جمعہ، 2 ستمبر، 2022

کرپٹو کرنسی (crypto currency)، تعارف اور حقیقت قسط دوم

از قلم: محمد زبیر الندوی 

مركز البحث والإفتاء ممبئی انڈیا

رابطہ 9029189288

 اس کرنسی کی متعدد قسمیں اور اکائیاں آن لائن مارکیٹ میں آچکی ہیں، مگر اس کی سب سے قیمتی اور مشہور ترین کرنسی بٹ کوائن (Bit Coin) اور ون کوائن (Onecoin)  ہیں، ان کی قیمت اس قدر زیادہ ہے کہ دنیا کی موجودہ کوئی کرنسی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی، آپ کو شاید حیرت ہو کہ ایک بٹ کوائن کی قیمت آٹھ لاکھ روپئے سے متجاوز جبکہ ایک ون کوائن کی قیمت تیرہ سو روپے زائد ہے۔

مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کرنسی پر کسی ایک شخص یا ملک یا بینک کا قبضہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایک شخص یا بینک یا کمپنی اس کو کنٹرول کرتی ہے، بلکہ یہ لوگوں کے تعامل سے جاری اور قائم ہے، اسے کوئی بھی شخص یا ادارہ بنا سکتا ہے، کرپٹو کرنسی کی اصطلاح میں اس کے بنانے کو مائننگ (Mining) کہا جاتا ہے، جس کا لفظی ترجمہ ہے "کان کھودنا" یعنی جس طرح زمین سے کانیں کھود کر اس کی تہ سے بیش قیمت چیزیں نکالی جاتی ہیں اسی طرح نہایت طاقتور اور خاص قسم کے پروگرامنگ والے کمپیوٹر اور مسلسل بجلی کے ذریعے مخصوص الفاظ اور نمبرات سے اس کی بناوٹ عمل میں آتی ہے، شروع شروع میں اس کی مائننگ بہت آسان تھی، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا اور قیمت بڑھتی جاتی ہے اس کی مائننگ مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے، اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسی ایک محدود تعداد  (دو کروڑ دس لاکھ) ہی بنائے جا سکتے ہیں اور اتنے کوائن بنانے کے لئے 2150 ء تک کا وقت لگے گا، اس سے پہلے یہ سکے مکمل نہیں کئے جاسکتے، اس کی مائننگ کرنے والوں کو بطور انعام بٹس ہی دیئے جاتے ہیں جسے وہ گاہکوں سے بیچ کر نفع کماتے اور سسٹم کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ 

اس سلسلے میں ایک نہایت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کرنسی کی جتنی خرید و فروخت ہوتی ہے یا جو بھی معاملات اور ٹرانزکشن ہوتے ہیں وہ ہر دس منٹ میں ایک مخصوص جگہ محفوظ ہوجاتے ہیں اس پورے ٹرانزکشن کے مجموعے کو بلاکس  (Blocks) کہا جاتا ہے، اس کرنسی کو گرچہ ابھی عام قبولیت حاصل نہیں ہوئی ہے تاہم متعدد ملکوں نے اپنے باشندوں کے لئے اسے لیگل قرار دے دیا ہے اور وہاں کے لوگ اس سے اپنے کام انجام دے رہے ہیں جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک میں اس کے اے ٹی ایم ATM بھی لگائے جاچکے ہیں بلکہ راقم الحروف کی دانست میں ایسے بھی لوگ ہیں جن کے یہاں اسے ابھی قبول نہیں کیا گیا ہے مگر وہ اسے خریدنے کی وجہ سے بہت سے کام اسی سے کر رہے ہیں۔ اس کرنسی کے متعدد فائدے بتائے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہی اس کی مہنگائی کے اسباب ہیں، یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق چند دہائیوں میں یہی کرنسی عالمی کرنسی ہوگی۔ اس کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں:

 1 اس کرنسی کے ذریعے آدمی ان بڑی بڑی کمپنیوں سے سامان خرید سکتا ہے جو بٹ کوائن یا ون کوائن میں حصہ دار ہیں۔

2 اس کرنسی کے ذریعے پوری دنیا میں کسی بھی شخص کو اپنے اکاؤنٹ سے بغیر کسی کمپنی یا بینک کو واسطہ بنائے رقم منتقل کی جا سکتی ہے۔ 

3 رسد کی کمی اور طلب کی زیادتی یعنی کوائن کی کمی اور خریداروں کی کثرت کی وجہ سے اس کی قیمت بڑھتی رہتی ہے اور اس طرح آپ کی کرنسی مہنگی ہوتی جاتی ہے۔

4 اگر آپ خود بٹ کوائن یا ون کوائن سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے ہیں تو بڑھی ہوئی رقم کے مطابق بیچ سکتے ہیں اور اس طرح آپ کو فائدہ بھی حاصل ہوسکتا ہے۔ 

5 آپ جب چاہیں اپنی کرنسی کو ملکی کرنسی میں تبدیل کرا سکتے ہیں۔

6 اس کرنسی کو نہ کوئی چرا سکتا ہے نہ ہی غائب کر سکتا ہے، نیز اس سے ٹرانزکشن اس قدر آسان ہے کہ گھر بیٹھے انٹر نیٹ سے ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔

7 چونکہ اس کا تعلق کسی بینک یا ادارہ سے نہیں ہے اس لئے دوسرے کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کے لئے بہت ہی کم رقم لگتی ہے۔ 

8 چونکہ یہ کرنسی decentralised ہے اس لئے اس کرنسی کو کوئی ملک نہ بند کر سکتا ہے اور نہ ہی ہائک کر سکتا ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنے ملک میں جاری نہ کرے جیسا کہ ہندوستان وغیرہ میں ہے۔

اس موقع پر یہ واضح کر دینا بھی نہایت ضروری ہے کہ جہاں کرپٹو کرنسی کے اس قدر فائدے ہیں وہیں کچھ نقصانات بھی ہیں اور پھر دنیا کی کونسی ایسی چیز ہے جس کے دونوں پہلو نہ ہوں؟ چنانچہ اس کرنسی لینے کا ایک نقصان یہ ہےکہ چونکہ اسے اپنے ہاتھ یا جیب میں رکھا نہیں جاسکتا ہے اور صرف انٹرنیٹ ہی کی ذریعے اس کا استعمال ممکن ہے؛ اس لئے آپ عام لوگوں سے کوئی خرید و فروخت کا معاملہ نہیں کر سکتے ہیں اور نہ ہی بوقت ضرورت ہر کس و ناکس سے لین دین کا معاملہ کر سکتے ہیں۔

دوسرا نقصان یہ ہے کہ چونکہ یہ ڈیجیٹل چیز ہے اگر بالاتفاق بیک وقت تمام ڈیجیٹل سسٹم فیل ہو جائے یا کسی ظالم طاقتور کا غاصبانہ قبضہ ہو جائے تو آپ کی لگائی رقم بالکل ختم ہو سکتی ہے

جاری

Share

کرپٹو کرنسی (crypto currency)، تعارف اور حقیقت قسط اول

 👁کرپٹو کرنسی، تعارف اور حقیقت👁 

(بٹ کوائن (Bit Coin) اور ون کوائن (Onecoin) پر ایک نظر)

از قلم: محمد زبیر الندوی 

مركز البحث والإفتاء ممبئی انڈیا

رابطہ 9029189288

جس طرح انسانی زندگی میں مختلف تبدیلیاں اور نیرنگیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں؛ اسی طرح کائنات کا نظام اور چیزیں بھی ان تبدیلیوں سے دو چار اور متاثر ہوتی رہتی ہیں، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ دنیا کی کسی شی کو دوام نہیں، مثل مشہور ہے "ہر کمالے را زوالے" ہر کمال کو زوال سے ضرور دوچار ہونا پڑتا ہے۔

آجکل ہمارے ہاتھوں میں جو کرنسی کی شکل میں پیسے یا روپئے موجود ہیں؛ ان کی کہانی بھی بڑی عجیب اور ان پر آنے والی تبدیلیاں بڑی حیرت انگیز ہیں، نوع انسانی کے ابتدائی دور اور بعد کے ادوار میں ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جب سونا چاندی اور روپئے پیسے کا بطور تبادلہ کوئی خیال تک نہ تھا، اس دور میں اشیاء کا تبادلہ اشیاء سے ہوتا تھا، چاول دیکر گیہوں لے لینا اور آٹا دے کر دودھ لے لینا ہی چیزوں کی خرید و فروخت کی مانی جانی شکل تھی، پھر ایک دور آیا کہ یہی تبادلہ سونے چاندی جیسی بیش قیمت دھاتوں سے ہونے لگا، انہیں کے ذریعے چیزیں خریدی اور فروخت کی جانے لگیں؛ لیکن بہت مدت نہیں گزری کہ خرید و فروخت کی دراز دستی نے سونے چاندی کے خول سے نکل کر ان سے بنے سکوں اور مختلف دھاتوں سے بنے پیسوں کی شکل اختیار کر لی۔

پھر ان کے بعد ایک ایسا بھی دور آیا جب لوگ سونے چاندی اور ان کے سکوں کو صرافوں کے پاس رکھ دیتے اور ان سے اس کی رسیدیں حاصل کرلیتے اور بوقت ضرورت رسید دکھا کر وہ سکے واپس لے لئے جاتے اور اگر کسی کو دینے کی ضرورت پیش آتی تو بعض فرزانے ایسا بھی کرتے کہ وہی رسید کسی اور کو دے دیتے اور وہ رسید دکھا کر صراف سے سونا لے لیتا، اور کبھی کبھی انہیں رسیدوں سے لوگ اشیاء کی خرید و فروخت کا معاملہ بھی کر لیتے، آہستہ آہستہ یہ سلسلہ عام اور دراز سے دراز تر ہوتا گیا، یہی وہ دور ہے جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ نوٹوں کے آغاز کا ابتدائی زمانہ تھا اور جس کی اعلی ترین شکل اب ہمارے زمانے میں اس قدر عام ہے کہ اس کے خلاف سوچنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔

 کرنسی نوٹ کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جوں جوں اس میں ترقی ہوتی گئی یہ اپنی اصلیت یعنی "ثمن حقیقی" سے دور سے دور تر ہوتی چلی گئی، کسی زمانے میں ان کرنسیوں کے پیچھے سو فیصد سونا ہوا کرتا تھا، پھر ایک زمانہ آیا کہ انہیں ڈالر سے جوڑ دیا گیا اور ڈالر کے پیچھے سونا تسلیم کر لیا گیا تھا، گویا بالواسطہ ان کے پیچھے سونا موجود تھا، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کرنسیوں نے ڈالر سے بھی اپنا دامن چھڑا لیا اور اب ہم جس کرنسی کے دیوانے ہیں اور جس کی دستیابی کے لئے مر مٹ رہے ہیں اس کا سونے چاندی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور سوائے اس کی کہ اسے قانونی طور پر خرید و فروخت کا ایک ذریعہ تسلیم کر لیا گیا ہے اس کی حیثیت ایک کاغذ سے زیادہ نہیں۔

مگر جیسا کہ اوپر ذکر ہوا "ہر کمالے را زوالے" کچھ انسانوں کو شاید یہ سکے اور کاغذی نوٹ بھی بوجھ معلوم ہو رہے تھے یا یوں کہہ لیجیے کہ کرنسی نے ایک نئی انقلابی کروٹ لی اور اب ایک ایسی کرنسی وجود میں آچکی ہے؛ جسے جیب میں رکھنے اور چور اچکوں سے محفوظ رکھنے کی فکر دامن گیر نہ ہو گی، اس کرنسی سے انسان اپنی تمام تر ضروریات کی تکمیل بھی کر سکے گا اور پیسوں، سکوں کے بوجھت سے  بھی آزاد ہوگا، ذیل میں اسی کرنسی سے متعلق چند اہم معلومات فراہم کی جاتی ہیں امید کہ اس تحریر سے اس نومولود کرنسی کو سمجھنا آسان ہوگا۔

اس وقت تمام دنیا میں آن لائن کارو بار کا جو طوفان برپا ہوا ہے اور معیشت و تجارت میں جو زبردست ہلچل اور گہما گہمی پیدا ہوئی ہے  شاید ماضی کے کسی زمانے میں پیدا نہیں ہوئی ہوگی، اسی ہلچل و طوفان نے ایک نئی کرنسی "کرپٹو کرنسی" (Crypto Currency) کے نام سے دنیا میں چند سال قبل متعارف کرایا ہے، اس کرنسی کا تصور پیش کرنے والے یا موجد کا نام "ستوشی ناکا موتو" (Satoshinakamoto)  بتایا جاتاہے، یہ کوئی شخص ہے یا ادارہ اس کی تفصیل کسی کو معلوم نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ کرۂ ارض پر کئی ایسی شخصیات موجود ہیں جو ستوشی ہونے کی دعویدار ہیں، بہر کیف دعوی کرنے والے ہوں یا کوئی بھی شخص جو بھی ہو اس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ عصر حاضر کا ذہین ترین انسان ہے۔

کرپٹو کرنسی کی حقیقت بس یہ ہے کہ یہ ایک ڈیجیٹل اور نظر نہ آنے والی ایسی کرنسی ہے جسے نہ ہاتھوں میں لیا جاسکتا ہے نہ جیب میں رکھا جا سکتا ہے، گویا باہری دنیا میں اس کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے، کمپیوٹر کی دنیا تک ہی یہ کرنسی محدود ہے، جو اکاؤنٹ ہولڈر کے اکاؤنٹ میں عددوں اور الفاظ کی شکل میں موجود رہتی ہے، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انسان اس سے اپنے وہ تمام کام پورے کر سکتا ہے جو ہاتھوں میں پکڑے جانے والی اور جیبوں میں رکھی جانے والی کرنسی سے کرنا ممکن ہے، بآسانی بس یوں سمجھئے کہ جیسے ڈیبٹ کارڈ میں حقیقتا کچھ ہوتا نہیں ہے مگر اس کے ذریعے کارڈ ہولڈر اپنی ضروریات خرید کر اکاؤنٹ میں موجود بیلنس یا بینک سے ادھار لے کر قیمت ادا کر سکتا ہے ایسے ہی اس کرنسی سے بھی سارے معاملات اخاونٹ اور خارڈ سے انجام دییے جاسکتے ہیں۔

جاری

Share

کرپٹو کرنسی (Crypto currency) کی خریداری کا حکم

 ⚖️سوال وجواب⚖️

🖋️مسئلہ نمبر 1310🖋️

(کتاب البیوع جدید مسائل)

 کرپٹو کرنسی (Crypto currency) 
کی خریداری کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام ذیل کے مسئلے کے متعلق کپ کرپٹو کرنسی جیسے بٹکوائن اور دوسرے کرنسی جو آنلائن ہے ان پر ٹریڈینگ کی جا سکتی ہے یا نہیں؟؟

یہ آن لائن کرنسی ہوتی ہے جسیے ہر ملک کی کرنسی ہوتی ہے ویسے ہی کرپٹو بھی کوئی لے سکتا ہے، اسکو بینک میں حقیقی پیسوں میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اس سے عموما کوئی بھی چیز آنلائن خریدی جا سکتی ہے

اسکی ٹریڈینگ سٹاک ٹریڈینگ جیسی ہوتی ہے جہاں پر ایک حصہ کرپٹو کا خردیا جا سکتا ہے، جب اس کرنسی کا ویلوو بڑھ جائے تو اسکو بیچ بھی سکتے ہیں اور اپنے پاس بھی رکھ سکتے ہیں، جس طرح سونے کی یا ڈالر پاؤنڈ کہ ٹریڈینگ ہوتی ہے ویسے ہی آن لائن میں کرپٹو کرنسی ہوتی ہے، حکومت بھی اسکی تائد کرتی ہے....

اسکے متعلق تفصیل مطلوب ہے آیا یہ جائز ہے یا نا جائز.....

جواب مرحمت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں...

فقط والسلام

(محمد توصیف حیدرآباد)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

کرپٹو کرنسی، بٹ کوائن اور ون کوائن کی حقیقت، ان کی صورت گری اور نفع ونقصان کے موضوع پر احقر راقم الحروف نے آج سے تقریبا تین سال قبل ایک تحریر تفصیلی انداز میں لکھی تھی، جو بہت مفید اور اس کی حقیقت و تعارف کے لئے قابل مطالعہ ہے، احقر نے ذاتی طور پر اس کی حقیقت کو خوب سمجھنے اور قریب سے دیکھنے کی کوشش کی ہے، چنانچہ اپنی تحقیق اور سوال بالا کے پس منظر میں اس کرنسی کا حکم یہ ہوگا کہ جن ممالک نے اس کرنسی کو قبول کرلیا ہے اور اپنے باشندگان کو اس کے لین دین کی اجازت دے دی ہے، ان کے لیے یہ ثمن عرفی یا ثمن اعتباری کے درجے میں ہوگا، اور اس کی خریداری اور لین دین سب درست ہوگا، البتہ وہ ممالک جنہوں نے اس کو بطور کرنسی قبول نہیں کیا ہے اور خواہ اپنے باشندگان کو صراحتاً اس کی خریداری سے منع کردیا ہے یا منع نہ کیا ہے ان کے لئے یہ ثمن عرفی یا ثمن اعتباری نہیں ہوگا، اور ان کے لئے اس کی خریداری درست نہیں ہوگی انڈیا نے چونکہ اس کو کرنسی نہیں مانا ہے اور اپنے ملک کے لئے قبول نہیں کیا ہے اس لیے اس کی خریداری درست نہیں ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚والدليل على ما قلنا 📚

(١) فالشرط الأول في الثمن أن يكون مالا متقوما شرعا، و كل ما ذكرنا في مالية المبيع و تقومه يجري في مالية الثمن أيضا. (فقه البيوع ٤٢٣/١ الباب الثاني في أحكام الثمن)

المراد بالمال ما يميل إليه الطبع و يمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم والتقوم يثبت بها و بإباحة الانتفاع به شرعا. (رد المحتار على الدر المختار ١٠/٧ كتاب البيوع مطلب في تعريف المال)

كتبه العبد محمد زبير الندوي

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 11/3/1442

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

جمعرات، 1 ستمبر، 2022

مکالمے میں ہندو پنڈتوں کی مشابہت اختیار کرنے کا حکم

🌴سوال و جواب🌴

(مسئلہ نمبر 395)

 مکالمے میں ہندو پنڈتوں کی مشابہت اختیار کرنے کا حکم 

سوال: ہمارے مدرسے میں چند دن پہلے اختتامی پروگرام  میں  (مباحثہ) ہوا,جو  ہندو ازم اور اسلام کے درمیان تھا.

ہندو ازم کے ترجمان نے جوکہ ہمارا ہی ساتھی تھا اس نے پنڈت والی شکل و صورت بنا لی تھی (دھوتی , گلے میں مالا(ہار) ,اور ہاتھ میں لال دھاگا وغیرہ کا استعمال کیا تھا)

تو کیا ایسے کسی پروگرام کیلئے ایسی شکل و صورت بنانا جایز ہے؟

برائے مہربانی مدلل جواب عنایت فرمائیں 

المستفتی .احقر محمد یاسر  ممبئی


 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

 الجواب وباللہ الوہاب 

شریعت اسلامی میں غیر مسلموں اور فاسق و فاجر لوگوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے اور ایسا کرنے والوں کو انہیں میں سے شمار کیا گیا ہے، اس لئے ایسی تمام چیزوں سے بچنا واجب و ضروری ہے جو کسی خاص قوم کا شعار ہو،(١) 

لیکن مشابہت کے کئی درجے ہیں جن کا شریعت میں الگ الگ حکم ہے، چنانچہ علماء لکھتے ہیں:

"تشبہ بالکفار اعتقادات و عبادات میں کفر ہے اور مذہبی رسومات میں حرام ہے۔

 معاشرت اور عبادات اور قومی شعار میں تشبہ مکروہ تحریمی ہے"(٢)

مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ:

"من تشبه بقوم فهو منهم سے مراد یہ ہے کہ کسی قوم کی ایسی چیز میں مشابہت اختیار کی جائے جو اس قوم کے ساتھ مخصوص ہو یا اس کا خاص شعار ہو تو ایسی مشابہت ناجائز ہے"(٣)

اسی طرح مفتی محمود صاحب فتاویٰ محمودیہ میں لکھتے ہیں:

"بلا ضرورت شدیدہ کفار کا مخصوص لباس استعمال کرنا ممنوع اور ناجائز ہے"(٤)

اس تفصیل کی روشنی میں دیکھا جائے تو آپ نے جن چیزوں کا ذکر کیا ہے اگر صرف یہی چیزیں تھیں تو چونکہ یہ چیزیں پنڈتوں اور کفار کے ساتھ خاص نہیں ہیں بلکہ دیگر لوگ بھی استعمال کرتے ہیں اس لیے اس میں گنجائش ہے، لیکن علماء و طلباء کے لئے اس قسم کی باتیں زیب نہیں دیتی ہیں اس لیے آئندہ سے احتیاط کی جائے۔

البتہ اگر اس سے بڑھ کر قشقہ وغیرہ کا استعمال کیا گیا ہے یا ایسی چیزیں استعمال کی گئی ہیں جو ہندو پنڈتوں کی خصوصیات ہیں اور انہیں دیکھ کر کوئی مسلم تصور نہ کرے تو یقیناً ناجائز ہوگا اور توبہ و استغفار لازم ہوگا۔

واضح رہے کہ مکالمہ کا مقصد لوگوں کے سامنے صحیح اور غلط باتوں میں فرق ظاہر کرنا ہوتا ہے اور اس کے لئے اس قسم کے تکلفات کی قطعاً ضرورت نہیں، خاص کر اگر وہ حرام اور ناجائز کے دائرے میں آرہی ہوں، اس لئے اس قسم کی باتوں کو چھوڑنا ضروری ہے اور ان سے سے بچنا واجب ھے۔ کیوں عام اور سادے لباس سے بھی یہ ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


 📚📚والدليل على ما قلنا📚📚 

(١) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا، لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ، وَلَا بِالنَّصَارَى ؛ فَإِنَّ تَسْلِيمَ الْيَهُودِ الْإِشَارَةُ بِالْأَصَابِعِ، وَتَسْلِيمَ النَّصَارَى الْإِشَارَةُ بِالْأَكُفِّ. (سنن الترمذي حديث نمبر ٢٦٩٥)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ". (سنن ابي داود حديث نمبر ٤٠٣١)

 من تشبه بقوم أي تزيا في ظاهره بزيهم و في تعرفه بفعلهم..... و هديهم في ملبسهم و بعض أفعالهم. (فيض القدير ١٠٤/٦)

يكره بوضع قلنسوة المجوس على رأسه على الصحيح إلا لضرورة دفع الحر و البرد (الفتاوى الهنديه ٢٨٧/٢ الباب التاسع فصل في احكام المرتدين زكريا جديد)

من تشبه بقوم أي تزيا في ظاهره بزيهم و في تعرفه بفعلهم..... و هديهم في ملبسهم و بعض أفعالهم. (فيض القدير ١٠٤/٦)

(٢) فقہ حنفی کے اصول و ضوابط ص ١٥١، فتاویٰ دار العلوم زکریا ١٢٢/٧

(٣) کفایت المفتی ١٦٩/٩ دار الاشاعت، فتاویٰ دار العلوم زکریا ١٢٢/٧ کتاب الحظر و الاباحہ

(٤) فتاویٰ محمودیہ ٥٥٩/١٩ باب الموالات مع الکفار

🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴

 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

مركز البحث و الإفتاء مدرسه أشرف العلوم نالا سوپارہ ممبئی انڈیا

مورخہ 19/7/1439

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

نیا سال منانے اور اس کی مبارکباد دینے کا شرعی حکم

🎍سوال و جواب🎍

(مسئلہ نمبر 295)

 نیا سال منانے اور اس کی مبارکباد دینے کا شرعی حکم 

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام و علمائے  عظام درج ذیل مسئلہ میں؛ بحوالہ جواب مرحمت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں :

کہ نیا سال منانے اور اس کی مبارکباد دینا کیسا ہے؟ (انظر حسین کرہی بستی یوپی)


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

الجواب و باللہ الصواب 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی نہایت سادہ اور رسم و رواج سے بالکلیہ دور تھی، اس قسم کے بے سود، لایعنی اور خرافاتی طور طریقے نبوی معاشرے میں ہرگز جگہ نہیں پا سکتے تھے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور اسلام کے پھیلاؤ میں ہجرت نبوی کو کس قدر اہمیت حاصل ہے بلکہ اس کی اہمیت کے پیش اسلامی کیلینڈر کی بنیاد سال بنایا گیا؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور صحابہ کرام کے دور اور بعد کے ادوار میں ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ جس میں نئے سال کا جشن منایا گیا ہو یا اس کی مبارکبادی دی گئی ہو؛ بلکہ اس جانب کسی صحابی یا محدث و فقیہ کا شاید ذہن تک نہیں گیا چنانچہ سلف صالحین کی کتب میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا؛ اس لئے یہ بات تو یقینی ہے کہ نئے سال کا جشن منانا؛ اس کی مبارکبادی دینا شرعاً کوئی دینی عمل نہیں ہے اور نہ ہی اسلامی تہذیب و ثقافت سے اس کا کوئی تعلق ہے؛ بلکہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ اسلام دشمن اور اسلامی تہذیب و معاشرت سے بیزار لوگوں کا بنایا اور دیا ہوا طریقہ ہے جس کا سوائے بے شمار دینی و دنیوی نقصان اور مختلف گھناؤنی حرکات کے کچھ حاصل نہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ لایعنی کاموں کو چھوڑ دے اور دیکھا جائے تو یہ ناکہ صرف لایعنی ہے بلکہ بیشمار گناہوں کا باعث بھی ہے خاص طور پر انگریزی تاریخ کا نیا سال منانے کی شروعات اور طریقہ تو سراسر غیر اسلامی تہذیب و تمدن کا حصہ ہے اس لئے اس کے خلاف دین ہونے میں کوئی شک ہی نہیں ہے۔

اور تاریخی مشاہدہ ہے کہ اس قسم کی رسمیں آہستہ آہستہ ایک اہم مقام اور بدعت کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، اس لئے نیا سال منانے، (خواہ ہجری سال ہو یا عیسوی) اس کی مبارکبادی دینے، اور happy New year وغیرہ کہنے سے اجتناب لازم و ضروری ہے، چونکہ قرآن مجید کا حکم ہے کہ اچھے اور نیک کام میں ایک دوسرے کی مدد کروں اور برائی و ظلم کے کاموں میں کسی کی مدد نہ کرو اس لئے اس کام سے خود رکنا اور اپنے دوست احباب اور اہل و عیال کو روکنا ضروری ہے، بصورت دیگر گناہ کبیرہ میں گرفتار ہونے کا اندیشہ ہے۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب


 📚📚والدليل على ما قلنا📚📚 

(١) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ)). (سنن أبي داود حديث نمبر 4033)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكَهُ مَا لاَ يَعْنِيهِ)). (سنن الترمذي حديث نمبر ٢٤٨٨)

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدة 2)

تفصیل کے لئے دیکھئے: کتاب الفتاوی 481/1 مجلہ شاہراہِ علم0ص 313 ربیع الثانی 1429، اشاعت العلوم اکل کنواں۔ نیا سال مغرب اور اسلام کا نقطہ نظر ص 26.

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹


 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

مركز البحث و الإفتاء مدرسه أشرف العلوم نالا سوپارہ ممبئی انڈیا

مورخہ 9/4/1439

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

مسلم پرسنل لاء اور یونیفارم سول کوڈ - دو متضاد راستے

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

مسلم پرسنل لاء اور یونیفارم سول کوڈ - دو متضاد راستے

تحریر : محمد زبیر ندوی 

   پوری دنیا میں بسنے والے تمام مسلمان جس مذہب کو مانتے ہیں وہ مذہب اسلام ہے، موجودہ دنیا میں یہ واحد مذہب ہے جو خدا کا عطا کردہ اور اپنی اصلی شکل و صورت میں باقی ہے، دیگر مذاہب یاتو انسانی ذہن و دماغ کی کرشمہ سازیاں ہیں یا محرف اور مفقود الحقیقت ہیں، یہی وجہ ہے کہ مسلمان جس قدر اپنے دین کا سچا پرستار اور قدردان ہے دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جس کے پیروکار اس قدر اس کے وفادار اور قدردان ہوں،  اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کا ادراک ہر صاحب علم اور ذی شعور کو بالیقین حاصل ہے ۔

ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اسلام اپنی مکمل اور کامل صورت میں موجود ہے اور قیامت تک کے لیے یہی دین راہنما اور کشتیء حیات کا کھیون ہار ہے۔ اس کی شریعت و قانون پر عملدرآمد ہی زندگی کا مقصود ہے اسلام نے جو احکام اپنے ماننے والوں کو دیئے ہیں اس پورے مجموعے کا نام شریعت ہے اور شریعت کا ایک اہم جزء معاشرت اور عائلی زندگی ہے ۔ 

یہ نظام معاشرت اور عائلی زندگی اسلام کا وہ عطیہ اور خدا کا وہ منصفانہ نظام ہے جو قرآن و حدیث کی نصوص اور اجماع و مجتہدین کی علمی کاوشوں کا کشید اور ماحصل ہے یہ عائلی سسٹم ہر انسان کی زندگی کا جزو لا ینفک ہے جسے صحیح تعبیر میں اسلامک لاء اور خدائی قانون کہا جاسکتا ہے اور جو اسلامی شریعت کا نہایت اہم اور وسیع باب تھا جسے برٹش گورنمنٹ نے صرف وراثت، نکاح ، خلع ، طلاق، ایلاء، ظہار، نفقہ، مہر، حضانت اور اوقاف تک محدود کر کے سنہ 1937 میں "مسلم پرسنل لاء " سے تعبیر کیا ۔ 

قرآن و حدیث کی نصوص میں صاف صاف انسانوں سے اسی قانون خداوندی پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے اور وہ تمام قوانین جسے انسانی نابالغ اور غیر پختہ ذہن نے وضع کئے ہیں انہیں ہوا پرستی، ظلم و گمراہی اور خدا بیزاری سے تعبیر کیا گیا ہے، قرآن کریم نے اس پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے : " ثم جعلناك على شريعة من الأمر فاتبعها ولا تتبع أهواء الذين لا يعلمون" ( الجاثية 18 )  ترجمہ :  پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک صاف راستے پر رکھا ہے بس آپ اسی پر چلئے اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے مت ہو جائیے جو جانتے نہیں ۔ دوسرے مقام پر فرمایا گیا : " اتبعوا ما أنزل الیکم من ربكم و لا تتبعوا من دونه اولیاء "( الأعراف 3 ) ترجمہ : تمہارے رب کی طرف سے جو اترا ہے اسی پر چلو اور اس کے علاوہ اور دوستوں کی بات مت مانو ۔ 

حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : لا يؤمن أحدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به ترجمہ : تم میں سے کوئی بھی کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات( پوری زندگی ) میرے لائے ہوئے دین کے مطابق نہ ہو جائے۔ 

اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد یہ بھی ذہن میں رہنا ضروری ہے کہ تاریخ کا ہمیشہ سے یہ المیہ رہا ہے کہ حق کا سامنا ہمیشہ باطل سے ہوا ہے خیر کی روشنی گل کر نے کے لئے شر کی آندھیاں وقتا فوقتا چلتی رہی ہیں، حق و صداقت کے سیل رواں کو روکنے کے لیے ظلم و ستم کے پہاڑ ہمیشہ سد راہ بنتے رہے ہیں اقبال کی زبان میں یوں کہنا چاہیے : 

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز 

چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی 

لیکن وہ شمع کیونکر بجھ سکتی ہے جسے خود خدا نے روشن کی ہو، آندھیاں چلتی رہیں گی اور اسکی روشنی بڑھتی اور پھیلتی رہے گی خمار بارہ بنکوی نے کیا خوب کہا ہے :

نہ ہارا ہے عشق، نہ دنیا تھکی ہے 

دیا جل رہا ہے ، ہوا چل رہی ہے 

قارئین سے پوشیدہ نہیں کہ ہمارے ملک ہندوستان کی حکومت اور لاء کمیشن اسی خدائی نظام اور شرعی قانون کو ہٹا کر ایک نیا خود ساختہ ملحدانہ قانون تھوپنے کی ناپاک جسارت میں مبتلا ہے اور جسے وہ نہایت خوشنما لفظ uniform civil code  یعنی یکساں شہری قانون سے تعبیر کرتی ہے، یہ قانون اپنی افادیت اور نفاذ سے قطع نظر ہندی گنگا جمنی تہذیب میں اس کو زیر بحث لاکر نفاذ کی کوشش کرنا اور ایک بڑی کمیونٹی کو اپنی مخالفت پر آمادہ ہو نے کا موقع دینا کس قدر مضحکہ خیز اور خلاف عقل و دانش ہے اہل نظر سے پوشیدہ نہیں، ہمارا ملک کثرت میں وحدت کا ایک شاہکار ہے،  مختلف مذاہب و ادیان اس کی طاقت اور گلہائے رنگا رنگ ہی سے اس کی زینت ہے، گویا بقول ذوق :

گلہائے رنگا رنگ سے ہے زینت چمن 

اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف میں

   اس یکساں سول کوڈ کی بیج اگرچہ اسی    وقت ڈال دی گئی تھی جب قانون سازوں نے دفعہ 44 مرتب کرتے ہوئے یہ الفاظ تحریرکئے تھے 

The state shall endeavour to secure for citizens an uniform civil code throughout the territory of India 

"یعنی حکومت کوشش کر ے گی کہ پورے ملک میں شہریوں کے لیے یکساں شہری قانون ہو "

لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اس کے نفاذ کی کوششیں تیز ہوتی گئیں، اور مختلف مواقع اور تقریبات پر اسے عمل میں لانے کے ارادوں کا اظہار کیا جاتا رہا؛ چنانچہ سنہ 1972 میں مرکزی وزیر قانون مسٹر گوکھلے نے متبنی بل پیش کرتے ہوئے کہا تھا :

"یہ مسودہ قانون "یونیفارم سول کوڈ " کی طرف ایک مضبوط قدم ہے " (یکساں سول کوڈ ص 12 از منت اللہ رحمانی  )

سنہ 1973 ء میں چیرمین آف لاء کمیشن مسٹر گجندر گڈکر نے یہی بات بڑے جذباتی انداز میں کہا تھا :

"مسلمانوں کو یونیفارم سول کوڈ کو قبول کر لینے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کر لینا چاہیے، اگر انہوں نے خوش دلی کے ساتھ یہ تجویز منظور نہیں کی تو قوت کے ذریعہ یہ قانون نافذ کیا جائے گا " ( بحوالہ : مارچ 1973 میں بنگلور میں یونیفارم سول کوڈ کے موضوع پر تقریر )

اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حکومت جس یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے وہ آخر ہے کیا؟  اور وہ قانون کہاں سے آئے گا؟  کہا جاتا ہے کہ گھر کا آدمی گھر کی بات زیادہ بہتر جانتا ہے؛ اورچور کی داڑھی میں تنکا،اس حقیقت کو بھی مسٹر پاٹسکر نے بے نقاب کر دیا ہے، انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ : 

"ہندو قوانین میں جو اصلاحات کی جارہی ہیں وہ مستقبل قریب میں ہندوستان کی تمام آبادی پر نافذ کی جائیں گی؛  اگر ہم ایسا قانون بنانے میں کامیاب ہو گئے جو ہماری پچاسی فیصد آبادی کے لیے کافی ہو تو باقی آبادی پر نافذ کر نا مشکل نہ ہو گا،  اس قانون سے پورے ملک میں یکسانیت پیدا ہو گی" ( بحوالہ : یکساں سول کوڈ ص 11 از منت اللہ رحمانی )

مذکورہ بیانات اور اس وقت  کے حالات مسلمانوں کو یہ بات سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ حکومت اور لاء کمیشن دونوں مسلم پرسنل لا کو ختم کر کے ایک ایسا نظام زندگی نافذ کر نے کے تگ و دو میں ہیں جو سرا سر ناانصافی اور فرقہ پرستی پر مبنی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ ایسا قانون ہے جو شریعت محمدی سے متصادم اور مسلم پرسنل لاء سے یکسر مغایر و متضاد ہے؛  کیونکہ شریعت محمدی خدائی وفطری قانون پر مبنی ہے اور جس کی بنیاد وحی الہی اور رسالت محمدی ہے جبکہ یکساں سول کوڈ کی اساس عقل و خرد ہے یا زیادہ سے زیادہ کسی رشی منی کے ذہن میں آئے ہوئے خیالات ہیں۔

اور یہ بات بھی عالم آشکارا ہے کہ عقل انسانی کتنے ہی ترقیاتی منازل طے کر لے اپنے خالق سے آگے نہیں جاسکتی،  انسانی ذہن و دماغ کے بنائے ہوئے قوانین گرچہ ظاہرا مبنی بر مساوات ہوں لیکن باطنا وہ خبث و خود غرضی سے خالی نہیں ہوسکتے یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان سو فیصد تمام انسانی مزاج و مذاق کو اپنے قانون پر متحد اور قائم کردے، ایک عظیم اسلامی اسکالر و فلسفی ابن قيم کا بیان اس سلسلے میں کس قدر بامعنی اور درست ہے، علامہ ابن قیم لکھتےہیں :

"وكل من له مسكة عقل يعلم ان فساد العالم وخرابه إنما نشأ من تقديم الرأي على الوحي و الهوى علی العقل"( إعلام الموقعين 1/68 ) ترجمہ : "اور جسے  بھی کچھ عقل و فہم ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کی بربادی اور اس کا بگاڑ رائے کو وحی پر اور خواہشات کو عقل پر مقدم کرنے اور ترجیح دینے کے سبب پیدا ہوا "

مسلم پرسنل لاء اور یونیفارم سول کوڈ کے اس پس منظر میں مسلمان کسی بھی طرح دین اور اسلامی تعلیمات سے دستبردار نہیں ہو سکتے؛  بلکہ یکساں سول کوڈ کی مخالفت کرنا اور اس کے لئے جد و جہد ہمارا دینی فریضہ اور ایمانی تقاضہ ہے؛کیونکہ یہ قانون الحاد و بے دینی کا دروازہ اور مسلمانوں کے تشخص کو پائمال کرنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جو کسی بھی طرح ہمیں گوارا نہیں نہ طوعا نہ کرھا ،  اس موقع پر بطور اختتامیہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کا ایک جامع و موثر اقتباس نذر قارئین کرنا چاہتا ہوں امید کہ چشم دل وا ہو اور فکر و نظر کو مہمیز لگے،  مفکر اسلام تحریر فرماتے ہیں :

" میں یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمان اگر مسلم پرسنل لا( شرعی عائلی قانون )  میں تبدیلی قبول کرلیں گے تو آدھے مسلمان رہ جائیں گے اور اس کے بعد خطرہ ہے کہ آدھے مسلمان بھی نہ رہیں، فلسفہ اخلاق، فلسفہ نفسیات اور فلسفہ مذاہب کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ مذہب کو اپنے مخصوص نظام معاشرت و تہذیب سے الگ نہیں کیا جاسکتا، دونوں کا ایسا فطری تعلق اور رابطہ ہے کہ معاشرت مذہب کے بغیر صحیح نہیں رہ سکتی، اور مذہب معاشرت کے بغیر مؤثر اور محفوظ نہیں رہ سکتا، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسجد میں آپ مسلمان ہیں( اور مسجد میں کتنی دیر مسلمان رہتا ہے اپنے سارے شوق عبادت کے باوجود؟) اور گھر میں مسلمان نہیں ، اپنے معاملات میں مسلمان نہیں؛ اس لئے ہم اس کی بالکل اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے اوپر کوئی دوسرا نظام معاشرت نظام تمدن اور عائلی قانون مسلط کیا جائے، ہم اس کو دعوت ارتداد سمجھتے ہیں اور ہم اس کا اس طرح مقابلہ کریں گے جیسے دعوت ارتداد کا مقابلہ کیا جانا چاہیے، اور یہ ہمارا شہری، جمہوری اور آئینی حق ہے، اور ہندوستان کا دستور اور جمہوری ملک کا آئین اور مفاد نہ صرف اس کی اجازت دیتا ہے بلکہ ہمت افزائی کرتا ہے کہ جمہوریت کی بقا اپنے حقوق اور اظہار خیال کی آزادی اور ہر فرقہ اور اقلیت کے سکون و اطمینان میں مضمر ہے ۔ ( مسلم پرسنل لاء)

Share

بدھ، 31 اگست، 2022

شادی کارڈ میں گنیش جی کے متعلق بعض باتیں لکھنے والے مسلمان اور اس کی دعوت قبول کرنے کا حکم

🍸سوال و جواب🍸 

   (مسئلہ نمبر 270)

شادی کارڈ میں گنیش جی کے متعلق بعض باتیں لکھنے والے مسلمان اور اس کی دعوت قبول کرنے کا حکم

سوال: کیا حکم ہے اس شخص کا جس نے اپنی شادی کا دعوت نامہ اس طرح تیار کیا ہے ۔

"بھگوان گنیش کی جئے ہو۔گنیش کے نام سے تمام کام پورے ہوتے ہیں، اس لئے محبت کے ساتھ ہم دعوت بھیج رہے ہیں ۔آپ قبول فرمائیں" "گنیش کے نام سے شروع، ایشور کی عظیم مہربانی سے اور بزرگوں کی دعاؤں سے خاندان میں یہ خاص موقع آیا ہے" ۔

اس کے بعد دعوت کی تفصیل ہے ۔

کیا ایسے شخص کی دعوت میں شرکت جائز ہے اور کیا خود داعی دائرہ اسلام میں باقی رہے گا یا اسے از سر نو کلمہ پڑھنا ہو گا؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں ۔ (عامر جاوید فلاحی، کلکتہ)


--------------------------------------------------


بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب و باللہ الصواب 

سوالنامہ میں جو باتیں لکھی گئی ہیں وہ ہندوانہ عقیدے اور رسم و رواج سے تعلق رکھتی ہیں؛ ان باتوں کی اسلام میں ہرگز گنجائش نہیں ہے۔ مثلا گنیش کی جئے پکارنا اور گنیش کی فتح مندی کا خواہاں ہونا اور گنیش کے نام سے تمام کاموں کا پورا ہونا اسلامی عقائد و نظریات کے خلاف باتیں ہیں؛ اسی طرح اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر کام خدا کے نام سے شروع کیا جائے اور سوال میں منقول بات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام گنیش کے نام سے شروع کیا جارہا ہے؛ جو کہ قرآن و حدیث کی تعلیم کے خلاف ہے اور ہندوانہ طور طریقے پر دلالت کرتا ہے؛ اس لئے اگر کارڈ دینے والا شخص کوئی مناسب تاویل مثلا یہ کہ کارڈ اس کے غیر مسلم دوست نے چھپایا ہے یا یہ کہ اس کی چھپائی میں وہ شریک نہیں ہے بلکہ کسی اور کی یہ حرکت ہے، نہیں کرتا ہے تو وہ شخص دائرہ اسلام سے باہر ہے اور اس پر توبہ و استغفار اور تجدید نکاح ضروری ہے، ایسے شخص کی دعوت اس وقت تک قبول نہ کی جائے جب تک کہ وہ اپنی برائت کا اعلان نہ کردے۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔


📚📚والدلیل علی ما قلنا📚📚

(1) إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ (النمل 30)

》عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال :كل أمر ذي بال لا يبدأ فيه ببسم الله الرحمن الرحيم أقطع (السنن الأربعة)

》اذا أنكر الرجل آية من القرآن أو تسخر بآية من القرآن و في "الخزانة" أو عاب كفر كذا في التاتارخانية (الفتاوى الهندية 279/2 كتاب السير موجبات الكفر زكريا جديد)

》الهازل أو المستهزي إذا تكلم بكفر استخفافا و استهزاء و مزاحا يكون كفرا عند الكل و إن كان اعتقاده خلاف ذلك (الفتاوى الهندية 287/2 كتاب السير الباب التاسع)

》إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر ووجه واحد يمنع فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة في البزازية إلا إذا صرح بإرادة توجب الكفر فلا ينفعه التأويل كذا في البحر الرائق (الفتاوى الهندية 293/2 كتاب السير قبيل الباب العاشر الباب التاسع زكريا جديد)

💐💐💐💐💐💐💐💐💐


كتبه العبد محمد زبیر الندوي 

مركز البحث والإفتاء الجامعة الإسلامية اشرف العلوم نالا سوپاره ممبئی انڈیا 

مؤرخہ 13/3/1439

رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے 

Share

شادی کی سالگرہ منانے کا حکم شرعی

 ⚖سوال و جواب⚖ 

 ❤مسئلہ نمبر 977❤ 

(کتاب النکاح، باب المعاشرت)


 شادی کی سالگرہ منانے کا حکم شرعی 

 سوال: اگر کوئی شخص اپنی شادی کی سالگرہ کے موقعہ پر بغیر ضروری سمجھے ہوئے اور بغیر دین سمجھے ہوئے محض زوجین کے درمیان محبت میں اضافہ کی خاطر (جو کہ شریعت کی نگاہ میں مطلوب اور محمود ہے) اس دن بغیر کسی (صریح) غیر شرعی کام کے ارتکاب کے کچھ خوشی کا اظہار کرے، تبادلۂ تحائف کرے اور آئندہ سالوں میں اس کے اہتمام و التزام کا بھی کوئی ارادہ نہ ہو تو کیا یہ عمل مباح ہوگا یا نہیں؟ 

اور اگر بالفرض مباح نہ ہوا تو کیا اُس پر "من تشبہ بقوم فھو منھم" کی وعید کا انطباق درست ہوگا؟ جب کہ اس امر کا اغیار کے دین و عقیدے سے کوئی لینا دینا نہیں۔

 سردست "احتیاط" کے پہلو کے ساتھ "جائز" اور "ناجائز" پر واضح مدلل موقف پیش فرمائیں۔ (سید احمد انیس ندوی، فیروز آباد)


 بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم 

 الجواب وباللہ التوفیق

شادی کی سالگرہ منانے کے سلسلے میں آپ نے  جن شرائط اور بنیادی ضروری رعایتوں کا ذکر کیا ہے وہ اگر پائی جائیں تو شادی کی سالگرہ منانا شرعاً مباح ہوگا، اور اس میں کچھ حرج نہیں ہوگا؛ بلکہ زوجین میں محبت و الفت اور ایک دوسرے پر اعتماد کی بحالی کی نیت ہو تو یہ ایک مستحسن اور قابلِ ستائش عمل بھی ہوسکتا ہے، لیکن علماء کرام اور مفتیانِ عظام اس قسم کے مباحات سے چار وجوہات کی بناء پر منع کرتے ہیں اول یہ کہ عموماً ان چیزوں کی رعایت عوام نہیں کرپاتی اور افراط و تفریط کا شکار ہوجاتی ہے، علماء چونکہ ان باریکیوں کو سمجھتے ہیں اور ان سے ان کی رعایت کی امید بھی ہوتی ہے؛ اس لیے ان میں اور عوام میں فرق ہوجاتا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام اور تابعین عظام کی روشن زندگیوں اور تابندہ سیرتوں میں شادی کی سالگرہ پر اہتمام اور خاص طور پر اظہار مسرت کی کی کوئی واضح دلیل نہیں ملتی؛ حالانکہ یہ حضرات اپنی بیویوں سے محبت و الفت میں کسی سے کم نہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ازواج کو اپنی مرغوبات میں ذکر فرمایا ہے چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وغیرہ سے بے انتہا الفت و محبت فرماتے تھے لیکن اس کے باوجود کبھی سالگرہ پر خوشی کی کوئی روایت نظر سے نہیں گزری۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ اس بات کا زیادہ تر محرک غیروں کا عمل اور ان کی دیکھا دیکھی ہوتی ہے، جو کہ تشبہ کی ایک قسم ہے، تشبہ کا تعلق صرف عقائد سے نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات شعائر اور عام طریقۂ زندگی سے بھی ہوتا ہے؛ چنانچہ اس کی کئی مثالیں حدیث و سیرت میں مل سکتی ہیں، مثلاً داڑھی بڑھانے اور مونچھوں کو کتروانے میں مجوسیوں کے مخالفت، سر پر ٹوپی کے ساتھ عمامہ باندھنے میں مشرکین کی مخالفت وغیرہ احادیث مبارکہ میں مذکور ہیں، غور کیجیےُ تو معلوم ہوگا کہ ان باتوں کا تعلق عقائد سے نہیں ہے؛ بلکہ اعمال سے ہے، لیکن پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اعمال میں ان کی مشابہت سے منع فرمایا ہے، اس سلسلے میں من تشبہ بقوم کی جو تشریح ملا علی قاری نے کی اور علامہ ابنِ کثیر دمشقی نے اپنی تفسیر سورۃ توبہ آیت نمبر ٢٩ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کا جو خط نقل فرمایا ہے وہ نہایت چشم کشا اور قابلِ مطالعہ ہے، دلائل کے ذیل میں ان کی تحریریں ملاحظہ فرمائیں۔

چوتھی وجہ یہ ہے اسلام نے بدعات اور محدثات کو بڑی سخت نظر سے دیکھا ہے، بدعات کا معاملہ یہ ہے کہ وہ شروع تو اچھی نیت سے ہوتی ہیں مگر آہستہ آہستہ ان میں اس قدر لزوم ہوجاتا ہے اور کچھ نسلوں کے بعد وہ چیزیں اس قدر واجب و ضروری اور لوگوں کی نظر میں مستحسن ھوجاتی ھیں کہ بدعت کی شکل اختیار لیتی ہیں، ہندوستان میں طبقہ بریلویت میں شائع بدعات پر اگر گہری نظر ڈالیں اور تاریخی مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ یہ اعمال اصلا کسی دوسری نیت اور عمدہ طریقے پر شروع کیے گیے تھے؛ لیکن کشاں کشاں یہی مباحات بدعات میں تبدیل ہوگیے۔ اس لیے آپ کے ذکر کردہ مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ انفرادی طور پر خوشی منانے میں حرج نہیں؛ لیکن اس کی دعوت دینا اور دوسروں کو ترغیب دینا درست نہیں ہوگا جس کی وجوہات اوپر ذکر کردی گئی ہیں (١) فقط والسلام۔


 📚والدليل على ما قلنا📚 

(١) الأصل في الأشياء الاباحة (قواعد الفقه ص 59)

الأمور بمقاصدها (الاشباه والنظائر لابن نجيم المصري)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحَى، خَالِفُوا الْمَجُوسَ ". (صحيح مسلم رقم الحديث ٢٦٠ كِتَابٌ : الطَّهَارَةُ  | بَابٌ : خِصَالُ الْفِطْرَةِ )

قَالَ رُكَانَةُ : وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ ". 

(كِتَابٌ : اللِّبَاسُ  رقم الحديث ٣٠٧٨ بَابٌ : فِي الْعَمَائِمِ)

”وعنہ (أي: عن ابن عمر رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہما) قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ“ أي: مَنْ شَبَّہَ نَفْسَہ بِالْکُفَّارِ، مثلاً: فِي اللِّبَاسِ وَغَیْرِہ، أو بِالْفُسَّاقِ أوْ بِالْفُجَّارِ، أوْ بِأہْلِ التَّصَوُّفِ وَالصُّلَحَاءِ الأبْرَارِ․ ”فَہُو مِنْہُمْ“، أي: في الاثْمِ وَالْخَیْرِ“․ (مرقاة المفاتیح، کتاب اللباس، الفصل الثاني، رقم الحدیث: ۴۳۴۷، ۸/۱۵۵، رشیدیة)

وَلَا نَتَشَبَّهَ بِهِمْ فِي شَيْءٍ مِنْ مَلَابِسِهِمْ، فِي قَلَنْسُوَةٍ، وَلَا عِمَامَةٍ، وَلَا نَعْلَيْنِ، وَلَا فَرْقِ شَعْرٍ، وَلَا نَتَكَلَّمَ بِكَلَامِهِمْ، وَلَا نَكْتَنِيَ بكُنَاهم، وَلَا نَرْكَبَ السُّرُوجَ، وَلَا نَتَقَلَّدَ السُّيُوفَ، وَلَا نَتَّخِذَ شَيْئًا مِنَ السِّلَاحِ، وَلَا نَحْمِلَهُ مَعَنَا، وَلَا نَنْقُشَ خَوَاتِيمَنَا بِالْعَرَبِيَّةِ، وَلَا نَبِيعَ الْخُمُورَ، وَأَنْ نَجُزَّ مَقَادِيمَ رُءُوسِنَا، وَأَنْ نَلْزَمَ زِينا حَيْثُمَا كُنَّا، وَأَنْ نَشُدَّ الزَّنَانِيرَ عَلَى أَوْسَاطِنَا، وَأَلَّا نُظْهِرَ الصَّلِيبَ عَلَى كَنَائِسِنَا، وَأَلَّا نُظْهِرَ صُلُبَنَا وَلَا كُتُبَنَا(٢٦) فِي شَيْءٍ مِنْ طُرُقِ الْمُسْلِمِينَ وَلَا أَسْوَاقِهِمْ، وَلَا نَضْرِبَ نَوَاقِيسَنَا فِي كَنَائِسِنَا إِلَّا ضَرْبًا خَفِيًّا، وَأَلَّا نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا بِالْقِرَاءَةِ فِي كَنَائِسِنَا فِي شَيْءٍ مِنْ حَضْرَةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلَا نُخْرِجَ شَعَانِينَ وَلَا بَاعُوثًا، وَلَا نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا مَعَ مَوْتَانَا، وَلَا نُظْهِرَ النِّيرَانَ مَعَهُمْ فِي شَيْءٍ مِنْ طُرُقِ الْمُسْلِمِينَ وَلَا أَسْوَاقِهِمْ، وَلَا نُجَاوِرَهُمْ بِمَوْتَانَا، وَلَا نَتَّخِذَ مِنَ الرَّقِيقِ مَا جَرَى عَلَيْهِ سِهَامُ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنْ نُرْشِدَ الْمُسْلِمِينَ، وَلَا نَطَّلِعَ عَلَيْهِمْ فِي منازلهم. (تفسير ابن كثير سورة التوبة ٢٩)

وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ ؛ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ".

حكم الحديث: صحيح. (سنن أبي داود رقم الحديث 4607 أَوْلُ كِتَابِ السُّنَّةِ  | بَابٌ : فِي لُزُومِ السُّنَّةِ)


 كتبه العبد محمد زبير الندوي 

دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 13/3/1441

رابطہ 9029189288

 دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

Share

Translate