ہفتہ، 20 اگست، 2022

کرامات اولیاء سے متعلق نہایت اہم وضاحتیں دوسری قسط

کرامات اولیاء سے متعلق نہایت اہم وضاحتیں



دوسری قسط  

 سوال: کیا کرامات اولیاء برحق ہیں؟ کرامات اولیاء کو نہ ماننے والے کے ایمان پر کچھ فرق پڑتا ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کرامات اولیاءکو بالکل نہیں مانتے ایسے لوگوں کا ایمان کیسا ہے؟ 

مکل و مدلل جواب عنایت کیجیے. (ابو یحییٰ محمد صغیر، مہاراشٹر)

"اہل سنت والجماعت کے بنیادی اصولوں میں سے اولیاء کرام کی کرامتوں کی تصدیق بھی ہے، اور ان باتوں کی تصدیق جو اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں ظاہر فرماتے ہیں مختلف علوم اور کشف و کرامت کی خارق عادت باتیں وغیرہ۔۔۔۔ اور یہ کرامات اور خارق عادت باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کی امتوں میں بھی ہوئی ہیں، جیسے کہ سورہ کہف وغیرہ میں ہے اور اس امت کے افراد صحابہ کرام و تابعین عظام اور امت مسلمہ کی تمام صدیوں میں ہوئی ہیں اور یہی نہیں بلکہ قیامت تک کرامات اور خارق عادت باتوں کا سلسلہ چلتا رہے گا"(١٢)

علامہ ابن تیمیہ کی وضاحت اور تمام اہل سنت والجماعت کے اتفاق سے معلوم ہوا کہ کرامت خدا کے صالح بندوں سے صادر ہوتی اور سوائے معتزلہ اور بدعت پرست لوگوں کے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا ہے، لیکن واضح رہے کہ کرامت کے صدور میں ولی کے کسی فعل کا عمل دخل نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ خدائی قوت و عمل سے انجام پاتا ہے بندہ صرف اور اس میں ذریعہ ھوتا ہے۔

اب رہی یہ بات کہ کرامت کے منکر کا کیا حکم ہوگا، تو اگر کوئی شخص سرے سے کرامت کا ہی منکر ہے اور وہ کرامت کو تسلیم ہی نہیں کرتا ہے تو وہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہے اور معتزلہ جیسے گمراہ فرقے کا اس مسئلے میں متبع ہے، لیکن اس پر نہ کفر کا حکم لگایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے کافر کہا جائے گا۔ اکابر اہل علم کی اس بابت یہی تحقیق ہے (١٣) فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


 والدليل على ما قلنا 


(١) الكرامة هي ظهور أمر خارق للعادة من قبل شخص غير مقارن لدعوى النبوة فما لا يكون مقرونا بالإيمان و العمل الصالح يكون استدراجا (كتاب التعريفات للجرجاني ١٥٤ باب الكاف دار الفضيله القاهرة)

(٢) وجد عندها رزقا۔۔۔۔۔۔ و استدل الآية على جواز الكرامة للاولياء لأن مريم لا نبوة لها على المشهور. (روح المعاني للآلوسي ٢٢٥/٣ سورة آل عمران آية ٣٧)

(٣) كما استدلوا على وقوعها بقصة أهل الكهف التي وردت في سورة الكهف.... و كذلك بقصة الذي كان عنده علم من الكتاب في زمن سليمان عليه السلام... و كذلك بما وقع للصحابة من كرامات في حياتهم. (الموسوعة الفقهية ٢٢٠/٣٤ الكرامة)

(٤) كاتيان صاحب سليمان عم وهو آصف بن برخيا على الأشهر بعرش بلقيس قبل ارتداد الطرف مع بعد المسافة (شرح العقائد ص ١٠٦)

(٥) عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ، وَمَعَهُمَا مِثْلُ الْمِصْبَاحَيْنِ يُضِيئَانِ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا، فَلَمَّا افْتَرَقَا صَارَ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَاحِدٌ حَتَّى أَتَى أَهْلَهُ. (صحيح البخاري حديث نمبر ٤٦٥)

(٦) أن الرجلين هما عباد ابن بشر و أسيد بن حضير (فتح الباري شرح صحيح البخاري ١٢٥/٧ حديث نمبر ٤٦٥)

(٧) يا أمير المؤمنين هزمنا فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتا ينادي : يا سارية الجبل ثلاثا فأسندنا ظهورنا إلى الجبل فهزمهم الله قال : قيل لعمر : إنك كنت تصيح بذلك و ذلك الجبل الذي كان سارية عنده بنهاوند من أرض العجم قال ابن حجر في الإصابة : إسناده حسن . (تاريخ الخلفاء للسيوطي ١١٣/١ الطبعة الأولى و تاريخ دمشق ج ٤٤)

(٨) ذهب جمهور علماء السنة إلى جواز ظهور أمر خارق للعادة على يد مومن ظاهر الصلاح اكراما من الله له و إلى وقوعها فعلا. (الموسوعة الفقهية ٢٢٨/ ٣٤ الكرامة)

(٩) و كرامات الأولياء حق والولي هو العارف بالله و صفاته حسب ما يمكن المواظب على الطاعات المجتنب عن المعاصي (شرح العقائد للتفتازاني ص ١٠٥ رشيدية دهلي)

(١٠) اعلم أن الكرامات حق كما أن المعجزات حق و كلتاهما من عالم القدرة. (حاشية رمضان آفندي على شرح العقائد. ٢٩١ رحيمية ديوبند)

(١١) حق أي ثابت بالكتاب والسنة و لا عبرة بمخالفة المعتزلة و أهل البدعة في إنكار الكرامة. (الحاشية على شرح العقائد للتفتازاني ص ١٠٥ كتب خانه رشيدية دهلي)

(١٢) و من أصول أهل السنة والجماعة: التصديق بكرامات الاولياء و ما يجري الله على أيديهم من خوارق العادات في انواع العلوم و المكاشفات و انواع القدرة والتأثير كالماثور عن سالف الأمم في سورة الكهف و غيرها و عن صدر هذه الأمة من الصحابة والتابعين و سائر قرون الأمة و هي موجودة فيها إلى يوم القيامة. (مجموع فتاوى شيخ الاسلام ابن تيمية ١٥٦/٣ اعتقاد السلف)

(١٣) اعلم أن الكرامات حق كما أن المعجزات حق و كلتاهما من عالم القدرة. (حاشية رمضان آفندي على شرح العقائد. ٢٩١ رحيمية ديوبند)

و كرامات الأولياء حق و منكرها خارج من أهل السنّة والجماعة. (إمداد الفتاوى ٣٢٧/٦ كتاب العقائد والكلام زکریا)


نیز دیکھئے: کفایت المفتی ١٥٦/١

 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

مركز البحث و الإفتاء الجامعة الإسلامية دار العلوم مہذب پور سنجر پور اعظم گڑھ یوپی

مورخہ 23/11/1439

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے
Share

جیسے بہت سے انسان آنکھوں سے کنجے ہوتے ہیں ویسے ہی اگر کوئی جانور کنجا ہو تو اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہوگا؟

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1545🖋️


(کتاب الاضحیہ، باب عیوب الحیوان)


کنجے جانور کی قربانی کا حکم


سوال: جیسے بہت سے انسان آنکھوں سے کنجے ہوتے ہیں ویسے ہی اگر کوئی جانور کنجا ہو تو اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہوگا؟ (حکیم مظہر الحق، یوپی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


کنجا ہونا (نیلی آنکھ والا جانور) کوئی ایسا عیب نہیں ہے جس سے جانور میں کوئی کمی پیدا ہوتی ہو، یا اس کے جمال و کمال میں نقص پیدا ہوتا ہے؛ اس لیے اس کی قربانی درست ہے فقہاء کرام نے احول جانور یعنی جس کی آنکھ میں موتیا بند ہو اس کی قربانی کی اجازت دی ہے تو کنجے کی بدرجہ اولی قربانی جائز ہوگی(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية و ما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. (الفتاوى الهندية ٢٩٩/٥ كتاب الأضحية)


والحولاء تجزئ وهي التي في عينها حول. (الفتاوى الهندية 298/5 كتاب الاضحيه دار الكتب العلميه بيروت)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 9/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

کوڑھ زدہ جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟ شرعی نقطۂ نظر سے وضاحت فرمائیں

⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1552🖋️


(کتاب الاضحیہ باب عیوب الحیوان)


کوڑھ زدہ جانور کی قربانی کا حکم


سوال: کوڑھ زدہ جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟ شرعی نقطۂ نظر سے وضاحت فرمائیں۔ (انیس الرحمن، بستی یوپی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


 جذام یا کوڑھ ایسی بیماری ہے جس سے انسان کو سخت نفرت اور کراہت محسوس ہوتی ہے، اگر کسی جانور کو یہ بیماری لگ جائے تو اس کو کوئی گوشت کھانا کجا کوئی اس کو خریدنا گوارا نہیں کرے گا، اس لیے یہ شدید قسم کا عیب ہے، ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ہے، احادیث مبارکہ اور فقہاء کرام کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور میں گوشت بھی بہت حد تک مطلوب ھوتا ھے اسی لیے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ مخنث جانور کی قربانی درست نہیں ہے کیوں کہ اس کا گوشت گلتا نہیں ہے، اور ظاہر ہے جب مجذوم جانور کا گوشت ناقابلِ انتفاع ہے تو اس کی قربانی کیوں کر درست ہوسکتی ہے،اسی طرح سنن نسائی وغیرہ کی روایت میں آیا ہے کہ جس جانور کا مرض ظاہر ہو اس کی قربانی درست نہیں ہے اور کوڑھ پن ظاہری بیماری ہے اس لیے اس کی قربانی کی ممانعت ہوگی(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ : " أَرْبَعٌ لَا يَجُزْنَ : الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا. (سنن النسائي رقم الحديث 4369 كِتَابُ الضَّحَايَا  | مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءِ)


والمريضة البين مرضها. (بدائع الصنائع 75/5 كتاب الاضحيه دار الكتب العلميه)


ولا بالخنثى لأن لحمها لا ينضج شرح وهبانية. (الدر المختار مع رد المحتار 325/6 كتاب الأضحية دار الكتب العلميه)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 16/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

جس جانور کی دم ہو لیکن دم پر بال نہ ہوں خواہ پیدایشی خواہ بعد میں جھڑ گئے ہوں تو اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1553🖋️


(کتاب الاضحیہ باب عیوب الحیوان)


جس جانور کی دم پر بال نہ ہو اس کی قربانی


سوال: جس جانور کی دم ہو لیکن دم پر بال نہ ہوں خواہ پیدایشی خواہ بعد میں جھڑ گئے ہوں تو اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟ (اشرف، بھوپال، مدھیہ پردیش)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


جانور کی دم پر بال نہ ہونا عیب نہیں ہے؛ کیوں کہ اس سے نا اس کی خوبصورتی میں کوئی خاص فرق پڑتا ہے اور نا ہی منفعت میں کمی آتی ہے اس لیے اس کی قربانی کرنا جائز ہے(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية و ما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. (الفتاوى الهندية ٢٩٩/٥ كتاب الأضحية)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 17/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

بچیوں کے لئے بنوائے گئے زیورات کی وجہ سے کیا بچیوں پر قربانی واجب ہوگی

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1554🖋️


(کتاب الاضحیہ باب الوجوب)


بچیوں کے لئے بنوائے گئے زیورات کی وجہ سے کیا بچیوں پر قربانی واجب ہوگی


سوال: ایک لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور اسکے والدین نے اس کے لیے سونا خریدا، لیکن ابھی اسے  اس سونے کا مالک نہیں بنایا نکاح کے موقع پر وہ سونا اسے دے دیا جائے گا؟ کیا فی الحال ایسی صورت میں اس لڑکی پر قربانی واجب ہے؟ براۓ مہربانی وضاحت فرما دیجئے‌۔ (عبد التواب، آندھرا پردیش)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


سوال نامہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ والدین نے سونا خرید کر اپنی ملکیت میں باقی رکھا ہے، ابھی لڑکی کو دیا نہیں ہے اور یہی ہمارے یہاں کا عرف بھی ہے کہ شادی سے قبل زیورات بچیوں کے حوالے نہیں کئے جاتے ہیں، اس لیے وہ بچی حقیقتاً اس کی مالک نہیں ہے، والدین ہی اس کے مالک و قابض سمجھے جائیں گے؛ چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر اس کے علاوہ اتنی رقم یا زیورات ان کے پاس نہیں ہیں کہ وہ صاحب نصاب ہوں تو ان پر قربانی واجب نہیں ھوگی۔ ہاں والد صاحب پر اور اگر والدہ صاحب نصاب ہوں تو ان پر قربانی واجب ہوگی(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا ". حكم الحديث: إسناده ضعيف. (مسند أحمد رقم الحديث ٨٢٧٣ مُسْنَدُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)


الأضحية واجبة على كل حر مسلم مقيم موسر في يوم الأضحى (المختصر للقدوري ص ٢٠٨ كتاب الاضحية)


وأما شرائط الوجوب فمنها اليسار وهو اليسار الذي تعلق به وجوب صدقة الفطر دون اليسار الذي تعلق به وجوب الزكاة على ما ذكرنا في كتاب الزكاة. (تحفة الفقهاء جزء ٣ ص ٨٢ كتاب الاضحية)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 18/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

قربانی میں ولیمہ کی گوشت کے لئے حصہ لینا شرعا کیسا ہے؟ کیا اس سے سب کی قربانی ہوجائے گی؟

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1555🖋️


(کتاب الاضحیہ باب المتفرقات)


قربانی کے جانور میں ولیمہ کا حصہ لینا


سوال: قربانی میں ولیمہ کی گوشت کے لئے حصہ لینا شرعا کیسا ہے؟ کیا اس سے سب کی قربانی ہوجائے گی؟ (جاوید اختر، کشی نگر یوپی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


قربانی کے جانور میں جمیع مشارکین کا قربت یعنی عبادت کی نیت کرنا ضروری ہے، غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ولیمہ مسنونہ بھی ایک طرح کی قربت ہے ض، حدیث مبارکہ میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے، تاہم متقدمین کے یہاں ولیمے کے سلسلے میں یہ بات نہیں ملتی ہے کہ قربانی میں ولیمہ کا حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟ البتہ متاخرین احناف نے صراحت کی ہے کہ اگر سنت ولیمہ کی ادائیگی کی نیت ہو تو یہ بھی قربت میں شامل ہے اس لیے قربانی میں ولیمہ کی نیت سے بھی حصہ لے سکتے ہیں(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْلِمْ، وَلَوْ بِشَاةٍ ". (صحيح البخاري رقم الحديث 2048  كِتَابٌ : الْبُيُوعُ.  | بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ)


ذكره محمد و لم يذكر الوليمة وينبغي أن تجوز لأنها تقام شكرا لله تعالى على نعمة النكاح و وردت بها السنة فإذا قصد بها الشكر أو إقامة السنة فقد أراد القربة. (رد المحتار على الدر المختار 472/9 كتاب الأضحية)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

 دار الافتاء و التحقيق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 19/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

اگر جانور کے تھن پیدائشی طور پر پانچ ہوں تو کیا یہ بھی عیب شمار ہوگا

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1559🖋️


(کتاب الاضحیہ، باب عیوب الحیوان)


پانچ تھن والے جانور کی قربانی


سوال: اگر جانور کے تھن پیدائشی طور پر پانچ ہوں تو کیا یہ بھی عیب شمار ہوگا۔ از راہ کرم جواب سے نوازیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔ (محمد فیضان رامپور یوپی)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


قربانی کے جانور میں وہ عیوب مانعِ قربانی شمار ہوتے ہیں جو جانور کی خوبصورتی کو یا اس کی منفعت کو بالکلیہ ختم کردیں، ظاہر ہے ایک تھن زائد ہونے سے نا اس کی منفعت میں کمی پیدا ہوگی اور نا ہی خوبصورتی میں؛ اس لیے اس کی قربانی درست ہے(١)۔ فقظ والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا📚


(١) كل عيب يزيل المنعفة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. (الفتاوى الهندية: 5/ 299).


ومن المشايخ من يذكر في هذا الفصل أصلا، ويقول كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع. اهـ ظهيرية. (تبيين الحقائق 6/6 کتاب الاضحیہ).


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 23/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

کم قیمت میں جانور خرید کر زیادہ رقم میں حصے لگانا اور خود شریک ہونا

 ⚖️سوال وجواب⚖️


🖋️مسئلہ نمبر 1562🖋️


(کتاب الاضحیہ باب الشرکۃ)


کم قیمت میں جانور خرید کر زیادہ رقم میں حصے لگانا اور خود شریک ہونا


سوال: ایک مسئلہ کا حل دریافت کرنا ہے کہ زید نے ایک جانور 30000 روپے کا خریدا اب وہ اسمیں قربانی کے حصے تشکیل دے رہا ہے، اب زید نے اسکی قیمت طے کی 35000 روپے؛ جبکہ زید کا حصہ بھی اسی جانور میں ہے تو کیا زید کے لئے یہ نفع لینا درست ہے برائے مہربانی مدلل جواب تحریر فرمائیں۔ (انوار الحق، بنگال)


بسم اللہ الرحمن الرحیم


الجواب و باللہ التوفیق


قربانی کرنے کی مذکورہ بالا صورت کا صریح حکم تلاش بسیار کے باوجود کسی فقہی کتاب میں نہیں مل سکا؛ تاہم اصول کے پیش نظر اس کا حکم یہ معلوم ہوتاہے کہ قربانی کا جانور خریداری کے بعد ایک حد تک قربت کے لیے متعین ہوجاتا ہے؛ اس لیے قیمت خرید سے زیادہ اس کی قیمت لینا قربانی کے جانور سے استفادہ کرنے کے حکم میں ہوگا جو درست نہیں ہے؛ لیکن اگر نادانی میں ایسا کرلیا ہے تو اس کی زائد قیمت کو صدقہ کردے، جہاں تک خود اس کی قربانی کی بات ہے تو اس میں اس شخص کا حصہ اس کی خدمات کے عوض مانا جائے گا؛ کیونکہ اس جانور کو خریدنے، پالنے، دانا پانی کے انتظامات کرنے میں مختلف طرح کے اخراجات آتے ہیں اور خدمات انجام دینے میں بسااوقات مشقت بھی ہوتی ہے؛ اس لیے اسے عوض قرار دینا درست ہے، واضح رہے کہ بعینہ اسی طرح کے سوال کے جواب میں مفتی رضاء الحق صاحب مفتی اعظم جنوبی افریقہ نے لکھا ہے کہ:


"مسئلہ مذکورہ بالا سے متعلق کوئی صریح جزئیہ نظر سے نہیں گزرا تاہم ایک فقہی نظیر سے اس کا حکم مستفاد ہوتا ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے، اور اگر کسی نے کرلیا تو زائد رقم صدقہ کردے"(١)


مفتی صاحب نے اس میں جو فقہی نظائر پیش کی ہیں وہ وہی ہیں جو خریدے ہوئے جانور کو زیادہ رقم میں بیچنے سے متعلق ہیں، یہی بات حضرت حکیم بن حزام کی روایت سے بھی مستفاد ہوتی ہے کہ جب انہوں نے ایک دینار سے قربانی کی بکری خرید کر دو دینار میں بیچ دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دینار صدقہ کردیا تھا، نیز اس روایت کی شرح میں صاحب عون المعبود نے علامہ شوکانی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ چونکہ پہلی بکری جو خریدی تھی وہ قربت کے لیے ہوگیی تھی اس لیے اس کے نفع کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا اور صدقہ کردیا، نیز فقہاء کرام نے جن مسائل میں قربانی کے جانور سے انتفاع کو مکروہ قرار دیا وہ جزئیات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب


📚والدلیل علی ما قلنا📚


(١) عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً، فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ، وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ، فَرَجَعَ فَاشْتَرَى لَهُ أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ، وَجَاءَ بِدِينَارٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ.

حكم الحديث: ضعيف. (سنن أبي داود رقم الحديث ٣٣٨٦ كِتَابٌ : الْبُيُوعُ، وِالْإِجَارَاتُ  | بَابٌ : فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ)


ويحتمل أن يتصدق به لأنه قد خرج عنه للقربة لله تعالى في الأضحية فكره أكل ثمنها. قاله في النيل. (عون المعبود شرح سنن أبي داود رقم الحديث ٣٣٨٦ سنن أبي داود | كِتَابٌ : الْبُيُوعُ، وِالْإِجَارَاتُ  | بَابٌ : فِي الْمُضَارِبِ يُخَالِفُ)


(وكره) (جز صوفها قبل الذبح) لينتفع به، فإن جزه تصدق به، ولا يركبها ولا يحمل عليها شيئا ولا يؤجرها فإن فعل تصدق بالأجرة حاوي الفتاوى لأنه التزم إقامة القربة بجميع أجزائها (بخلاف ما بعده) لحصول المقصود مجتبى. (الدر المختار مع رد المحتار 329/6 كتاب الأضحية دار الكتب العلميه)


(ولو شرى بدنة للأضحية ثم أشرك فيها ستة جاز استحسانا) وفي القياس لا يجوز وهو قول زفر ورواية عن الإمام لأنه أعدها للقربة فلا يجوز بيعها. (مجمع الانهر 518/2 كتاب الاضحيه دار الكتب العلميه)


كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 26/11/1442

رابطہ 9029189288


دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

Translate