٣)
قالوا يجب أجر المثل على المقرض لأن المستقرض إنما أسكنه في داره عوضا عن منفعة القرض لا مجانا. (رد المحتار ٨٧/٩ باب ضمان الأجير)
وأما الربا فھو علی ثلاثة أوجہ :أحدھا فی القروض، والثاني فی الدیون، والثالث فی الرھون۔الربا فی القروض فأما فی القروض فھو علی وجھین:أحدھما أن یقرض عشرة دراھم بأحد عشر درھما أو باثني عشر ونحوھا۔والآخر أن یجر إلی نفسہ منفعة بذلک القرض، أو تجر إلیہ وھو أن یبیعہ المستقرض شےئا بأرخص مما یباع أو یوٴجرہ أو یھبہ ……،ولو لم یکن سبب ذلک (ھذا ) القرض لما کان (ذلک )الفعل، فإن ذلک ربا ، وعلی ذلک قول إبراھیم النخعي: کل دین جر منفعة لا خیر فیہ (النتف فی الفتاوی ، ص ۴۸۴، ۴۸۵)
كتبه العبد محمد زبير الندوي
دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 16/3/1441
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے


0 Comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
Thank You So Much