🌴سوال و جواب🌴
(مسئلہ نمبر 395)
مکالمے میں ہندو پنڈتوں کی مشابہت اختیار کرنے کا حکم
سوال: ہمارے مدرسے میں چند دن پہلے اختتامی پروگرام میں (مباحثہ) ہوا,جو ہندو ازم اور اسلام کے درمیان تھا.
ہندو ازم کے ترجمان نے جوکہ ہمارا ہی ساتھی تھا اس نے پنڈت والی شکل و صورت بنا لی تھی (دھوتی , گلے میں مالا(ہار) ,اور ہاتھ میں لال دھاگا وغیرہ کا استعمال کیا تھا)
تو کیا ایسے کسی پروگرام کیلئے ایسی شکل و صورت بنانا جایز ہے؟
برائے مہربانی مدلل جواب عنایت فرمائیں
المستفتی .احقر محمد یاسر ممبئی
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب وباللہ الوہاب
شریعت اسلامی میں غیر مسلموں اور فاسق و فاجر لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے اور ایسا کرنے والوں کو انہیں میں سے شمار کیا گیا ہے، اس لئے ایسی تمام چیزوں سے بچنا واجب و ضروری ہے جو کسی خاص قوم کا شعار ہو،(١)
لیکن مشابہت کے کئی درجے ہیں جن کا شریعت میں الگ الگ حکم ہے، چنانچہ علماء لکھتے ہیں:
"تشبہ بالکفار اعتقادات و عبادات میں کفر ہے اور مذہبی رسومات میں حرام ہے۔
معاشرت اور عبادات اور قومی شعار میں تشبہ مکروہ تحریمی ہے"(٢)
مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ:
"من تشبه بقوم فهو منهم سے مراد یہ ہے کہ کسی قوم کی ایسی چیز میں مشابہت اختیار کی جائے جو اس قوم کے ساتھ مخصوص ہو یا اس کا خاص شعار ہو تو ایسی مشابہت ناجائز ہے"(٣)
اسی طرح مفتی محمود صاحب فتاویٰ محمودیہ میں لکھتے ہیں:
"بلا ضرورت شدیدہ کفار کا مخصوص لباس استعمال کرنا ممنوع اور ناجائز ہے"(٤)
اس تفصیل کی روشنی میں دیکھا جائے تو آپ نے جن چیزوں کا ذکر کیا ہے اگر صرف یہی چیزیں تھیں تو چونکہ یہ چیزیں پنڈتوں اور کفار کے ساتھ خاص نہیں ہیں بلکہ دیگر لوگ بھی استعمال کرتے ہیں اس لیے اس میں گنجائش ہے، لیکن علماء و طلباء کے لئے اس قسم کی باتیں زیب نہیں دیتی ہیں اس لیے آئندہ سے احتیاط کی جائے۔
البتہ اگر اس سے بڑھ کر قشقہ وغیرہ کا استعمال کیا گیا ہے یا ایسی چیزیں استعمال کی گئی ہیں جو ہندو پنڈتوں کی خصوصیات ہیں اور انہیں دیکھ کر کوئی مسلم تصور نہ کرے تو یقیناً ناجائز ہوگا اور توبہ و استغفار لازم ہوگا۔
واضح رہے کہ مکالمہ کا مقصد لوگوں کے سامنے صحیح اور غلط باتوں میں فرق ظاہر کرنا ہوتا ہے اور اس کے لئے اس قسم کے تکلفات کی قطعاً ضرورت نہیں، خاص کر اگر وہ حرام اور ناجائز کے دائرے میں آرہی ہوں، اس لئے اس قسم کی باتوں کو چھوڑنا ضروری ہے اور ان سے سے بچنا واجب ھے۔ کیوں عام اور سادے لباس سے بھی یہ ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
📚📚والدليل على ما قلنا📚📚
(١) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا، لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ، وَلَا بِالنَّصَارَى ؛ فَإِنَّ تَسْلِيمَ الْيَهُودِ الْإِشَارَةُ بِالْأَصَابِعِ، وَتَسْلِيمَ النَّصَارَى الْإِشَارَةُ بِالْأَكُفِّ. (سنن الترمذي حديث نمبر ٢٦٩٥)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ". (سنن ابي داود حديث نمبر ٤٠٣١)
من تشبه بقوم أي تزيا في ظاهره بزيهم و في تعرفه بفعلهم..... و هديهم في ملبسهم و بعض أفعالهم. (فيض القدير ١٠٤/٦)
يكره بوضع قلنسوة المجوس على رأسه على الصحيح إلا لضرورة دفع الحر و البرد (الفتاوى الهنديه ٢٨٧/٢ الباب التاسع فصل في احكام المرتدين زكريا جديد)
من تشبه بقوم أي تزيا في ظاهره بزيهم و في تعرفه بفعلهم..... و هديهم في ملبسهم و بعض أفعالهم. (فيض القدير ١٠٤/٦)
(٢) فقہ حنفی کے اصول و ضوابط ص ١٥١، فتاویٰ دار العلوم زکریا ١٢٢/٧
(٣) کفایت المفتی ١٦٩/٩ دار الاشاعت، فتاویٰ دار العلوم زکریا ١٢٢/٧ کتاب الحظر و الاباحہ
(٤) فتاویٰ محمودیہ ٥٥٩/١٩ باب الموالات مع الکفار
🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴
كتبه العبد محمد زبير الندوي
مركز البحث و الإفتاء مدرسه أشرف العلوم نالا سوپارہ ممبئی انڈیا
مورخہ 19/7/1439
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے